میرے اغوا کے ملزم گرفتار کریں

اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ علی خیل نے اپنے اغوا اور تشدد کے الزامات دہراتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
سلسلہ علی خیل نے 16 جولائی کو اسلام آباد سے اپنے اغوا اور تشدد کے حوالے سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں خود پر گزرنے والے حالات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہسپتال میں ڈاکٹر بھی ان سے پولیس کی طرح کے سوالات پوچھ رہے تھے۔ انگریزی اور پشتو زبانوں میں جاری کیے گئے اس بیان میں انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات جلد مکمل کرکے ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے۔ سلسلہ علی خیل نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: ’مجھے ڈاکٹروں سے یہ توقع تھی کہ وہ مجھ پر توجہ دیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی باتیں اہم ہوتی ہیں جو کہ ابتدا میں ہو جانی چاہیے تھیں۔ مثال کے طور پر مجھے یقین ہے کہ اغوا۔کرنے والوں نے مجھے بےہوش کر دیا تھا کیونکہ میرا سر گھوم رہا تھا اور مجھے ایک کی بجائے دو یا تین انسان دکھائی دے رہے تھے۔‘ بقول سلسلہ: ’انہیں دیکھنا چاہیے تھا کہ میں کس حالت میں ہوں۔ زخمی ہوں۔ یہ باتیں پولیس کی تحقیقات میں بھی مدد کر سکتی تھیں۔ میں نہیں سمجھتی کیوں لیکن ایک جامع معائنہ نہیں ہوا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ڈاکٹر بھی پولیس کی طرح سوال کر رہے تھے۔ جیسے کہ آرتھوپیڈک ڈاکٹر بجائے کہ میری ہڈیوں کا معائنہ کرتے، وہ مجھ سے یہ پوچھ رہے تھے کہ واقعہ کیا ہوا؟ میرا خیال تھا کہ وہ میری صحت کے بارے میں سوال کریں گے، پوچھیں گے کہ کہاں کہاں درد ہے؟ اس کی بجائے انہوں نے پوچھا کہ آغاز سے کہانی بتائیں کہ کیا ہوا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایک آرتھوپیڈک ڈاکٹر مجھ سے گھر سے نکلنے کے بارے میں کیوں پوچھ رہے تھے کہ آیا میں ٹیکسی میں گئی یا اپنی گاڑی میں گئی تھی۔‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے 16 جولائی کو افغانستان کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی سلسلہ علی خیل کو نامعلوم افراد نے کئی گھنٹوں تک اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘ اس کے دو دن بعد افغانستان نے پاکستان سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلا لیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید کو ہدایت دی تھی کہ وہ اغوا میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال کریں۔ اسلام آباد پولیس حکام کے مطابق سلسلہ بعد میں اسلام آباد میں ایک مقام سے ملیں جہاں ان کہ ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔
تاہم حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اغوا کا نہیں تھا۔ شیخ رشید نے ایک پریس کانفرنس میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس الزام کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔ دوسری جانب سلسلہ نے اپنے ویڈیو بیان میں مزید کہا کہ ’ہسپتال میں پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ انہوں نے اسی وقت تحقیقات شروع کر دیں اور بار بار سوال پوچھ رہے تھے۔ میں ان کو جواب دے رہی تھی باوجود اس کے کہ میں ذہنی اور جسمانی طور پر صدمے کی حالت میں تھی۔‘ افغان سفیر کی صاحبزادی نے مزید کہا کہ ’میری پاکستان حکام سے توقع ہے کہ اس معاملے کی صداقت کے ساتھ تحقیقات کریں اور ملوث افراد کو سزا دلوائیں اور بغیر کسی تاخیر کہ یہ کام کریں کیونکہ اسلام آباد کے اہم ترین علاقے میں یہ واقعہ دن دہاڑے کیسے ممکن ہوا؟‘
دوسری طرف اسلام آباد اور کابل کے مابین سلسلہ علی خیل کے مبینہ اغوا کے معاملے پر لفظی جنگ اب بھی جاری ہے۔ افغان حکام کی جانب سے پاکستان پر درست انداز سے تحقیقات نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے ہیں اور تحقیقات کے لیے آنے والی افغان ٹیم سے بھی تمام شواہد اور ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تعینات افغان سفیر کی صاحبزادی کے معاملے میں تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جو کچھ کہا گیا وہ ’حقیقت کے برعکس‘ ہے۔ وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ’افغان سفیر کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کے مبینہ اغوا کے معاملے میں افغان وفد کے ساتھ تمام تحقیقات بمع ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں لیکن وہ پھر بھی اس کو نہیں مانیں گے اور انہوں نے نہیں مانا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ اغوا ہے اور وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’سفیر کی صاحبزادی سلسلہ تک شناخت کے لیے رسائی کی بھی درخواست کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود افغانستان پاکستان کا موقف تسلیم کرنے سے گریزاں ہے اور ہمیں علم ہے کہ وہ تسلیم نہیں کریں گے۔‘ جس کے جواب میں کابل میں وزارت خارجہ نے ایک جاری بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام نے اس معاملے پر افغان وفد کے ساتھ کچھ معلومات اور نتائج شیئر کیے۔ ’تاہم پاکستانی حکام کے بیانات نے اس کیس کے مختلف ورژن کا اظہار کیا اور بدقسمتی سے بنیادی سوال جیسے کہ واقعہ کیسے ہوا اور مجرموں کی شناخت وغیرہ کو حل نہیں کیا۔‘ بیان کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے پہلے دن طے پانے والے معاہدے کے مطابق وفد نے پاکستانی حکام سے کہا کہ وہ کیس سے متعلق تمام معلومات تکنیکی تحقیقات کے لیے افغان حکومت سے شیئر کریں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ افغان وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ’ہسپتال کے ریکارڈ، طبی رپورٹس اور دیگر دستیاب شواہد واضح طور پر بتاتے ہیں کہ علی خیل خاندان کی خاتون کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘ بیان میں مزید کہا گیا کہ افغان حکومت واقعے کے متاثرین کے ساتھ ہم آہنگی میں اس کیس کے مجرموں کی شناخت اور گرفتاری میں تعاون کے لیے تیار ہے اور رہے گی۔
