ریپ کیسز میں ملوث مجرمان کونامرد بنانے کیلئے قانون لانے کا فیصلہ

وزیراعظم نے زیادتی کے مجرموں کو نامرد بنانے اور اس کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے زیادتی کے مجرموں کونامرد بنانے کے لیے قانون لانے کی منظوری دے دی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قانون کی منظوری دئیے جانے کے بعد وفاقی وزیر فیصل واڈا نے بل کے ڈرافٹ پر کام شروع کر دیا ہے۔
دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ریپ کرنے والے افراد کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔ قتل کے مقدمات کی طرح ریپ کے جرم کے لیے بھی درجہ بندی کی جانی چاہیے۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’فرسٹ ڈگری‘ میں آنے والوں کو آپریشن کے ذریعے ناکارہ کر دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے پڑھا ہے کہ ایسا دنیا کے کچھ ممالک میں بطور سزا کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستان میں ریپ کے ایک حالیہ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر سخت ردعمل اور ملک کے مخلتف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نےمزید کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تھے تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے تناظر میں وہ سرے عام پھانسی کے حق میں تھے تاہم انھیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنے سے عالمی ردعمل ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے ایک خاتون کے ساتھ گجرانوالہ جاتے ہوئے سڑک پر ڈکیتی اور ریپ کی واردات پیش آئی تھی جس میں مبینہ طور پر ان کے تین بچوں کے سامنے دو افراد نے ان کا ریپ کیا۔اس واقعے کی بڑے پیمانے پر سماجی اور سیاسی حلقوں میں مذمت کی جا رہی ہے اور حزب اختلاف کی جانب سے حکومت اور پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ریپ کے مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔تاہم وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ایسے مطالبات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے تشدد میں مزید اضافہ کا سبب قرار دیا تھا۔انھوں نے ایل ٹویٹ میں کہا تھا کہ وزراء اور پڑھے لکھے طبقات کی جانب سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ایسی باتیں کرنا ’ہمارے معاشرے کی متشدد سوچ کا عکاس ہے، جو تشدد کو ہر مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔‘ان کے خیال میں ایسے جرائم کے لیے اسلامی سزاؤں کا مطالبہ کرنے والوں کو ان کے طریقہ کار کی پیچیدگیوں کا اندازہ نہیں اور یہ اتنا آسان نہیں جتنا وہ سمجھ رہے ہیں۔ان کے بقول مطالبہ کرنے والوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ’کسی کو بھی پکڑ کر لکٹایا جانا ممکن ہے۔ ‘
وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق فیصل واوڈ ڈرافٹ کو مکمل کرنے کے بعد بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیں گے۔اس حوالے سے فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ انسانی قانون کے چیمپئن نہ آئے تو پھانسی کا بل منظور کریں گے۔زیادتی کے مجرموں کوپھانسی دینے کے لیے بھی بل لائیں گے۔پھانسی کا بل منظور نہ ہوا تو نامرد بنانے کا فیصلہ منظور کروائیں گے۔حکومت نے بل کی تیاری پر کام شروع کر دیا ہےجبکہ سینٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو آن بورڈ لے لیا اب بل لانے کا اصولی فیصلہ ہو چکا ہے۔فیصل واوڈا اور فیصل جاوید جنسی مجرموں کو سزا دینے کے حوالے سے ہم آواز بن گئے ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنسی زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینی چاہیے، سانحہ موٹروے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے، بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے بہت صدمہ پہنچا، جنسی زیادتی کے ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سانحہ موٹروے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے صدمہ پہنچا۔ جنسی زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیے۔ جنسی زیادتی کے مرتکب ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بھی سانحہ موٹروے کے بعد جنسی مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے یکم جولائی کو متفقہ طور ایک ترمیمی بل منظور کیا تھا جس میں بچوں سے ریپ کے مرتکب مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی سزا سمیت دیگر سخت سزاؤں کی منظوری دی گئی تھی۔اس بل کو قانون ساز اسمبلی میں پیش کرنے والے وزیر احمد رضا قادری کا کہنا تھا یہ قانون سخت ضرور ہے مگر اس کو ایسے جرم کے خلاف نافذ کیا جا رہا ہے جو انتہائی غیر انسانی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس بل میں دفعہ 377 اے میں ترمیم کی گئی ہے جس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے شخص کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے علاوہ سزائے موت اور عمر قید میں سے کوئی بھی ایک سزا دینے کی تین تجاویز ہیں۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اس بل کی منظوری پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس ترمیمی بل کو کابینہ سمیت قانون ساز اسمبلی سے منظور کرنا ایک مشکل فیصلہ تھا مگر قانون ساز اسمبلی کے اراکین نے اس جرم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسے متفقہ طور پر منظور کیا کیونکہ ان کے مطابق ’ہمارے پاس اس سخت قانون سازی کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ تھا۔‘
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم انصار برنی ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ اس قانون سازی کی سخت سے سخت مزمت کرتے ہیں کیونکہ یہ قانون سازی انتہائی مضحکہ خیز ہے۔’آپ نے ایک ایسے ملک میں یہ قانون سازی کی ہے جہاں امیروں کے لیے الگ قانون، غیریبوں کے لیے الگ قانون اور حکمرانوں کے الگ قانون ہے۔ میرے نزدیک یہ نہ صرف مضحیکہ خیز ہے بلکہ انصاف کے ساتھ مذاق اور اس کا قتل ہے۔‘انھوں نے کہا تھا کہ ’اس سے میرا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ایسا عمل کرنے والے شخص کو کوئی سزا نہ دی جائے۔ میرے نزدیک ایسے شخص عبرتناک سزا دیں اس کو عمر قید جیسی سزا دیں یا پھر ایسی سزا دیں جس سے اسے اس جرم پر شرمندگی ہو۔ آپ ایسے ملک میں یہ سزا منظور کر رہیں جہاں لوگ پیسے لیکر جھوٹی گواہی دیتے ہیں ایسی صورت حال میں کوئی بھی شخص اپنے مخالف کے خلاف کیس بچے کو کھڑا کر کے اسے یہ سزا دلوا سکتا ہے۔ ایسا جرم کرنے والے کو عبرتناک سزا دیں مگر سزا کا تماشا نہ بناہیں۔‘