مینار پاکستان واقعہ: ٹک ٹاکرنے ملزمان سے کتنے پیسے مانگے؟

لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ پیش آنے والے دست درازی کے واقعےمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ نت نئے انکشافات ہو رہے ہیں. مینار پاکستان واقعہ کے ہیرو ریمبو کے ولن بن کر گرفتاری کے بعد اب ٹک ٹاکرز کی طرف سے گرفتار ملزمان سے پیسے وصول کرنے کی منصوبہ بندی کئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں. مینار پاکستان کیس میں گرفتار ملزمان سے پیسوں کی وصولی کے حوالے سے خاتون اور ان کے زیر حراست ساتھی ریمبو کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سامنے آگئی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق جمال کا کہنا تھا کہ ریمبو کا فون قبضے میں لے لیا ہے اور کال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملزم ریمبو نے ٹیلی فون پر گفتگو کی تصدیق کی ہے اور اب اس کال کو کیس کا حصہ بنا رہے ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ ریمبو 4 روز کے جسمانی ریمانڈ پر ہے اور اس دوران کافی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
خاتون ٹک ٹاکر اور ان کے ساتھی کے درمیان فون پر جیل میں شناخت ہونے والے ملزمان سے رقم لینے کی گفتگو 25 سیکنڈ پر مشتمل ہے۔گفتگو کے دوران ریمبو خاتون ٹک ٹاکر سے پوچھتے ہیں کہ مجرمان 6 یا 7 ہیں، جس پر وہ جواب دیتی ہیں کہ مجرمان 6 ہیں۔ریمبو دوبارہ پوچھتے ہیں کہ فی مجرم کتنے پیسے لیے جائیں، زیادہ تر غریب ہیں جبکہ خاتون ٹک ٹاکر کہتی ہیں کہ انہوں نے مشکل سے 5، 5 لاکھ ہی دینے ہیں۔
گریٹر اقبال پارک کیس میں ٹک ٹاکر عائشہ اور ریمبو کی ایک اور آڈیوبھی سامنے آ ئیہے۔ریمبو کے بلیک میل کرنے کی آڈیو بھی اس کے موبائل سے برآمد ہو گئی۔جس میں ریمبو کہہ رہا ہے کہ تیری ساری تصاویر اور ویڈیوز میڈیا پر دوں گا۔نا کھلیں گے نا کھیلنے دیں گے۔ مجھے برباد کیا ہے تجھے بھی کر دوں گا۔جواب میں عائشہ اکرم کہتی ہے کہ میرے ساتھ میری فیملی ہے، جہاں مرضی ویڈیوز بھیجو۔ریمبو نے مزید کہا داتا دربار کے سامنے پھنسنے والی ویڈیو بھی میرے پاس ہے۔دوسری جانب ہولیس کا کہنا ہے کہ تمام آڈیو اور ویڈیو لیبارٹری کروائی جا رہی ہے
خیال رہے کہ لاہور پولیس نے تین روز قبل خاتون ٹک ٹاکر کے تحریری بیان کی روشنی میں ریمبو کو گرفتار کرکے عدالت سے 4 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا تھا۔اس سے قبل ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال نے کہا تھا کہ گریٹر اقبال پارک کی متاثرہ ٹک ٹاکر خاتون نے اپنے بیان میں 13 افراد کو نامزد کیا تھا جس کے بعد مرکزی ملزم عامر سہیل عرف ریمبو سمیت 8 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ نامزد دیگر افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور مقدمے کی تفتیش قانون کے مطابق کی جائے گی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ ٹک ٹاکر خاتون نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو دیے گئے تحریری بیان میں واقعے کا ذمہ دار اپنے ساتھی ریمبو کو ٹھہرایا تھا۔خاتون ٹک ٹاکرنے بتایا تھا کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا منصوبہ ریمبو نے ہی بنایا تھا اور ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میری نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ویڈیوز کی وجہ سے ریمبو مجھے بلیک میل کرتا رہا ہے، ریمبو مجھے بلیک میل کرکے دس لاکھ روپے لے چکا ہے۔متاثرہ خاتون نے کہا تھا کہ میں اپنی تنخواہ میں سے آدھے پیسے ریمبو کو دیتی تھی، ریمبو اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے۔
یاد رہے واقعہ رواں سال 14 اگست کو اس وقت پیش آیا تھا جب خاتون اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مینار پاکستان کے قریب ویڈیو بنا رہی تھیں۔خاتون کے مطابق انہیں لاہور گریٹر پارک میں سیکڑوں افراد نے ہراساں کیا، انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ہجوم سے بچنے کی بہت کوشش کی اور حالات کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی گارڈ نے مینارِ پاکستان کے قریب واقع دروازہ کھول دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو بتایا گیا تھا لیکن حملہ کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لوگ مجھے دھکا دے رہے تھے اور انہوں نے اس دوران میرے کپڑے تک پھاڑ دیے، کئی لوگوں نے میری مدد کرنے کی کوشش کی لیکن ہجوم بہت بڑا تھا۔
خاتون نے مزید بتایا کہ اس دوران ان کی انگوٹھی اور کان کی بالیاں بھی زبردستی لے لی گئیں جبکہ ان کے ساتھی سے موبائل فون، شناختی کارڈ اور 15 ہزار روپے بھی چھین لیے۔واقعہ کا مقدمہ خاتون کی مدعیت میں 17 اگست کو لاہور کے لاری اڈہ تھانے میں درج کیا گیا۔
مذکورہ واقعے کا مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 354 اے (عورت پر حملے یا مجرمانہ طریقے سے طاقت کا استعمال اور کپڑے پھاڑنا)، 382 (قتل کی تیاری کے ساتھ چوری کرنا، لوٹ کی نیت سے نقصان پہنچانا)، 147 (فسادات) اور 149 کے تحت درج کیا گیا ہے۔واقعے پر وزیر اعظم عمران خان نے نوٹس بھی لیا تھا اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب سے رابطہ کیا تھا۔
وزیراعظم کے سابق معاون خصوصی برائے سمندرپار پاکستانی زلفی بخاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بتایا کہ ‘وزیراعظم عمران ان نے لاہور میں خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والے معاملے پر آئی جی پنجاب سے بات کی ہے’۔بعدازاں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت واقعے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا جس کے بعد آئی جی پنجاب نے سینئر پولیس افسران کو واقعے میں غفلت برتنے اور تاخیر سے ردعمل دینے پر معطل کردیا تھا۔
