مینا کماری کو ٹریجڈی کوئین کیوں کہا جاتا ہے؟

بھارتی فلموں میں کم لیکن معیاری، جذباتی اور پراثر اداکاری سے ہر کسی کو متاثر کرنے والی جاذب نظر اداکارہ مینا کماری نے مہ جبیں بانو کے نام سے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا۔ لیکن جب مہ جبین مینا کماری بنیں تو ایک عالم ان پر فدا ہو گیا، اور وہ اپنی بہترین اداکاری سے چار مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

کہتے ہیں کہ مینا کماری کی بحران زدہ زندگی کی ٹریجڈی ان کے دنیا میں آنے سے بھی پہلے شروع ہوگئی تھی۔ مینا نے جب آنکھ کھولی تو ان کے باپ نے فیصلہ کیا کہ اسے یتیم خانے چھوڑ دیا جائے لیکن پھر وہ اپنے اس ارادے سے باز آ گے، مینا کے والد بیٹے کے خواہشمند تھے لیکن مینا نے اپنے والدین، اور بہن بھائیوں کے لیے ایک بھائی سے بھی بڑھ کر کردار ادا کیا۔ یہ ننھی سی جان دو، دو شفٹوں میں 16 گھنٹے کام کر کے رات دیر گئے گھر پہنچتی تو بستر پر گر جاتی۔ ابھی اس کی نیند پوری بھی نہیں ہوتی تھی کہ صبح ہونے پر ماں اسے اگلی شوٹنگ کے لیے تیار کرتی اور باپ اسے لے کر سٹوڈیو پہنچ جایا کرتا۔

مینا کماری کو لڑکپن میں ایک جوان لڑکی کا کردار نبھانے کے لیے خاص میک اپ اور مصنوعی اعضا کا استعمال کرنا پڑتا تھا، مینا کے والد موسیقار اور تعلق پاکستانی پنجاب سے تھا جبکہ والدہ پربھ وتی بنگالی تھیٹر سے رقاصہ کے طور پر وابستہ تھیں اور ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہوئی تھیں۔ فلمساز وجے بھٹ نے 1939 میں مینا کماری کو بطور چائلڈ سٹار اپنی فلم ‘لیدر فیس’ میں کاسٹ کیا تھا۔’بیجو باورا’ کے بعد مینا کماری نے انڈین سنیما پر اداکاری کے وہ کرشمے دکھائے کہ اُنھیں خواتین اداکاراؤں کے لیے ایک مثال جانا گیا۔ابرار علوی اور گرو دت کی فلم ‘صاحب بی بی اور غلام’ اور کمال امروہی کی فلم ‘پاکیزہ’ کے بعد تو مینا کماری کو ‘ٹریجڈی کوئین’ کہا گیا۔ خود مینا کماری سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے کیریئر میں آپ کو اپنا کون سا کردار مشکل لگا تو اس پر مینا نے کہا کہ ‘صاحب بی بی اور غلام’ میں باغی عورت کا کردار منفرد تھا۔

یہ حقیقت ہے کہ مینا کماری کی ذاتی زندگی دکھوں کا ایک جوار بھاٹا تھی۔ایک مرتبہ انھوں نے اپنی دکھ بھری داستان اس طرح بیان کی کہ میں وہ بدنصیب پودا ہوں جسے زمین سے پھوٹتے ہی درخت سمجھ لیا گیا، میں وہ سیاہ بخت ہوں کہ جس نے اپنا بچپن دیکھا ہی نہیں۔ مینا کماری اس عمر میں فلم انڈسٹری سے وابستہ ہو گئی تھیں جب ابھی اُن کے سکول جانے کے بھی دن نہیں تھے۔ ذاتی طور پر وہ علم دوست تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر بنتی یا وکیل یہ تو پتہ نہیں لیکن وہ کچھ بھی بننے سے پہلے تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اپنے اندر کی اداسی اور محرومیوں سے شکست خوردہ مینا کماری نے خود سے 15 برس بڑے کمال امروہی سے شادی کی مگر بدقسمتی سے اور بھی دکھ اپنی جھولی میں ڈال لیے۔ مینا کماری پر کمال امروہی کے علمی و خاندانی پس منظر اور ذاتی لیاقت کا رعب و دبدبہ رہا۔ مینا کماری کو شاعری کا شوق تھا اور ‘ناز’ تخلص رکھتی تھیں۔ کمال امروہی نے ہمیشہ ان کی شاعری کو عامیانہ کہہ کر ان کی حوصلہ شکنی کی تھی۔ مینا شادی کے بعد جسمانی تشدد کا نشانہ بنائی جاتی رہی تھیں۔

کمال امروہی سے علیحدگی کے بعد دھرمیندر اور گلزار مینا کماری کی زندگی میں آئے۔ مینا کماری نے دھرمیندر کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا جن میں ‘پورنما’، ‘پھول اور پتھر’، ‘دائرہ’، اور ‘بہو بیگم’ سمیت دیگر فلمیں شامل تھیں۔ مینا نے اپنے اثر و رسوخ سے دھرمیندر کو کیریئر میں فائدہ پہنچایا اور جب دھرمیندر نے محسوس کیا کہ اب ان کے کیریئر کی گاڑی چل پڑی ہے تو اُنھوں نے اپنی راہ جدا کرلی۔
بمل رائے کی فلم ‘بے نظیر’ کے سیٹ پر مینا کماری کی گلزار سے ملاقات ہوئی تو دونوں میں قربت ہو گئی۔ شوٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد مینا اور گلزار گھنٹوں ٹیلی فون پر بھی بات کرنے لگے تھے۔میر تقی میر، غالب اور فیض کی شاعری پر باتیں کرتے کرتے دونوں دل کی باتیں بھی کرنے لگے تھے لیکن محبت کی یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھی۔

مینا کماری کو رات بھر جاگنے کی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ سنہ 1963 میں ڈاکٹر نے مینا کماری کو تجویز کیا کہ وہ نیند لینے کے لیے ایک جام برانڈی کا پی لیا کریں۔ لیکن نیند کا یہ نسخہ مینا کماری نے اپنے لیے موت کا نسخہ بنا لیا۔ کثرتِ شراب نوشی سے مینا کماری کو جگر کا کینسر لاحق ہو گیا تھا۔ 1968 میں اُنھیں علاج کے لیے سوئٹزر لینڈ اور لندن لے جایا گیا جہاں وہ جون سے اگست تک اپنی معالج ڈاکٹر شیلا شرلاک کے پاس زیر علاج رہیں۔ زندگی کے آخری دنوں میں کمال اور مینا کی فلم ’پاکیزہ‘ کی فروری 1972 میں بالآخر نمائش ہو گئی۔ یہ فلم جس کا مہورت 16 جولائی 1956 کو ہوا تھا لگ بھگ سولہ سال بعد ریلیز ہوئی تھی۔

زندگینکے آخری دنوں میں مینا کماری کو ’سینٹ الزبتھ نرسنگ ہوم‘ میں داخل کیا گیا تھا۔ نرسنگ ہوم کے کمرے نمبر 26 میں ان کے آخری الفاظ تھے ’آپا ، آپا، میں مرنا نہیں چاہتی۔‘ جیسے ہی ان کی بڑی بہن خورشید نے انھیں سہارا دیا وہ کوما میں چلی گئیں اور پھر کبھی اس سے باہر نہیں آ سکیں۔ یوں بالی ووڈ کی ٹریجڈی کوئین کی زندگی کے ٹریجڈی چیپٹر کا اختتام ہو گیا۔

Back to top button