میڈیا اتھارٹی بل کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان

سینئر صحافی و مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے والے عرفان صدیقی نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے گزشتہ روز کسی اپوزیشن جماعت کو اعتماد میں لیے بغیر پارلیمنٹ ہاﺅس سے باہر، پاک۔ چین فرینڈشپ سینٹر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں کی قائمہ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کر لیا۔
انہوں نے کہا کہ چند گھنٹے قبل اجلاس کی خبر دی گئی اور بتایا گیا کہ پی ایم ڈی اے پر متعلقہ وزیر بریفنگ دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اس پر اعتراض کیا اور اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اپوزیشن، میڈیا کی آزادی کے پَر کاٹنے کی ہر کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، ایوان کے اندر اور باہر پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی شدید مزاحمت کی جائے گی جو دراصل میڈیا ڈیولپمنٹ نہیں میڈیا کو تباہ کرنے کی اتھارٹی ہے۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں الیکٹرانک میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی سربراہی مجھے دی گئی، یہ امر میرے لیے باعث اعزاز ہے کہ موجودہ نافذالعمل ضابطہ اخلاق اسی کمیٹی کا تیار کردہ ہے جس کے لیے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن نے بھی بھرپور تعاون کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا ایک ایک لفظ اتفاق رائے سے لکھا گیا اور یہ ضابطہ سپریم کورٹ کے احکام پر جاری ہوا، اگر اس پر عمل درآمد میں کچھ مشکلات ہیں تو ان کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔لیگی رہنما نے کہا کہ اسی طرح پرنٹ میڈیا کے لیے ‘پریس کونسل’ کو فعال بنایا جاسکتا ہے جبکہ سوشل میڈیا کے لیے بھی ضابطے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ایک نئی اتھارٹی کا شکنجہ تیار کرنا نیک نیتی پر مبنی عمل نہیں سمجھا جاسکتا جبکہ اس سلسلے میں پی بی اے، پی ایف یو جے، اے پی این ایس، سی پی این ای اور دیگر تنظیموں کے تحفظات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) دیگر اپوزیشن جماعتوں سے مل کر اس طرح کی جابرانہ قانون سازی کا راستہ روکنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
