میڈیا عمران خان کا محسن ہے، انکی اپنی پرفارمنس گندی ہے

وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف حکومت کے شدید ترین حامی سمجھے جانے والے سینئر صحافی حسن نثار نے بھی سچ بولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کپتان کے اس موقف کو غلط قرار دے دیا ہے کہ انکی حکومت پاکستانی میڈیا کے نشانے پر ہے۔ میڈیا کو عمران خان کا اصل محسن قرار دیتے ہوئے حسن نثار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو اپنی ایسی خطرناک سوچ پر نظرثانی کرنا چاہیے کیونکہ انکی حکومت سوائے اپنی بری پرفارمنس کے اور کسی کے نشانے پر نہیں اور اپوزیشن کی موجودہ حکومت مخالف تحریک کا اصل ایندھن بھی حکومت کی پرفارمنس ہی ہے۔
اپنے تازہ ترین کالم میں حسن نثار لکھتے ہیں کہ عمران خان نے ایک ایسی بات کہی ہے جو میرے سر کے اوپر سے گزر گئی۔ پہلے میں سوچتا رہا کہ اِس بات پر تبصرہ کروں یا نظرانداز کر دوں لیکن معاملہ کیونکہ میڈیا کا تھا اِس لئے نظرانداز نہیں کر سکا۔ وہ لکھتے ہیں کہ وزیراعظم کا یہ کہنا خاصا بے بنیاد ہے کہ اُن کی حکومت میڈیا کے نشانے پر ہے کیونکہ وزیراعظم کا سیاسی وجود تو ہے ہی میڈیا کا مرہونِ منت، جس کو اکثر لوگ اُن کی کرشماتی شخصیت، ورلڈ کپ، شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی وغیرہ کے ساتھ کنفیوژ کر دیتے ہیں جو سو فیصد غلط ہے کیونکہ 24، 25برس پہلے جب عمران خان نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تو انکے پلے کچھ بھی نہیں تھا سوائے میڈیا کی سپورٹ کے۔ تب اگر میڈیا عمران خان کا ہاتھ نہ تھامتا، اُسے سہارا نہ دیتا، سیاسی طور پر زندہ نہ رکھتا تو آج ’’تحریک انصاف‘‘ بھی ’’تحریک استقلال‘‘ ہوتی اور شاید عمران خان بھی ایئر مارشل اصغر خان ہو چکا ہوتا۔یہ بھی یاد رہے کہ ایئر مارشل اصغر خان بھی قومی ہیرو تھے اور اُن کی دیانت، شرافت اور مستقل مزاجی بھی ضرب المثل کی سی حیثیت رکھتی تھی۔ اصغر خان کی شخصیت غیرمتنازعہ اور ہر قسم کے سکینڈلز سے پاک تھی لیکن نتیجہ کیا تھا؟
حسن نثار لکھتے ہیں کہ عمران خان کی خوش قسمتی تھی کہ اصغر خان مرحوم کے برعکس اُسے ایک طرف تو پرنٹ میڈیا کے کچھ بااثر لوگوں کی سپورٹ حاصل رہی تو دوسری طرف الیکٹرونک میڈیا کا ’’جن‘‘ بوتل سے باہر آ گیا۔ الیکٹرونک میڈیا نے ڈولتے، لڑکھڑاتے عمران خان کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا اور بالآخر اسے اقتدار تک پہنچا دیا۔ اِس سارے پروسیس میں رہی سہی کسر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی بدترین پرفارمنس نے پوری کر دی اور اُن سے اکتائے ہوئے لوگ آہستہ آہستہ عمران کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ اِس سارے کھیل میں عمران خان کا اصل اور اکلوتا کریڈٹ یہ ہے کہ وہ مایوس کن حالات میں بھی ڈٹا رہا جس کا کریڈٹ سو فیصد اُس کو جاتا ہے لیکن اِس میں شخصیت، ورلڈ کپ، کینسر ہسپتال، نمل یونیورسٹی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ بصورت دیگر وہ پہلے چند برسوں میں ’’ٹیک آف‘‘ کر جاتا اور اسے 20 برس نہ لگتے۔
حسن نثار کے مطابق کچھ اور’’عوامل‘‘ جو بعد میں عمران کو ’’نصیب‘‘ ہوئے اُس کے پیچھے بھی میڈیا ہی تھا جس نے اُسے سیاسی طور پر زندہ رکھا اور فیڈ آئوٹ نہیں ہونے دیا ورنہ اِن عوامل کی نوبت ہی نہ آتی اور عمران خان ’’مینار پاکستان‘‘ تک پہنچنے سے پہلے ہی ’’قصہ پارینہ‘‘ بن چکا ہوتا، ان عوامل سے حسن نثار کی مراد خفیہ ایجنسیوں کی سپورٹ ہے جسکے بغیر عمران خان کا وزارت عظمی تک پہنچنا ایک خواب ہی رہتا۔ حسن نثار کہتے ہیں کہ میرے نزدیک میڈیا ہی عمران خان کا حقیقی محسن ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آج میڈیا جیسے ’’محسن‘‘ کے بارے میں عمران کا یہ کہنا ہے کہ اُس کی حکومت میڈیا کے نشانے پر ہے، اک ایسی خطرناک سوچ ہے جس پر نظرثانی کرنا ہی بہتر ہوگا کیونکہ یہ حکومت سوائے اپنی پرفارمنس کے اور کسی کے نشانے پر نہیں کہ اپوزیشن کی تحریک کا فیول ہی حکومت کی پرفارمنس ہی ہے۔
عمران نے شکوہ بھی کیا کہ ’’حکومتی کارکردگی صحیح نہیں بتائی جاتی‘‘ تو بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے لیکن اِس کے پیچھے بھی میڈیا کی بدنیتی بہت کم اور خود عمران حکومت کی نااہلی کہیں زیادہ ہے۔
حسن نثار کا کہنا ہے کہ کپتان کو اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری میڈیا پر ڈالنے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ خود اُنہوں نے میڈیا کے ساتھ کیا کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا کے سرخیل میر شکیل الرحمٰن کے ساتھ جو شرمناک سلوک اِس حکومت میں ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اور حکمران کبھی نہ بھولیں کہ میڈیا ایک مستل حقیقت ہے اور حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
