میڈیا کو غلام بنانے کے منصوبے کی مزاحمت کا اعلان

پاکستان کی صحافتی تنظیموں نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے اس دعوے کو غلط قرار دے دیا ہے کہ انکی حکومت نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے مشاورت کی ہے اور صحافتی باڈیز نے اتھارٹی کے مسودے پر اتفاق کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میڈیا اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد مین سٹریم میدیا اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو سزاوں اور جرمانوں سے ڈرا کر میڈیا کو مکمل طور پر غلام بنانا ہے جس کی اجازت کسی بھی صورت نہیں دی جا سکتی۔ کارکن صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے تیار کیا جانے والا میڈیا اتھارٹی قانون کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ اس کا بنیادی مقصد میڈیا کا گلا گھونٹنا اور اس کی آزادی سلب کرنا ہے۔ اسی طرح لاہور کراچی اسلام آباد راولپنڈی پشاور اور کوئٹہ پریس کلب کے صدور نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ کہ انہیں میڈیا اتھارٹی قانون بالکل بھی قابل قبول نہیں اور فواد چوہدری کی جانب سے کیا جانے والا یہ دعوی سراسر غلط ہے کہ پاکستان کے تمام بڑے پریس کلبز نے اس قانون کو قبول کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب ملک میں آزاد صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جبکہ دوسری جانب ایک اور کالا قانون لا کر حکومت رہی سہی کسر بھی پورا کرنا چاہتی ہے جسکی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ عمران خان کی موجودہ ہائبرڈ حکومت مین سٹریم میڈیا کو مکمل طور پر خصی کرنے کے بعد اب سوشل میڈیا پر حملہ آور ہے جسکی ایک تازہ مثال عامر میر اور عمران شفقت کی گرفتاری ہے۔ اس سے پہلے حکومت نے پی ٹی ایم، اپوزیشن جماعتوں اور کچھ افراد کی طرف سے ٹیوٹر اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ٹرینڈز اور ہیش ٹیگز چلانے پر ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی اور اسے ملک دشمن اور ریاست دشمن عمل قرار دیا۔ لیکن اب ایسا موقف اختیار کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
معروف صحافی سہیل وڑائچ کے مطابق سوشل میڈیا ٹرینڈز کی نگرانی اور میڈیا اتھارٹی کے قیام کا مقصد میں سٹریم اور سوشل میڈیا کو مکمل طور پر قابو کرنا ہے۔انہوں نے بتایا، "حکومت نے ملکی چینلز اور اخبارات کو پہلے ہی کنٹرول میں کیا ہوا ہے لیکن سوشل میڈیا کنٹرول نہیں ہورہا۔‘‘ ان کے بقول سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی صحافی امریکہ میں بیٹھ کر پاکستانی معاملات کو سوشل میڈیا میں شامل کرتا ہے تو یہ اسے کیسے روکیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں جب اخبارات اور مقامی ذرائع ابلاغ پر پابندی لگائی جاتی تھی تو لوگ بی بی سی اردو کو سنتے تھے۔ اب تو اطلاعات کا بہاؤ اتنا تیز اور زوردار ہے کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک اس طرح کے فری انفارمیشن کے بہاؤ کو نہیں روک پا رہے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ کیسے ممکن ہوگا۔‘‘
معروف صحافی اور اینکر مطیع اللہ جان نے بتایا کہ "ڈیجیٹل میڈیا کی نگرانی اور میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بنانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جو لوگ حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اس کی نااہلی پر بحث کر رہے ہیں ان کی آواز کو دبایا جائے۔ بجائے اس کے کہ حکومت اپنی کارکردگی بہتر کرے اور اظہار رائے کے حوالے سے ماحول کو بہتر بنائے۔ وہ صحافیوں پر تشدد کر رہی ہے۔ ان کے خلاف مقدمات بنا رہی ہے۔ انہیں ڈرا اور دھمکا رہی ہے۔ اس سے صرف دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو گی۔‘‘ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے بتایا، "پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغن ہر دور میں لگائی گئی ہیں لیکن جس طریقے سے موجودہ حکومت پریس فریڈم کو کچل رہی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی، اخبارات کے ڈکلیریشن کو مشکل بنایا جارہا ہے۔ صحافیوں کو جرمانے اور سزاؤں کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ اور یہاں تک کہ یوٹیوب چینلز کے قیام کو بھی نا ممکن بنایا جا رہا ہے۔ اخبارات کے ڈکلیریشن کو مشکل بنایا جارہا ہے، صحافیوں کو جرمانے اور سزاؤں کی دھمکی دی جا رہی ہےان کے بقول حکومت ہر چیز کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔ کچھ بچی کھچی اختلافی آوازیں اس کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے اور سوشل میڈیا پر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ ان کو دشمنوں کے ساتھ برابر کھڑا کیا جارہا ہے تاکہ ان کو دھمکایا جائے اور یہ پاکستان کی سیاسی نظام اور معاشرے کے لئے انتہائی تباہ کن ہوگا۔‘‘
روزنامہ دی نیوز کے ادارتی صفحات کی ایڈیٹر زیب النسا برکی کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ انتہائی ناقص ہے۔انہوں نے بتایا، ’’ایک سو چونتیس یا پینتیس صحفات کی رپورٹ میں پچاسی صفحات ٹوئیٹس کی اسکرین شوٹس پر مشتمل ہے۔ اس میں بہت سارے حکومت نواز یا قدامت پرستانہ خیالات رکھنے والے افراد کی بھی ٹوئیٹس ہیں۔ اس میں ایک عجیب طریقے سے حب الوطنی کا پیمانہ رکھا گیا ہے۔ جو انتہائی خطرناک رجحان ہے۔‘‘
میڈیا کے خلاف موجودہ حکومت کے اقدامات سے ملک کے کئی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ پاکستان میں صحافت کے لئے یہ بد ترین دور ہے جس میں
پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کو جھوٹے الزامات پر ایک برس نیب کی قید میں رکھا گیا اور اب پاکستان کے سب سے کامیاب ٹی وی اینکر حامد میر کا پروگرام جیو ٹی وی پر بند کروا دیا گیا ہے۔
تاہم یہ بھی سچ ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ پاکستان میں مختلف ادوار میں صحافیوں کے خلاف سخت قوانین بنائے گئے اور انہیں سزائیں بھی دی گئی۔ پاکستان کے قیام کے بعد ابتدائی دہائیوں میں پریس اینڈ پبلیکیشن قانون موجود تھا، جس کے تحت آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹا گیا۔
جنرل ضیا کے دور کو صحافت کے لئے سیاہ ترین دور کہا جاتا ہے جب جمہوری قدروں کی پامالی کی گئی۔ ملک میں بدترین ڈکٹیٹر شپ نافذ کی گئی۔ سینسرشپ اپنی انتہا پر تھی۔ صحافیوں کو کوڑے لگائے گئے اور انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ آج عمران خان کے دور حکومت مین میڈیا کو جن پابندیوں اور سختیوں کا سامنا ہے ان کا موازنہ جنرل ضیاء کے دور سے آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button