میڈیا کو مکمل غلام بنانے کا منصوبہ آخری مرحلے میں

کپتان حکومت نے پاکستانی صحافتی تنظیموں کی جانب سے سختی کے ساتھ مسترد کئے جانے والے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کو ایک آرڈیننس کی صورت میں نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں تاکہ مین سٹریم اور سوشل میڈیا کو مکمل طور پر غلام بنایا جا سکے۔
ایف آئی اے کے ہاتھوں لاہور سے دو سینئر صحافیوں عامر میر اور عمران شفقت کے اغواء کے واقعے کے فوری بعد وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے آئندہ دس روز میں یہ میڈیا مخالف متنازعہ بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ 45 روز کے اندر یہ قانون ملک بھر میں نافذ ہوجائے گا۔ حکومت کی جانب سے میڈیا کی آزادی پر حملہ آور ہونے والا پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قانون متعارف کروانے کا عندیہ ملنے کے بعد ملک کی تمام بڑی صحافتی تنظیموں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسکے خلاف بھر پور مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے مجوزہ قانون کو انتہائی متنازعہ اور میڈیا ڈسٹرکشن اتھارٹی قانون قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
اگرچہ کچھ عرصہ سے کپتان حکومت نے اس قانون کے حوالے سے خاموشی اختیار کر رکھی تھی تاہم اب ایک مرتبہ پھر اس کے نفاذ بارے حکومتی وزرا بلندوبانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہم دس روز میں اس بل کو قومی اسمبلی میں لے کر جا رہے ہیں۔ 45 دن میں یہ قانون نافذ العمل ہو جائے گا کیونکہ ہمیں قومی مفاد اور قومی سیکورٹی کیلئے میڈیا کو ریگولیٹ کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اسکا۔مقصد جعلی خبروں، گالم گلوچ، ہتک، قابل نفرت تقاریر سے تحفظ دینا ہے۔ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد پیمرا کا ادارہ بھی ختم ہو جائیگا۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اس بل سے متعلق سول سوسائٹی، انسانی حقوق کمیشن کے ساتھ اگلے ہفتے مشاورت کریں گے۔ یعنی میڈیا کو غلام بنانے کا قانون مکمل طور پر تیار ہو چکا ہے اور اب حکومت اس پر سٹیک ہولڈر سے مشاورت کرنا چاہتی ہے جس کا بنیادی مقصد گونگلوں سے مٹی جھاڑنے کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
حکومت کی جانب سے تیار کرتا میڈیا مخالف قانون کے تحت الیکٹرانک میڈیا کا ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ ہو گا جو پیمرا کا کام کرے گا، پرنٹ، الیکٹرانک کی شکایات میڈیا کمپلینٹ کمیشن دیکھے گا جو کہ نو رکنی ہو گا، اسکے چار ممبران میڈیا اور چار حکومت سے ہونگے، میڈیا کمیشن افراد اور اداروں کی شکایات پر خبر دینے والوں کے خلاف تحقیقات کرے گا اور سزائیں تجویز کرے گا۔
واضح رہے کہ اس قانون میں تقریباً سبھی شقیں میڈیا دشمن ہیں اسی لئے میڈیا مالکان اور عامل صحافی یکجا ہوکر اس قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔
مجوزہ آرڈینینس میں سب سے ذیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کے تحت پاکستان میں صحافی صرف وہی فرد تصور کیا جائے گا جوکہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ سے لائسنس یافتہ، ڈیکلریشن، این اوسی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والے میڈیا کے ادارے سے منسلک ہوگا۔ اسی طرح پروٹیکشن آف جرنلسٹ ایکٹ میں حاصل حقوق بھی صرف اسی صحافی کو ملیں گے۔ مجوزہ قانون کے مطابق پہلی بار خلاف ورزی پر کسی بھی صحافی یا میڈیا مالک کو تین سال قید کی سزا یا اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جا سکیں گی جبکہ دوسری بار خلاف ورزی ثابت ہونے پر پانچ سال قید یا 5 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنائی جاسکیں گی۔ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے کی صورت میں ملک بھرکے صحافی اور میڈیا ورکرز نہ صرف ’نیوزپیپر ایمپلائز اینڈ سروسز کنڈیشنز ایکٹ 1974 میں دیے گئے قانونی تحفظ سے محروم ہو جائیں گے بلکہ اس آرڈیننس کی بدولت ان کا چھٹے، ساتویں اور نویں ویج بورڈ ایوارڈ کے تحت تنخواہ و دیگر مراعات اور بقایاجات مانگنے کاحق بھی سلب ہوجائے گا۔ اس آرڈیننس 2021 کے اجراکے بعد عمل درآمد ٹربیونل برائے اخباری کارکنان تحلیل ہو جائے گا اور ٹربیونل میں زیر سماعت اخباری کارکنان کے ہزاروں مقدمات بھی خودبخود ختم ہو جائیں گے۔
اس کے علاوہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے تحت قائم ہونے شکایات کونسلز اور ٹربیونلز میں صحافی اور میڈیا ورکرز، میڈیا مالکان کی مرضی کے مطابق طے شدہ تنخواہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں شکایت تو کرسکیں گے مگر انہیں نہ تو ملازمت کا تحفظ ملے گا اور نہ وہ قانونی طور پر ہاؤس رینٹ الاؤنس ودیگر مراعات کا مطالبہ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اسی طرح پاکستان میں کام کرنے والے تمام ٹی وی و ریڈیو چینلز، اخبارات وجرائد، نیوز ایجنسیاں، آن لائن اخبارات، ویب سائٹس، بلاگز، فیس بک پیجز، یوٹیوب چینلز، نیٹ فلکس، ایمازون پرائم چینلز وغیرہ ’پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘ سے لائسنس، ڈیکلریشن، این اوسی یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ لینے کے پابند ہوں گے جس کی مدت 5، 10 اور 15 سال ہوگی جبکہ اس کے اجرا کے لیے بھی فیس مقرر ہوگی۔ علاوہ ازیں سالانہ فیس اور رینیوول فیس الگ ادا کرنا ہوگی اور سالانہ فیس تاخیر سے جمع کرانے پر جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
دوسری جانب کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز یا سی پی این ایس نے انتہائی متنازعہ، امتیازی اور میڈیا مخالف مجوزہ قانون پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو پاکستان میڈیا ڈسٹرکشن اتھارٹی قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ سی پی این اے کے مطابق تمام میڈیا کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی جمہوری منتخب دور میں کوئی گنجائش نہیں۔ سی پی این ای کے عہدیداروں نے پی ایم ڈی اے کے قیام کے مسودے کو ریگولیشنز کے نام پر میڈیا کو قابو کرنے ور غلام بنانے کی سازش قرار دیتے ہوئے اسکی بھر پور مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
سی پی این ای کے علاوہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز سمیت صحافیوں کی تمام نمائندہ تنظیمیں مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو ڈریکونین قانون قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرچکی ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیا ہے جس کا مقصد آزادی صحافت اور اظہار رائے کے خلاف ہے۔
