میڈ ان پاکستان الیکٹرک کار تیار

ڈاکٹر خورشید قریشی کا کہنا ہے کہ الیکٹرک کار کی بیٹری بھی پاکستان میں ہی تیار کی جارہی ہے اور اس کی ڈیزائننگ اور ساخت پر کام اگلے دو ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ یہ کار بین الاقوامی انجینئرنگ کے معیار کے مطابق بنائی گئی ہے اور امید ہے کہ یہ دنیا کی ٹاپ الیکٹرک گاڑیوں کا مقابلہ کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ اب تک اس الیکٹرک کار کے ڈیزائن اور تیاری پر ایک لاکھ ڈالر کا خرچہ آیا ہے، جس کے لیے ڈائس فاؤنڈیشن کے ممبران نے فنڈز اکٹھا کی۔
ڈاکٹر خورشید قریشی کا کہنا ہے کہ ایسے پراجیکٹس پر سو سو ملین ڈالرز لگ جاتے ہیں مگر پاکستانی آٹو ماہرین کی رضاکارانہ خدمات کی وجہ سے چھوٹی سی سرمایہ کاری سی یہ گاڑی تیار کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے علاوہ پاکستان کے ٹیکنیکل تعلیمی اداروں اور طلبہ نے بھی اس کار کی تیاری میں مدد فراہم کی ہے۔ڈاکٹر قریشی نے کہا کہ اس پراجیکٹ کا ٹیکنیکل تجزیہ ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی میں کیا جا رہا ہے جبکہ بیٹری پیکیجنگ پر کراچی کی این ای ڈی انجینئرنگ یونیورسٹی میں جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کار کا اندرونی اور بیرونی ڈیزائن نیشنل کالج آف آرٹ نے کیا ہے جبکہ دیگر یونیورسٹیاں بھی کار کی تکمیل میں حصہ لے رہی ہیں۔ کار کی فیبریکیشن کا کام حکومتی ٹیکنیکل ادارے ٹیوٹا میں جا رہی ہے۔ڈاکٹر قریشی کا مزید کہنا ہے کہ کار کی بیٹری پاکستان کے ماحول، موسم اور ڈرائیونگ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کی مدت 10 سال ہو گی۔
