میں معصوم ہوں، مبشر لقمان پہلے سے بدنام تھے، صندل خٹک

ٹک ٹاک سٹار صندل خٹک نے اینکر مبشر لقمان کی جانب سے خود کو بدنام کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے سے ہی بدنام ہیں اور انکی مزید بدنامی میں انکی بنائی گئی کسی ٹک ٹاک ویڈیو کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ایک بار پھر اپنی معصومیت کا دعویٰ کرتے ہوئے صندل خٹک نے کہا کہ اس نے یا حریم شاہ نے آج دن تک مبشر لقمان کی کوئی ویڈیو ٹک ٹاک پر اپلوڈ نہیں کی اور وہ صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایف آئی اے میں ان کے خلاف کیس دائر کیے جا رہے ہیں۔
صندل خٹک کے وکلا نے لاہور کی سیشن کورٹ سے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر بحث کرنے کے لیے عدالت سے مہلت مانگتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ٹک ٹاک سٹار نے کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا لہذا ایف آئی اے کو انہیں ہراساں کرنے اور تحقیقات کے نام پر بار بار طلب کرنے سے منع کیا جائے۔ صندل خٹک نے لاہور کی سیشن کورٹ میں 16 جنوری 2020 کے روز ایف آئی اے کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ انہیں ہراساں کر رہا ہے اور اس کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔
ٹک ٹاک اسٹار کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے نے انہیں اینکر مبشر لقمان کی طرف سے جھوٹے الزام پر مبنی درخواستوں کے نتیجے میں میں 28 اکتوبر اور 5 نومبر 2019 کو نوٹسز جاری کرکے تفتیش کے لیے پیش ہونے کا کہا۔ ماڈل نے اپنی درخواست میں لکھا تھا کہ انہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان کے خلاف کس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔ صندل خٹک نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ایف آئی اے کو ان کے خلاف جاری تحقیقات سے متعلق تمام دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ ٹک ٹاک اسٹار کی درخواست پر عدالت نے ایف آئی اے سے جواب طلب کیا تھا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے نے 20 جنوری 2020 کو عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا تھا۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ صندل خٹک کو مبشر لقمان کی درخواست میں لگائے گئے الزامات پر صفائی اور جواب کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے اپنے جواب میں وضاحت کی تھی کہ مبشر لقمان نے اپنی درخواست میں بتایا تھا کہ صندل خٹک نے سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز اپلوڈ کی تھیں جس پر انکے خلاف انکوائری کی استدعا کی گئی تھی، عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ ٹک ٹاک اسٹار کی دائر درخواست کو مسترد کیا جائے۔
ایف آئی اے کے جواب کے بعد عدالت نے صندل سے جواب طلب کیا تھا اور 25 جنوری کو ٹک ٹاک اسٹار کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت صندل خٹک کے وکلا نے عدالت میں جواب جمع کروایا جس میں ایک بار پھر وضاحت کی گئی کہ وہ کبھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی مبشرلقمان کی کوئی ویڈیو ٹک ٹاک پر اپلوڈ کی ہے۔ انکا موقف تھا کہ وہ ایک شریف شہری ہیں اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ انہیں بار بار پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کر کے مسلسل پریشان کر رہا ہے۔
صندل کے وکلا نے اسکا جواب جمع کراتے ہوئے اس پر بحث کے لیے عدالت سے مہلت طلب کی جس پر عدالت نے ماڈل کے وکلا کو پوری تیاری کے ساتھ آئندہ ماہ 11 مارچ کو طلب کرلیا۔ خیال رہے کہ صندل خٹک ساتھی ماڈل حریم شاہ کے ساتھ متنازع ویڈیوز بنانے کے حوالے سے ملک میں شہرت رکھتی ہیں۔ کچھ مہینے پہلے صندل خٹک اور حریم شاہ کی مبشر لقمان کے ملکیتی چھوٹے جہاز میں بنائی گئی ویڈیوز پر ایک تنازع شروع ہوا تھا۔ مبشر کا الزام تھا کہ یہ تصاویر اس کی مرضی کے بغیر اس کے جہاز میں گھس کر بنائی گئیں اور یہ عمل غیر قانونی ہے۔ انہوں نے قانونی کارروائی کیلئے پولیس سے رجوع کیا گیا تھا۔ تاہم پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہ کیے جانے پر مبشر لقمان نے ایف آئی اے سے رجوع کیا تھا جہاں ٹک ٹاک سٹارز کا یہ موقف ہے کہ ان کی کسی بھی ویڈیو میں مبشر لقمان نہیں ہیں لہذا ان کے ہاتھوں اینکر پرسن کی بدنامی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حریم شاہ اور صندل خٹک کا موقف ہے کہ مبشر لقمان پرانے بد نام ہیں اور اپنی بدنامی کی ذمہ داری ہمارے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button