میں نے اور سعود نے کسی کا ایک دھیلا بھی نہیں دینا ہے


اداکارہ جویریہ سعود نے سینئیر اداکارہ سلمیٰ ظفر کی طرف سے اپنے ایک کروڑ روپے کے بقایا جات غبن کرنے اور خود سے ناروا سلوک کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے سلمیٰ ظفر کا ایک دھیلا بھی ادا نہیں کرنا ہے اور وہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر جھوٹ بولے جا رہی ہے۔
اداکارہ سلمیٰ ظفر کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے جویریہ سعود نے کہا کہ ان پر عائد کردہ تمام الزامات لغو اور بے بنیاد ہیں اور وہ اپنی ویڈیو میں خود تسلیم کر رہی ہیں کہ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ جویریہ نے کہا کہ سینئیر اداکارہ نے ہمارے ساتھ کئی سال تک کام کیا، اگر ہم انہیں پیسے نہیں دے رہے تھے تو انہیں پہلے مہینے ہی کام چھوڑ دینا چاہیے تھا، انہوں نے سات سال تک ڈرامہ ’یہ زندگی ہے‘ میں کیوں ہمارے ساتھ کام کیا؟۔
واضح رہے کہ سینیئر اداکارہ سلمیٰ ظفر نے اداکار سعود اور ان کی اہلیہ اداکارہ جویریہ سعود پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سعود اور جویریہ ان کے ایک کروڑ روپے جبکہ عام ملازمین کے بھی لاکھوں روپے کھا گئے ہیں اور اپنے معاوضوں کا تقاضا کرنے پر انکو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی 35 منٹ سے زائد دورانیے کی ویڈیو میں سلمیٰ ظفر نےسعود اورجویریہ پر سنگین الزامات لگائے ہوئے کہا تھا کہ سعود اور ان کی اہلیہ کی جانب سے بنائے گئے پروڈکشن ہاؤس میں اداکاروں اور ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے جبکہ ملازمین کو تنخواہیں تک نہیں دی جاتیں۔ سلمیٰ ظفر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعود اور جویریہ کے ساتھ کئی سال تک کام کیا مگر انہیں پیسے ادا نہیں کیے گے اور ان کے ایک کروڑ روپے اب بھی واجب الادا ہیں۔ ‘
تاہم اب جویریہ سعود نے الزامات کی تردید کر دی ہے اور کہا ہے کہ ہم نے سلمیٰ ظفر کے پیسے بہت سال پہلے ہی کلیئر کر دیے تھے پتہ نہیں یہ کون سا حساب لگا کر بیٹھی ہوئی ہیں، اچانک ان کو کیا یاد آیا ہے۔ اگر ہم نے ان کے پیسے نہ دیے ہوتے تو اتنے سکون سے زندگی نہ گزار رہے ہوتے۔ جویریہ نے مزید بتایا کہ ’میں نے اپنے بچوں کی خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھے ہوئے تصویر فیس بک پر لگائی تو سلمیٰ ظفر نے اس پر لکھا کہ آپ لوگوں کو ایسی جگہ پر جانا زیب نہیں دیتا۔ میں نے ان کا یہ کمنٹ پڑھا تو بہت دکھ ہوا، بدتمیزی کرنے کی بجائے میں نے انہیں بلاک کر دیا۔ جویریہ سعود نے سینئیر اداکارہ سے ہونے والے اختلافات کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سلمیٰ ظفر نے کچھ ماہ پہلے مجھے کہا تھا کہ ایک بزنس شروع کر رہی ہوں بہت اچھی پارٹی کے ساتھ تم بھی آجاﺅ اس بزنس میں، تو میں نے انہیں کہا کہ مجھے دلچپسی نہیں ہے۔ ان کے بہت اصرار پر بھی جب میں نے منع کیا تو ان کو بہت برا لگا اور اس کے بعد ان کی یہ ویڈیو سامنے آ گئی جس میں یہ ہم پر دنیا جہان کے الزامات لگا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سلمیٰ ظفر نے ویڈیو میں پیسوں پر دو منٹ بات کی ہے باقی تو کردار کشی اور الزام تراشی ہی کی ہے۔ تاہم جب انسان بولتا ہے تو اس کی تربیت کا پتہ چلتا ہے اور میں ان کو پلٹ کر جواب نہیں دوں گی کیونکہ میری تربیت ایسی ہوئی ہی نہیں کہ کسی پر الزام لگاﺅں، بدتمیزی کروں۔‘جویریہ نے عائد الزامات کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ جن لڑکوں کی سلمیٰ ظفر بات کر رہی ہیں وہ ہمارے ٹیم ممبرز ہیں ہم ان کا بہت خیال رکھتے ہیں حالانکہ ایک سال سے ہم کام نہیں کررہے نہ ہی کوئی ڈرامہ بنایا ہے لیکن ہم اپنے لڑکوں کو پیسے دے رہے ہیں اور ان کو اجازت بھی دے رکھی ہے کہ اگر باہر سے کوئی کام ملے تو کر لینا۔
جویریہ سعود کا مزید کہنا تھا کہ ’جب میرے بیٹے کی پیدائش ہونی تھی تو ہم نے ایک ڈیڑھ سال کام نہیں کیا اس دوران بھی ہم سلمیٰ ظفر کو پیسے دیتے رہے ہیں اس کے بعد ہم نے ’پارک ولا‘ بنایا اس میں بھی سلمیٰ ظفر کو کاسٹ کیا اگر یہ ہم سے تنگ تھیں تو ڈرامہ کیوں سائن کیا پارک ولا بھی انہوں نے ہمارے ساتھ آخری قسط تک کیا۔ اگر ہم ان کو پیسے نہیں دے رہے تھے تو وہ ہمارے ہر پراجیکٹ میں آخر تک ہمارے ساتھ کیوں رہیں۔سلمیٰ ظفر کی طرف سے عائد کردہ الزامات کا جواب تو جویریہ نے دے دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ سینئیر اداکارہ اس وضاحت کو تسلیم کرتے ہوئے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں یا الزام تراشیوں کا سلسلہ آگے بڑھاتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button