میں نے اور منظر نے کمپینئن شپ کے لیے شادی کی

زندگی کی ستر بہاریں دیکھنے والی لیجنڈری ادکارہ ثمینہ احمد نے اداکار منظر صہبائی سے اپنی شادی کے حوالے سے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا ہے کہ ان دونوں نے کمپینئن شپ کی خاطر شادی کی ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
یاد رہے کہ دونوں بزرگ اداکاروں نے لاک ڈاؤن کے دوران انتہائی سادگی سے شادی کرلی تھی، شادی کی تقریب کی ایک ہی تصویر منظر عام پر آئی تھی جس میں ثمینہ نے سفید ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھی، تاہم اب ثمینہ نے اپنی شادی ایک اور تصویر سوشل میڈیا پر جاری کردی یے جس میں منظر صہبائی انہیں انگوٹھی پہناتے نظر آرہے ہیں۔اس تصویر کے ساتھ نوبیاہتا جوڑے نے اپنے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ تصویر شیئر کرتے ہوئے منظر صہبائی نے لکھا کہ ’ہم اپنے پاکستان اور دنیا بھر میں موجود مداحوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے ہمیں اتنا پیار دیا‘۔
پچاس سال سے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اداکاری، ہدایتکاری اور دیگر شعبوں سے منسلک رہنے والی ثمینہ احمد کی شادی اب بھی مداحوں میں زیر بحث ہے۔شادی کے بعد دئیے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ مرد زندگی کے کسی حصے میں شادی کا فیصلہ کرے تو اس پر تنقید نہیں کی جاتی عورت ایسا کرے تو اس پر تنقید کے نشتر چلائے جاتے ہیں ایسا کیوں؟ جواب میں ثمینہ احمد کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے ہے کیوں کہ عورت کو ہم نے کبھی آزاد ہستی سمجھا ہی نہیں ہے اس کو مرد کے برابر حقوق اور درجہ دیا جائے تو شاید ایسی تنقید نہ ہو۔ ہم آج بھی عورت کو مرد سے کمتر سمجھتے ہیں۔ وہ آزادی سے اپنے فیصلے نہیں کر سکتی۔ باپ اور بھائی کی مرہون منت رہتی ہے۔
شادی کے فیصلے پر فیملی کے پریشر کے حوالے سے ثمینہ کا کہناتھا کہ میری فیملی کی طرف سے کوئی پریشر نہیں تھا بس یہ ہے کہ میں نے ایک فیصلہ کیا اور پُر اعتماد تھی، میرے اس فیصلے کو لوگوں کی جانب سے بھی سراہا گیا، میں سمجھتی ہوں کہ ہم بلاوجہ ہی لوگوں کو انڈر ایسٹیمیٹ کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہم خود ڈر جاتے ہیں جس کی وجہ سے ایسا سوچتے ہیں کہ سوسائٹی کی طرف سے پریشر آئے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرا تو یہی خیال ہے کہ آپ اگر کوئی فیصلہ کریں تو اس کے نتائج اچھے ہوں یا برے اس کا سامنا آپ نے خود ہی کرنا ہوتا ہے لہذا کسی قسم کا بھی پریشر لینے کی ضرورت ہوتی بھی نہیں۔
آج کل کے ٹی وی ڈراموں کے موضوعات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صحافی اور بہت سارے لوگ اس سوال میں پھنس کر رہ گئے ہیں کہ آخر کیوں ڈرامے غیر ازدواجی تعلقات اور ساس بہو کے جھگڑوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی حد تک بات درست بھی ہے لیکن یہ بہت سے گھروں کی ہی کہانیاں ہیں۔ ‘ہاں یہ ضروری نہیں کہ ہر گھر میں ایسا ہورہا ہو۔’
ثمینہ احمد کا کہنا تھا ہمیں ایسے ڈرامے نہیں بنانے چاہیئں جن میں عورتوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہوں۔ ہمیں ان سے باہر نکلنا چاہیے۔ ہم کیوں یہ دِکھاتے ہیں کہ عورت کو ہمیشہ مرد کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اسکے بغیر وہ زندگی نہیں گزار سکتی؟’ انہوں نے مزید کہا ہمارے ڈراموں میں کہیں نہ کہیں ایسا پیغام ضرور ہونا چاہیے کہ ایک عورت اپنی زندگی کے نہ صرف خود فیصلے کر سکتی ہے بلکہ اگر زندگی اکیلے بھی گزارنا چاہے تو گزار سکتی ہے، میرے خیال سے بس بہت ہو گیا ظلم و ستم اب عورت کو امپاور کرنے اور اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔
