میں نے نہ کبھی میچ فکسنگ کی اور نہ کوئی معافی مانگی ہے

ایک طرف کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیزراجہ نے میچ فکسنگ میں ملوث رہنے والے پاکستانی کھلاڑیوں کو جیل بھجوانے کا مطالبہ کیا ہے تو دوسری طرف سابق کپتان سلیم ملک کا موقف ہے کہ عدالت نے انہیں میچ فکسنگ کے الزامات سے بری کر دیا تھا اور انکا قوم سے معافی مانگنے کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے میچ فکسنگ کی تھی۔ ملک نے کہا جب عدالت انکے خلاف لگائے گئے الزامات ختم کر دیے تو پھر انکے ساتھ ناانصافی کیوں کی جارہی ہے۔ مذید بولے کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ وزیراعظم عمران خان کے پاس بھی جائیں گے۔
سلیم ملک نے میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ انہوں نے کرکٹ بورڈ سے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے پر معافی مانگ لی ہے۔ ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں کوئی فکسنگ نہیں کی جب کہ عدالت نے بھی انہیں جسٹس ملک قیوم کے عدالتی کمیشن کی جانب سے دی گئی سزا سے بری کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرا قوم سے معافی مانگنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں نے فکسنگ کی تھی۔ میری بے گناہی تو عدالت نے ثابت کی جب مجھے میچ فکسنگ الزام سے بری کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا مؤقف ہے کہ سلیم ملک نے ماضی میں دیے گئے سوالات کے جواب نہیں دیے جب کہ مجھے آج تک سوالات بھیجے ہی نہیں گئے۔ اگر میرے خلاف ان کے پاس کسی الزام کے حوالے سے کوئی دستاویز یا خط تھا تو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ سلیم ملک کا کہنا تھا کہ عدالت نے مجھے کلیئر کیا ہے کہ اگر کرکٹ بورڈ کچھ پوچھتا تو اس کا جواب بھی لازم دیتا۔ انہوں نے کہا کہ میں ٹی وی پر یہ خبریں دیکھ کر حیران ہوا کہ میں نے فکسنگ کا جرم مان لیا ہے حالانکہ میں نے کوئی فکسنگ نہیں کی۔
سلیم ملک کا کہنا تھا کہ میں گزشتہ 19 سال سے انصاف کےلیے لڑرہا ہوں۔ ایک مرتبہ جسٹس قیوم کی رپورٹ ضرور پڑھ لیں، رپورٹ پڑھے بغیر لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جسٹس قیوم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کس کس کو پاکستانی ٹیم میں نہیں ہونا چاہیے جب کہ مجھ پر لمبی پابندی لگادی گئی اور دیگر کھلاڑیوں کو جرمانے لگا کر چھوڑ دیا گیا، ایسا لگتا ہے جیسے میں پاکستانی نہیں ہوں۔ سلیم ملک نے کہا کہ میں کسی نوکری کے چکر میں نہیں ہوں لیکن اگر انصاف نہ ملا تو وزیراعظم عمران خان کے پاس بھی جاؤں گا۔
یاد رہے کہ سلیم ملک پر 2000 میں میچ فکسنگ کے الزام کے بعد پابندی عائد کی گئی تھی جب کہ 2008 میں عدالت نے ان کی پابندی کو ختم کردیا تھا۔ پابندی کے خاتمے کے بعد ملک نے کئی مرتبہ کوچنگ اور دیگر شعبوں میں کام کے لیے درخواست جمع کرائی مگر ان کی کوئی بھی منظور نہیں کی گئی۔
سلیم ملک نے گزشتہ دنوں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے آئی سی سی اور پی سی بی کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی پیش کش کی تھی۔ سابق کپتان نے میچ فکسنگ کے معاملے پر قوم سے معافی مانگی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ‘مجھے 19 سال پہلے اپنے کیے پر بہت افسوس ہے، میں اس سلسلے میں بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور پی سی بی سے غیر مشروط تعاون کو تیار ہوں’۔ انہوں نے مذید کہا تھا کہ وہ میچ فکسنگ اسکینڈل کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کے لیے آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے ساتھ بھی تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ سلیم ملک نے کہا تھا کہ انسانی حقوق کے قوانین کے تحت، وہ اس بات کے بھی مستحق ہیں کہ ان کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر سمجھا جائے کیونکہ انہوں نے اس غلطی کی وجہ سے بہت زیادہ مصائب کا سامنا کیا ہے اور 19 سال تک کھیل سے دور رہے ہیں۔
ملک کا کہنا تھا کہ ‘میں نے کرکٹ کھیلنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا جس کی شروعات میں نے 8 سال کی عمر میں کی تھی، میں نے زندگی بھر یہ کھیل کھیلا ہے، یہی میری روزی روٹی ہے لہٰذا میں اپیل کرتا ہوں کہ انسانی حقوق کے قوانین کے تحت مجھ سے دوسرے کھلاڑیوں کے جیسا سلوک کیا جائے’۔
