میں کسی ملٹری ڈکٹیٹر کی نرسری میں نہیں پلا

تحریک انصاف کے چیئرمین وسابق وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ شہباز شریف تمہارے پاس کیوں پیغام بھجواؤں گا؟ تمہارے پاس بات کرنے کیلئے ہے کیا؟

پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کے تیسرے روز مریدکے میں شرکا سے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ روز آرمی چیف کی تقرری سے متعلق دیے گئے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےعمران خان کا کہنا تھا شہباز شریف، آپ نے ایک بیان دیا کہ میں نے آپ کو پیغام بھجوایا، شہباز شریف سن لو، بوٹ پالش کرنے والوں سے بات نہیں کرتا، میں نے ان سے بات کی جن سے ملنے کے لیے شہباز شریف گاڑی کی ڈگی میں جاتے تھے، شہباز شریف تمھارے پاس کیوں پیغام بھجواؤں گا؟ تمہارے پاس بات کرنے کیلئے ہے کیا؟

انہون نے کہامیں کسی ملٹری ڈکٹیٹر کی نرسری میں نہیں پلا، بھٹو کی طرح ایوب خان کو ڈیڈی نہیں کہتا تھا، میں نواز شریف کی طرح نہیں جس نے جنرل جیلانی کے گھر سریا لگاتے ضیاالحق کے گھٹنے دبائے اور وزیر بنا، میں نے کسی کے پیر نہیں پکڑے، میں ایک آزاد آدمی ہوں، مرسکتا ہوں غلامی نہیں کر سکتا، اس حکومت کو قوم نہیں مانتی، دیکھ لو قوم کہاں کھڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا میں اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے نہیں عوام کی طاقت سے آیا تھا، اسٹیبلشمنٹ کو کہنا چاہتا ہوں، آپ کی جے آئی ٹی نے ان لوگوں کی کرپشن کے بارے میں بتایا،فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے، جب فوج پر تنقید کرتا ہوں تو وہ تعمیری تنقید ہوتی ہے، ہم اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، بھارت غلط فہمی میں نہ رہے، میں صرف قانون کی حکمرانی چاہتا ہوں، عوام کے حقوق کی حفاظت کی جائے۔

عمران خان نے کہا مشرف نے ان دونوں جماعتوں کو ہٹایا تو لوگوں نے مٹھائیاں بانٹیں، مشرف نے ان دونوں جماعتوں کو این آر او دیا تو ملک کو نقصان پہنچا۔

تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا سفر کامونکی کی طرف جاری ہے جو کہ کچھ دیر بعد سادھوکی کے مقام پر پہنچے گا۔ کامونکی میں قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کی طرف سے الگ الگ استقبالیہ اسٹیج لگائے گئے ہیں۔ پولیس کی طرف سے دو ہزار سے زائد نفری تعینات کی گئی ہے۔ لانگ مارچ پہنچنے پر عمران خان سٹی چوک میں عوام سے خطاب کریں گے۔

Back to top button