نئی حکومت صدرعلوی کو فوری ہٹانے کی پوزیشن میں کیوں نہیں؟


ایوان صدر میں براجمان عمران خان کے ساتھی عارف علوی اپنے کپتان کے ایما پر مسلسل نئی حکومت کے لئے مشکلات اور مسائل پیدا کر رہے ہیں لیکن تمام تر خواہش کے باوجود حکومتی اتحاد انکے خلاف فوری طور پر مواخذے کی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے جو ابھی نئی حکومت کے پاس نظر نہیں آتی۔ یاد رہے کہ اس وقت قومی اسمبلی میں کل 342 نشستیں ہیں جبکہ 100 سینیٹرز ہیں، جن میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی تعداد 26 بنتی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کل 442 کے ارکان میں سے صدر کے مواخذے کے لیے تقریباً 296 ارکان کی حمایت حاصل ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ اس وقت حکومت کے پاس تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو ملا کر بھی قومی اسمبلی میں اراکین کی کل تعداد 197 تک ہی بنتی ہے۔ یعنی اپوزیشن کو صدر کے مواخذے کے لیے تقریباً سو مزید ووٹوں کی ضرورت ہے جو فوری ممکن نظر نہیں آتا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکے پاس عارف علوی کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کے لیے ٹھوس بنیاد موجود ہے کیونکہ انکی جانب سے عمران خان کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی توڑنے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔ تاہم اس حوالے سے ابھی حکومتی اتحاد فوری طور پر کوئی کارروائی اس لیے نہیں کرنا چاہتا کہ اسکے پاس مواخذے کی تحریک کامیاب بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت موجود نہیں۔
دوسری جانب صدر عارف علوی مسلسل نئی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کئے چلے جارہے ہیں۔ صدر عارف علوی نے موجودہ حکومت کو پہلا سرپرائز عین اس روز دیا تھا جب شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد انھیں صدر سے حلف لینا تھا مگر ایوان صدر سے یہ خبر آئی کی صدر علوی کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے اب وہ مختصر رخصت پر جا رہے ہیں۔ صدر کی غیر موجودگی میں وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے حلف لیا۔ اس کے بعد جب گورنر پنجاب عمر چیمہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو حلف دینے سے انکار کیا تو وزیراعظم نے انہیں ہٹانے کی ایڈوائس صدر کو بھجوائی، مگر ایوان صدر نے عمرچیمہ کو اپنے عہدے پر کام کرتے رہنے کی ہدایت کی ہےلہٰذا حمزہ شہباز کو عدالت سے رجوع کرنا پڑ گیا۔لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے علوی مستقبل میں موجودہ حکومت کے لیے کس قسم کی مشکلات اور رکاوٹوں کا سبب بن سکتے ہیں اور اتحادی جماعتوں پر مشتمل حکومت کے لیے صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانا کس قدر مشکل ہو گا؟
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس سیاسی بحران کا کوئی بہتر حل نہیں نکلتا تو ایسے میں ایوان صدر موجودہ حکومت کے لیے درد سر بنا رہے گا۔ سپریم کورٹ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ اس کی تازہ مثال تو یہ ہے کہ اس وقت صدر کی وجہ سے پنجاب کے نئے منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز حلف بھی نہیں اٹھا سکے ہیں۔ ان کے مطابق جب وزیر اعظم نے گورنر پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی ایڈوائس صدر کو بھیجی تو انھوں نے اس پر فوری عمل نہیں کیا۔ خیال رہے کہ پنجاب کے گورنر عمر سرفراز چیمہ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کو تسلیم ہی نہیں کیا اور اپنے اختیارات بھی کسی کو تفویض نہیں کیے ہیں، جس وجہ سے پنجاب یکم اپریل سے بغیر وزیراعلیٰ کے چل رہا ہے۔
پارلیمانی امور کے ماہر احمد بلال محبوب کے مطابق شہباز شریف کے لیے یہ صورتحال اس وجہ سے بھی زیادہ تشویشناک ہے کیونکہ ان کی بار تو صدر چیئرمین سینیٹ سے حلف لینے میں رکاوٹ نہیں بنے مگر اب ان کے فرزند حمزہ شہباز کے معاملے میں گورنر کو کسی کو حلف لینے کی اجازت بھی نہیں دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر فوری عمل کر دیتے تو یہ مشکل آسان ہو سکتی تھی۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق ویسے تو خیال یہی کیا جاتا ہے کہ صدر کا عہدہ محض ایک ’ڈاکخانہ‘ ہے مگر ان کو حاصل آئینی اختیارات پر اگر نظر دوڑائی جائےتو وہ حکومت کے کئی ضروری معاملات کو مختصر مدت کے لیے لٹکا سکتے ہیں اور اہم فیصلوں میں تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جب صدر کو وزیراعظم یا کابینہ کی طرف سے کوئی سمری منظوری کے لیے ارسال کی جاتی ہے تو صدر پاکستان کے آفس کو آئینی طور پر اس پر فیصلے کے لیے 15 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد صدر مملکت اس سمری کو از سر نو جائزے کے لیے واپس دوبارہ وزیراعظم یا کابینہ کو بھیج سکتے ہیں۔ان کے مطابق دوبارہ جائزے میں کم از کم ایک دن تو لگ جاتا ہے اور اگر پھر بھی وزیراعظم اور کابینہ کی سمری وہی ہو تو بھی صدر مزید دس دن تک اس پر سوچ و بچار کر سکتے ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق یوں صدر کسی بھی معاملے کو تقریباً ایک ماہ تک تاخیر کا شکار بنا سکتے ہیں۔ اور یہ موجودہ نظام میں ایک بڑا تضاد ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت جب صدر کے پاس منظوری کے لیے کوئی بل بھیجا جاتا ہے تو وہ دس دن تک اس پر اپنی رائے دینے کا اختیار رکھتے ہیں، اسکے علاوہ دس دن بعد بھی صدر اس بل کو واپس بھیج سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں قانون سازی کی منظوری کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانا ضروری ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق مشترکہ اجلاس بلانے میں بھی کم از کم دس سے بارہ دن لگ جاتے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کے مطابق تحریک انصاف کے سینیٹ میں ارکان مشترکہ اجلاس میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر سیشن منعقد ہو بھی جائے تو ایسی صورت میں بل کی سادہ اکثریت سے منظوری سے قبل وہ طویل تقریروں کے ذریعے ایسے اجلاس کو مزید طوالت دے سکتے ہیں۔ یوں ایک قانون کو عملی شکل دینے میں کم از کم ایک ماہ کا وقت لگ جاتا ہے۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق اگر حکومت کسی اور جماعت کی ہی ہو تو پھر صدر کا عہدہ مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ ذہنی ہم آہنگی کا نہ ہونا ہوتا ہے۔
احمد بلال محبوب کے مطابق بظاہر تحریک انصاف کی مجموعی حکمت عملی یہی ہے کہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے اور جس حد تک ممکن ہو نئی حکومت کے کام میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ صدر عارف علوی نے ایک متوازی انتظامیہ بنا رکھی ہے۔ گورنر پنجاب کی خدمات نئے وزیراعظم کو درکار نہیں مگر پھر بھی صدر غیرآئینی طور پر گورنر کو کام جاری رکھنے کی ہدایات کر رہے ہیں۔ اسوقت جو صورتحال ہے اس میں صدرعارف علوی سمیت ان کے ساتھیوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ حالات کو لاقانونیت کی طرف لے جائیں۔عرفان صدیقی کے مطابق یہ لوگ اہم اور بڑے عہدوں پر پہنچنے کے بعد بھی اس قسم کی ذہنیت کے مالک ہیں کہ جہاں قاعدے، روایات اور اخلاقیات کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا ہے۔
اس سوال پر کہ، کیا موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت صدر کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اب صرف مواخذے کا طریقہ کار باقی رہ جاتا ہے لیکن اس کے لیے ابھی حکومتی اتحاد کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔
صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانا کتنا مشکل ہو گا؟ اس حوالے سے قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ صدر کو آسانی سے گھر نہیں بھیجا جا سکتا۔ انکا کہنا ہےکہ موجودہ پارٹی پوزیشنز کو دیکھتے ہوئے حکومتی جماعتوں کا صدر کا مواخذہ کرنا تقریباً ‘ناممکن’ نظر آتا ہے۔ ان کے مطابق صدر کے مواخذے کے لیے پارلیمنٹ (یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ) کے کل ممبران کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اگر نمبر گیم پر نظر دوڑائی جائے تو صدر کو نئی حکومت سے کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔

Back to top button