نئی روٹیشن پالیسی : 10 سال ایک صوبے میں کام کرنیوالا افسر صوبہ بدر ہوگا

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو اور پولیس سروس کےلیے نئی روٹیشن پالیسی 2020 کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔
نوٹی فکیشن کے مطابق نئی روٹیشن پالیسی کا اطلاق یکم جنوری 2021 سے ہوگا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق مرد افسران کےلیےگریڈ 17 سے 19 تک 2 سال ہارڈ ایریاز میں سروس لازمی قرار دی گئی ہے جب کہ گریڈ 18 تک مرد 5، خواتین افسران کی صوبائی حکومتوں میں 3 سال تعیناتی ہوگی۔
نوٹی فکیشن کے مطابق 10 سال تک مسلسل ایک صوبے میں کام کرنے والے افسران صوبہ بدر ہوں گے، تبادلوں، تقرریوں کےلیے سال میں 2 بار افسران کی گریڈ کے حساب سے فہرستیں بنیں گی جب کہ ہارڈ ایریاز میں تعیناتی کے بغیر مرد افسران کو گریڈ 20 میں ترقی نہیں ملے گی۔ نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ گریڈ17 اور اوپر گریڈ کے افسران سنیارٹی کے اعتبار سے ہارڈر ایریاز میں تعینات ہوں گے، مسلسل 10 سال سے زیادہ ایک حکومت میں تعینات افسران کو گریڈ 21 میں ترقی نہیں ملے گی جب کہ افسران اپنی فیملی کےلیے صرف ایک سرکاری رہائش گاہ رکھ سکیں گے۔
تمام حکومتوں کی مشاورت کے بعد روٹیشن پالیسی 2020 کو حتمی شکل دی گئی ہے جب کہ روٹیشن پالیسی 2020 روٹیشن پالیسی 2000 کی جگہ لے گی۔
