نئی ٹیموں کی فروخت سے PSL کی کمرشل ویلیو میں ہوشربا اضافہ

 

 

 

 

پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں فرنچائز نیلامی کے دوران تب ایک نیا مالی ریکارڈ قائم ہو گیا جب لیگ میں شامل ہونے والی دو نئی ٹیمیں موجودہ پی ایس ایل کی پانچ ٹیموں کی مجموعی سالانہ فیس سے بھی زیادہ پر فروخت ہوئیں۔ دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے ساتھ ہی پاکستان سپر لیگ کی مجموعی مالی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا جس سے لیگ کی کمرشل ویلیو ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

 

پاکستان سپر لیگ میں دو نئی ٹیموں کی شمولیت کے لیے نیلامی کا عمل جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوا، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کار گروپس نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔ اس نیلامی کے نتیجے میں پی ایس ایل کی ساتویں ٹیم حیدرآباد جبکہ آٹھویں ٹیم سیالکوٹ کے نام سے لیگ کا حصہ بن گئی۔

نیلامی کے دوران ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی ٹیم ایک ارب 75 کروڑ روپے کی سالانہ فیس پر حاصل کی، جبکہ اوزی ڈیولپرز نے سیالکوٹ کی ٹیم ایک ارب 85 کروڑ روپے میں خریدی۔ اس طرح دونوں نئی ٹیمیں مجموعی طور پر 3 ارب 60 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں، جو پاکستان سپر لیگ کی تاریخ میں کسی بھی نیلامی میں حاصل ہونے والی سب سے بڑی مجموعی رقم ہے۔ یہ رقم واضح کرتی ہے کہ پی ایس ایل اب سرمایہ کاروں کے لیے ایک انتہائی پُرکشش برانڈ بن چکی ہے۔

 

اعداد و شمار کے مطابق حیدر آباد اور سیالکوٹ کی دونوں ٹیمیں اگلے 10 برس تک بالترتیب سالانہ 175 کروڑ اور 185 کروڑ روپے کی سالانہ فیس ادا کریں گی، یوں ان دونوں نئی فرنچائزز کی مجموعی سالانہ فیس 360 کروڑ روپے بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں لاہور قلندرز، کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی مجموعی سالانہ فیس 264 کروڑ روپے ہے۔ یعنی صرف دو نئی ٹیموں کی فیس باقی پانچ ٹیموں سے 34 فیصد زیادہ ہے، جو پاکستان سپر لیگ کی مالی ترقی اور بڑھتی ہوئی قدر کو نمایاں کرتی ہے۔

 

پی ایس ایل کے دس سال مکمل ہونے کے بعد فرنچائز معاہدوں کے تحت موجودہ ٹیموں کی نئی ویلیوایشن بھی سامنے آ چکی ہے، جس کے مطابق پرانی فرنچائزز کو اپنی سالانہ فیس میں نئی مارکیٹ ویلیو کے 25 فیصد اضافے کے ساتھ ادائیگی کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ نئی ویلیوایشن کے بعد لاہور قلندرز کی سالانہ فرنچائز فیس 67 کروڑ روپے، کراچی کنگز کی فیس 63 کروڑ 87 لاکھ روپے، پشاور زلمی کی فیس 48 کروڑ 75 لاکھ روپے، اسلام آباد یونائیٹڈ کی فیس 47 کروڑ روپے اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فیس 35 کروڑ 95 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس نئی ترتیب میں لاہور قلندرز مالی اعتبار سے پی ایس ایل کی سب سے مہنگی فرنچائز بن گئی ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کم ترین ویلیو رکھنے والی ٹیم قرار پائی ہے۔

 

واضح رہے کہ پی ایس ایل کے دسویں ایڈیشن میں 108 کروڑ روپے سالانہ فیس ادا کرنے والی ٹیم ملتان سلطانز کے مالکان علی ترین نے اپنی فرنچائز ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد ٹیم کی ملکیت پاکستان کرکٹ بورڈ نے سنبھال لی ہے۔ علی ترین دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے عمل کا حصہ تو بنے تھے لیکن آکشن شروع ہونے سے چند منٹ پہلے انہوں نے اس عمل کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ مہنگی ٹیم خریدنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اس لیے آخری لمحے پر ہاتھ کھڑے کر دیے۔ دوسری جانب چیئرمین محسن نقوی نے فیصلہ کیا ہے کہ پی سی بی رواں سیزن میں ملتان سلطانز خود چلائے گا اور بعد ازاں اس فرنچائز کو نئے خریدار کو فروخت کر دیا جائے گا۔ نئی ویلیوایشن کے مطابق ملتان سلطانز کی سالانہ فرنچائز فیس ایک ارب 37 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی چنانچہ علی ترین نے حیلے بہانوں سے اپنی ٹیم سے جان چھڑوا لی۔ بتایا جاتا ہے کہ نیلامی کے عمل میں شریک ہونے کے لیے علی ترین نے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات کی تھی اور بورڈ کے حوالے سے اپنے سابقہ روپیے پر معافی مانگی تھی۔

 

پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کی نیلامی کے عمل کے دوران سخت اور سنسنی خیز بولی کا مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ پہلے مرحلے میں کم از کم قیمت ایک ارب 10 کروڑ روپے رکھی گئی تھی، جہاں مختلف سرمایہ کار گروپس کے درمیان مقابلے کے بعد ایف کے ایس گروپ نے 175 کروڑ روپے کی حتمی بولی دے کر حیدرآباد کی ٹیم حاصل کی۔ دوسرے مرحلے میں سیالکوٹ کی ٹیم کے لیے بولی کا آغاز 170 کروڑ روپے سے ہوا اور وقفے وقفے سے بڑھنے والی بولیوں کے بعد اوزی ڈیولپرز نے 185 کروڑ روپے کی سب سے بڑی پیش کش دے کر ٹیم اپنے نام کر لی۔ حیدرآباد کی ٹیم خریدنے والے ایف کے ایس گروپ کے سربراہ فواد سرور کا کہنا ہے کہ ان کی حیدرآباد شہر سے گہری وابستگی ہے اور وہ نہ صرف کرکٹ ٹیم بلکہ شہر کے کرکٹ انفراسٹرکچر، خصوصاً اسٹیڈیم کی بہتری کے لیے بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سیالکوٹ کی ٹیم کے مالک اوزی ڈیولپرز کے حمزہ مجید نے کہا کہ سیالکوٹ میں کرکٹ کے جنون کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اس شہر کے شائقین کو ایک کرکٹ ٹیم کا تحفہ دینا چاہتے تھے اور یہی سوچ لے کر وہ نیلامی میں شریک ہوئے۔

کرکٹ اور ملک کو بلندیوں تک لے کرجائیں گے،محسن نقوی

پی ایس ایل کی توسیع کے حوالے سے پی سی بی کا مؤقف ہے کہ آٹھ سال کے وقفے کے بعد دو نئی ٹیموں کی شمولیت کا فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب گیارہویں سیزن سے میڈیا اور کمرشل معاہدے نئے سرے سے طے کیے جائیں گے۔ بورڈ کے مطابق اس مرحلے پر لیگ کو آٹھ ٹیموں تک بڑھانا مالی اور انتظامی اعتبار سے موزوں ترین فیصلہ ہے۔ دو نئی ٹیموں کی ریکارڈ ساز فروخت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان سپر لیگ اب صرف ایک اسپورٹس ایونٹ نہیں رہی بلکہ ایک مضبوط تجارتی برانڈ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے اور جس کی قدر میں آنے والے برسوں میں مزید اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

 

Back to top button