نئی کمزور وفاقی حکومت کے ساتھ عمران کیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ تحریک انصاف کے بانی اور قائد نے اپنی پارٹی کو مسلم لیگ (نون) ،پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے دور رہنے کا حکم دیا۔ وہ حکم جاری ہوا تو پیپلز پارٹی مسلم لیگ (نون) کے امیدوار کی حمایت کو مجبور ہوگئی۔ عمران خان نے گویا حکومت سازی کی ’’بس مس‘‘ کردی ہے۔ دل سے غالباََ عمران خان یہ چاہتے ہیں کہ پی ڈی ایم (2) جیسی حکومت قائم ھو اور وہ دھرنوں وغیرہ کے ذریعے اسے استحکام نصیب ہونے نہ دیں۔ جماعت اسلامی اور مجلس وحدت المسلمین سے تعاون بھی تحریک انصاف حکومت سازی کی خاطر نہیں بلکہ آئندہ حکومت کے قیام میں رکاوٹیں ڈالنے کے علاوہ اس کے استحکام کو ناممکن بنانے کے ارادے سے کررہی ہے۔ اپنی ایک تحریر میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ انتخابی نتائج آنے کے فوری بعد عمران مخالف جماعتیں ہکا بکا رہ گئیں۔ پیپلز پارٹی کو اس انتخاب سے سندھ کے علاوہ کسی اور صوبے سے خاطر خواہ نشستیں ملنے کی امید نہیں تھی۔ بلاول بھٹو زرداری اس کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر پاکستان کے تقریباََ ہر بڑے صوبے کے کسی شہر یا قصبے میں جاتے رہے۔ اپنی توانائی کو یوں انہوں نے آئندہ انتخاب میں سرمایہ کاری کی طرح خرچ کیا۔ بنیادی پریشانی نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ (نون) کو لاحق ہوئی۔ وہ اپنی توقع کے مطابق نتائج حاصل نہیں کرپائی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نتائج آجانے کے بعد سنجیدگی سے اپنے گریبان میں جھانکتے ہوئے ان اسباب کا سراغ لگایا جاتا جو مسلم لیگ (نون) کی مایوسی کا سبب ہوئے۔ ہمیں مگر دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی عادت ہے۔اسی باعث مسلم لیگ کے کئی سرکردہ رہنما سرگوشیوں میں دعویٰ کرتے رہے کہ ان کے ساتھ پنجابی والا ’’ہتھ‘‘ ہوگیا ہے۔اس جماعت کے چند ’’انقلابیوں‘‘ نے نہایت محنت سے ’’کھرا‘‘ یہ بھی نکالا کہ جاوید لطیف جیسے ’’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘‘ لوگوں کو قومی اسمبلی میں آنے نہیں دیا گیا۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ خواجہ سعد رفیق کے بارے میں ایسی ہی داستان گھڑنے کی کوشش ہوئی۔ سعد رفیق مگر ایک بے لوث سیاسی کارکن کے فرزند ہیں۔ لاہور کی گلیوں میں اٹھے اور اس شہر کے مزاج آشنا۔ اپنی جبلت میں شامل سیاسی بصیرت کی وجہ سے کھلے دل کے ساتھ اپنی شکست تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔ سازشی کہانیاں اس کی وجہ سے وہیں دم توڑ گئیں۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ملے ووٹ اندازے سے کہیں زیادہ ’’ثابت‘‘ ہوئے۔ عوام کی کماحقہ تعداد تحریک انصاف نہیں بلکہ ’’قیدی نمبر804‘‘ کو ووٹ دینا چا ہتی تھی ۔اس کی جانب سے کھڑا ہوا ’’کھمبا‘‘ بھی انہیں قبول تھا۔ ملک بھر کے نچلے طبقات بھی اب موبائل فون اور موٹرسائیکل جیسی سواریوں کے مالک ہیں۔ تحریک انصاف نے کمال مہارت سے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے حامیوں کی اکثریت کو آگاہ کردیا کہ ان کے حلقے میں عمران خان نے کونسے امیدوار کونامزد کیا ہے۔اس کا انتخابی نشان بھی مسلسل یاد دلایا گیا۔ اس کے علاوہ بیلٹ پیپر پر مہر لگانے اور اسے تہہ کرکے صندوق میں ڈالنے کا صحیح طریقہ بھی سوشل میڈیاایپس کے ذریعے گھر گھر پہنچادیا۔
نصرت جاوید کے مطابق تحریک انصاف کی محنت بالآخر رنگ لائی۔لوگ بھاری بھر کم تعداد میں اپنے گھروں سے باہر نکلے اور اس کے حمایت یافتہ امیدوار کو ووٹ دئے۔ تحریک انصاف کی مخالف جماعتوں خاص طورپر مسلم لیگ (نون) نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسی بے تابی ہرگز نہیں دکھائی۔ وہ روایتی انداز پر انحصار کرتے رہے۔ ن لیگ اس گماں میں مبتلا رہی کہ ان کے ’’پکے ووٹ‘‘ ازخود گھروں سے نکلیں گے۔ پی ڈی ایم کی حکومت سے مایوس اور ناراض ہوجانے کے باوجود وہ پرامید تھے کہ نواز شریف اگر وزیر اعظم بن گئے تو پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیں گے۔یہ پیغام بھی لیکن موثر انداز میں لوگوں تک پہنچایا نہیں گیا۔لاہور میں سعد رفیق اور روحیل اصغر شیخ جیسے لوگوں کی شکست کا اصل سبب ’’ساڈی گل ہوگئی اے‘‘ والا رویہ تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون کا ’’پکا ووٹر‘‘ روایتی ’’گج وج‘‘ کے ساتھ گھروں سے باہر نہیں آیا۔ شورشرابہ تحریک انصاف کے ووٹرنے بھی نہیں مچایا۔ محتاط انداز میں گھروں سے نکل کر خاموشی سے اپنی ترجیح کے امیدوار کی حمایت میں ووٹ ڈال کر گھر چلے گئے۔نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عاشقان عمران خان نے اپنا فرض ادا کردیاہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ دھاندلی کے دعوے تسلیم کریں تب بھی تحریک انصاف 25سے زیادہ ایسے حلقوں کی نشاندہی نہیں کرسکتی جہاں آخری لمحات میں ہوئی دھاندلی کے امکانات کو یکسر مسترد کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ یہ حقیقت مگر تحریک انصاف کا بدترین دشمن اور ناقد بھی تسلیم کرنے کو مجبور ہے کہ تمام تررکاوٹوں کے باوجود 90کے قریب اراکین ’’آزاد‘‘ حیثیت میں سہی لیکن قیدی نمبر804کی شفقت کی بدولت قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔

Back to top button