نئی گاڑی کا حصول مڈل کلاس کی پہنچ سے باہر کیوں ہو گیا؟


پاکستان میں حکومتی عدم توجہی کے باعث سوزوکی، ہنڈا اور ٹویوٹا کاروں کی اجارہ داری قائم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے نئی گاڑی کا حصول متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکا۔ اس وقت پاکستان میں 10 لاکھ روہے کے اندر کوئی نئی گاڑی خریدنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متوسط طبقہ اور ورکنگ کلاس اب نئی گاڑیاں نہیں خرید رہی بلکہ وہ سیکنڈ ہینڈ یا استعمال شدہ گاڑیاں خریدنے پر مجبور ہے۔
دوسری طرف وزارتِ صنعت و پیداوار کے ماتحت ادارے انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے ترجمان عاصم ایاز کا اصرار ہے کہ پاکستانی حکومت گاڑیوں کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر سکتی کیوں کہ قیمت کا تعین مارکیٹ کے عوامل پر ہوتا ہے، جیسے کہ ڈالر کی قیمت، ٹیکس، ڈیوٹی اور لوکلائزیشن۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں نئی گاڑیوں کی ریٹیل پرائس میں قریب ایک تہائی حصہ ٹیکس کا ہوتا ہے اور کمپنیاں اس حساب سے اپنی گاڑیوں کی قیمت کا تعین خود کرتی ہیں۔
گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال جولائی تا اکتوبر 1000 سی سی اور اس سے بڑی گاڑیوں کی فروخت گزشتہ سال کے مقابلے بڑھی ہے جب کہ نئی چھوٹی گاڑیوں کی فروخت اسی دوران کم ہوئی ہے۔ اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستان میں متوسط طبقہ یعنی مڈل کلاس لوگوں کےلیے اپنی ‘فیملی کار’ خریدنے کا خواب بس خواب ہی رہ گیا ہے۔اس وقت پاکستان میں 10 لاکھ کے اندر کوئی نئی گاڑی خریدنا ممکن نہیں۔ مقامی سطح پر تیار کردہ گاڑیوں کی بات کی جائے تو شاید تین گاڑیاں سوزوکی آلٹو، پرنس پرل اور یونائیٹڈ براوو ہی 15 لاکھ کے اندر دستیاب ہیں۔
عاصم کے مطابق کاروں کی قیمتیں ‘بِگ تھری’ یعنی پاکستان میں بڑی کار بنانے کمپنیاں سوزوکی، ٹویوٹا اور ہنڈا اور نئی کمپنیوں کے درمیان مقابلے سے کم ہوسکتی ہیں۔ وہ یونائیٹڈ کی مثال دیتے ہیں جو حالیہ تاریخ میں شاید وہ واحد کمپنی ہے جس نے ڈالر کی قیمت میں کمی پر اپنی کار براوو کی قیمت بھی کم کی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ انڈیا میں، مثلاً ماروتی کی، گاڑیاں اس لیے سستی ہیں کیوں کہ وہاں لوکلائزیشن یعنی گاڑیوں کی مقامی سطح پر تیاری کی شرح اور مانگ زیادہ ہے جب کہ پاکستان میں اکثر پرزے درآمد کیے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض کاروباری تنظیمیں یہاں کی بڑی موٹر ساز کمپنیوں کو ‘کار مافیا’ قرار دے کر انہیں مینوفیچکررز کے بجائے ‘اسمبلر’ کے نام سے پکارتی ہیں۔
پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ کار فرسٹ کی پراڈکٹ ہیڈ حرا نذیر کے مطابق استعمال شدہ کاروں کا کاروبار لاک ڈاؤن میں بند رہا۔ لیکن بعد ازاں جب نئی گاڑیوں کی قیمتیں بڑھیں تو اکثر لوگوں نے استعمال شدہ گاڑیوں کی طرف پہلے سے زیادہ تعداد میں رُخ کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ پچھلے سال کے مقابلے اس سال پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کا کاروبار کافی بڑھا ہے۔ ان کی کمپنی کے کاروبار میں ہر ماہ کے ساتھ 25 فیصد پیداوار ہوئی ہے۔ زیادہ تر پاکستانی پُرانی گاڑیاں بیچنے یا خریدنے کےلیے روایتی شو رومز کا راستہ اپناتے ہیں لیکن اس عمل کےلیے اب کئی آن لائن طریقے بھی متعارف ہوچکے ہیں۔ کار فرسٹ ان میں سے ایک کمپنی ہے جو پاکستان میں 2016 سے قائم ہے لیکن کووڈ 19 کے دوران عائد پابندیوں کی وجہ سے نسبتاً زیادہ لوگوں نے ان کے ذریعے پرانی گاڑیاں خریدنے یا بیچنے کا انتخاب کیا۔ حرا کہتی ہیں کہ پاکستان میں جون کے بعد سے استعمال شدہ گاڑیوں کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔ یہ وہی وقت تھا جب لاک ڈاؤن کے بعد معاشی بحالی کی طرف جانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال اگست کے بعد سے ان کی کمپنی نے زیادہ استعمال شدہ گاڑیاں خریدیں اور بیچیں، جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ لوگ نئی گاڑیاں لینے کے بجائے استعمال شدہ گاڑیوں تک محدود ہو رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے مطابق ایسا کیوں ہوا، تو ان کا جواب تھا کہ ممکنہ طور پر معاشی مشکلات کے پیش نظر بہت سے لوگوں کو فوراً پیسوں کی ضرورت تھی اس لیے انہوں نے اپنی گاڑیاں فروخت کیں۔ جو لوگ پہلے نئی گاڑی لیتے تھے، اب استعمال شدہ گاڑیاں لے رہے ہیں کیوں کہ قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ خصوصاً مڈل کلاس اور ورکنگ کلاس کے لوگ اب نئی گاڑیاں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔۔۔ بلکہ وہ اب اپنی استعمال شدہ گاڑیاں بیچ رہے ہیں تاکہ فوری طور پر کچھ پیسوں کا انتظام ہو سکے۔ ان کے مطابق بعض لوگ مشکل حالات میں آسان متبادل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں، یعنی وہ نئی گاڑی خریدنے کے بڑے خرچے سے بچنا چاہتے تھے یا فوری طور پر اپنی پُرانی بیچ کر پیسے بنانا چاہتے تھے۔
چھوٹی بڑی آٹو مارکیٹوں میں اکثر گاہک اور مکینک اس بات پر شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں بننے والی گاڑیوں کی قیمت معیار کے اعتبار سے بہت زیادہ ہیں۔ کئی موٹر مکینکس کے مطابق ماضی کے مقابلے اب گاڑیوں میں استعمال ہونے والی چادر پتلی، پینٹ ناقص اور انجن اتنا پائیدار نہیں۔
انجینیئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے ترجمان کے مطابق اب پاکستان میں بننے والی نئی گاڑیاں بنیادی طور پر کچھ معیارات پر پورا اتر رہی ہیں تاہم دیگر ممالک کے مقابلے ان کی خصوصیات مختلف ہوسکتی ہیں۔ ایک سوال پر عاصم ایاز کا کہنا تھا کہ آئندہ سال ملک میں گاڑیوں کی قیمتیں صرف اس صورت کم ہوسکیں گی اگر معیشت مستحکم ہوتی ہے، ڈالر کی قیمت میں واضح کمی، کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد ملکی صنعت میں لوکلائزیشن کو فروغ ملتا ہے اور مزید گاڑیاں متعارف کروائی جاتی ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں کاروں کے ڈیلر اتنے پُرامید نہیں۔ وہ ٹیکسوں میں کمی کے عالاوہ درآمد شدہ گاڑیوں کی آسان دستیابی پر زور دیتے ہیں۔
اگلے سال ماسٹر موٹرز کی 1300 سی سی اور 1500 سی سی کی ایک بڑی گاڑی السون بھی متعارف ہونے جا رہی ہے جس کی قیمت 20 سے 25 لاکھ ہونے کا اندازا لگایا جا رہا ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ اس مقامی کار کو ملک میں ایک بہتر متبادل کے طور پر پیش کریں گے۔ انجینئرنگ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے عاصم ایاز کا کہنا ہے کہ آئندہ سال الیکٹرک گاڑیوں کےلیے ای وی پالیسی بھی منظور کر لی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button