نئے اٹارنی جنرل کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کو پہلا دھچکہ

سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ پر اپنے ساتھی جج قاضی فائز عیسیٰ کی طرفداری کا الزام لگا کر عہدے سے فارغ ہونے والے اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی جگہ لینے والے بیرسٹر خالد جاوید جان کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کیس کی پیروی نہ کرنے کے اعلان کو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں محاذ آرائی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے اٹارنی جنرل نے کپتان کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے عدلیہ سے محاذ آرائی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ یا سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کی جانب سے پیروی نہیں کریں گے۔
باخبر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے برس اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر وزیر اعظم عمران خان نے صدر عارف علوی کو سپریم جوڈیشل کونسل میں قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی سفارش تو کردی تھی لیکن اب پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی بہہ چکا ہے اور وزیراعظم بالکل نہیں چاہتے کہ عدلیہ اور حکومت کے مابین اس معاملے پر محاذرائی میں اضافہ ہو۔ یاد رہے کہ قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف کیس کی سماعت کے دوران پہلے ہی یہ الزام عائد کردیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی بیرون ملک آف شور کمپنی بنا رکھی ہے اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اس سے ملتے جلتے الزام پر سپریم کورٹ کے ہاتھوں نا اہل ہوئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان کی ججوں سے بدتمیزی پر فراغت اور پھر نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے جسٹس فائز عیسی کیس کی سماعت نہ کرنے کا اعلان دراصل حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین بڑھتے ہوئے فاصلوں اور دوریوں کا غماز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد جاوید خان کی طرف سے کیس کی پیروی سے انکار ظاہر کرتا ہے کہ جسٹس عیسیٰ کے معاملے پر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان شدید اختلافات ہیں اور اسی کے نئے اٹارنی جنرل نے محتاط طرز عمل اپناتے ہوئے اس کیس کی پیروی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ خالد جاوید خان نے عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر سپریم کورٹ کے معزز جج کے خلاف بنائے گئے کہ کیس میں حکومت کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ جواب میں ان کو بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں۔
کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کے استعفے کے بعد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں مستقبل کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی موزوں ترین شخص کے انتخاب کے لیے سرگرداں تھے اور آخر کار کپتان نے بیرسٹر خالد جاوید خان کو یہ ایم عہدہ سونپ دیا۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی چھٹی کرائے جانے کے بعد خالد جاوید خان کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کیس میں حکومت کی نمائندگی سے انکار سے اسٹیبلشمنٹ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نے ایک بار پھر عدلیہ کو مثبت پیغام بھجوایا ہے۔ کپتان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان پہلے دن سے یہ تہیہ کر کے بیٹھے ہیں کہ انہوں نے عدلیہ کے ساتھ پنگا نہیں لینا کیونکہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کی سپریم کورٹ کے ذریعے اقتدار سے بے دخلی کو ذہن میں رکھتے ہوئے عمران خان نہیں چاہتے کہ وہ عدالت عظمیٰ کو ایسا کوئی موقع دیں کہ وہ بھی انہیں اسی طرح گھر بھجوا دے۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں یہی وجہ ہے کہ عمران خان نے انور منصور خان کو ججز پر الزام لگانے کے بعد ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ لے کر عدلیہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ جوڈیشری کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔ وزیراعظم کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل انورمنصور نے اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر ججز پر الزام لگایا جو کہ حکومت پر خود کش حملہ کرنے کے مترادف تھا۔ اب نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے جسٹس عیسیٰ کیس کی عدم پیروی میں بھی کپتان کی مرضی شامل ہے کیونکہ یہ ایک متنازعہ کیس ہے۔ چنانچہ اب وزیراعظم کا ماننا ہے کہ ایسا شائبہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت عدلیہ کی دشمن ہے یا اس کے ساتھ محاذ آرائی چاہتی ہے۔
دوسری جانب نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی کے بعد اسٹیبلشمنٹ بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔ سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع، جنرل پرویز مشرف کی سنگین غداری کیس میں پھانسی کی سزا پر نظرثانی اور سپریم جوڈیشل کونسل میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف زیرالتوا ریفرنس پر عدالتی فیصلے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ بہت حساس ہے۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور کوشش تھی کہ نیا اٹارنی جنرل پاکستان بھی کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور کی طرح عدالت عظمی میں ان کیسز کی سماعت کے دوران اسٹیبلشمنٹ کے موقف کی دبنگ ترجمانی کرے اور ان کے مفادات کی نگہبانی کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور سے بڑھ کر کرے۔ تاہم خالد جاوید خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی پیروی سے معذرت کرکے اسٹیبلشمنٹ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جس کے بعد کپتان اور اسٹیبلشمنٹ میں اختلافات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری طرف سابق اٹارنی جنرل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور خان کی جانب سے اپنے بیان پر معذرت اور عہدے سے مستعفی ہونے کے باوجود کپتان اینڈ کمپنی کی مشکلات کم نہیں ہوئیں کیونکہ انور منصور نے کہا ہے کہ جس وقت انہوں نے جج پر جانبداری کا الزام لگایا اس وقت عدالت میں وفاقی وزیر بیرسٹر فروغ نسیم بھی موجود تھے اور بطور اٹارنی جنرل انہوں نے جو ریمارکس دیئے، وفاقی وزیر وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات ان سے آگاہ تھیں اور یہی حکومتی موقف تھا۔ انور منصور خان نے استعفے کے بعد خود پر تنقید کا جواب میں کہا کہ وہ عدالت میں جاکر پھر سے یہ بیان دے سکتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ ان کا ذاتی نہیں بلکہ حکومتی مؤقف تھا، جس کے بعد وفاقی وزیر قانون کو بچانے کے لالے پڑ گئے اور انہوں نے آن دا ریکارڈ انور منصور خان سے معافی مانگی اور کہا کہ وہ ان کے بڑے بھائی کی طرح ہیں۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ انور منصور خان کو گھر بھجوانے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بیرسٹر فروغ نسیم سے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر انہوں نے مزید اسٹیبلشمنٹ کا ماؤتھ پیس بننے کی کوشش کی تو کابینہ میں ان کا مستقبل تاریک ہوگا۔ فروغ نسیم سے واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ وہ انور منصور خان کے انجام سے سبق سیکھیں کیونکہ حکومت کسی صورت بھی عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتی۔ دوسری جانب وکلاء کمیونٹی کی جانب سے فروغ نسیم کے استعفے کے حوالے سے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر انور منصور خان اور فروغ نسیم میں سیزفائر نہ ہوا تو فروغ نسیم کا بھی اپنے عہدے پر برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button