نئے اٹارنی جنرل کی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس لڑنے سے معذرت

نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق کیس لڑنے سے معذرت کرلی ہے۔
عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ و دیگر کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی، اس دوران نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید، وزیر قانون فروغ نسیم و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
خیال رہے کہ وزارت قانون و انصاف نے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے استعفیٰ کے بعد 22 فروری کو خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل برائے پاکستان تعینات کردیا تھا۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنی مرضی کے دلائل دینے پر سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان سے استعفیٰ طلب کر لیا تھا۔ انور منصور خان کی جگہ حکومت نے بیرسٹر خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کیا جس کی تین روز قبل صدر مملکت نے منظوری دی تھی.
24 فروری کے روز دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کیس لڑنے سے معذرت کی اور کہا کہ اس کیس میں مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مقدمے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس درخواست کو قبول کیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن کی اس کیس کے حوالے سے تیاری ہے، جس پر جسٹس عمرعطا بندیال نے پوچھا کہ اگر ایڈیشنل اٹارنی جنرل دلائل دے سکتے ہیں تو آپ کو مزید تیاری کے لیے وقت دیتے ہیں۔ جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ نے 3 ہفتوں کا وقت مانگا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں ملکی مفاد کی خاطر ملک سے باہر جانا ہے لہٰذا 20 مارچ تک مزید وقت دیں کیونکہ وہ کسی ذاتی کام سے بیرون ملک نہیں جا رہے، اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ مارچ میں ہم میں سے ایک جج کو بیرون ملک جانا ہے۔ دوران سماعت جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ التوا دینے میں مسئلہ نہیں ہے لیکن اگلی سماعت پر کوئی التوا نہیں دیں گے، اگلی سماعت پر حکومتی وکیل عدالت کے سامنے پیش ہو۔ بعد ازاں عدالت نے مذکورہ معاملے پر التوا کو منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 30 مارچ تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت میں حکومت کی نمائندگی سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کر رہے تھے تاہم 18فروری کو معاملہ ان کے ایک بیان نے تنازع کھڑا کردیا تھا۔ 18 فروری کو اپنے دلائل کے پہلے روز ہی صورتحال اس وقت ناخوشگوار ہوگئی تھی جب اٹارنی جنرل نے فل کورٹ کے سامنے ایک بیان دیا تھا، جس پر ججز نے انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے بیان سے دستبردار ہونے کا کہا تھا، ساتھ ہی مذکورہ بیان کو ’بلا جواز‘ اور ’ انتہائی سنگین‘ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں 19 فروری کو جسٹس عیسیٰ کے معاملے پر عدالت عظمیٰ میں دوبارہ سماعت ہوئی تھی۔ اس سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ آپ نے اتنی بڑی بات کردی ہے، یہ دلائل کا طریقہ کار نہیں، تحریری طور پر اپنے دلائل دیں، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ تحریری دلائل نہیں دے سکتا، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ اٹارنی جنرل نے بینچ کے حوالے سے 18 فروری کو جو بیان دیا، اس حوالے سے مواد عدالت میں پیش کریں، اگر اٹارنی جنرل کو مواد میسر نہیں آتا تو تحریری معافی مانگیں۔ ساتھ ہی پاکستان بار کونسل نے ایک بیان میں اٹارنی جنرل سے غیر مشروط تحریری معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے ‘غیر معمولی طرز عمل’ پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
جس کے بعد 20 فروری کو انور منصور خان نے اٹارنی جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر مستعفی ہوئے جبکہ حکومت نے کہا تھا کہ ان سے استعفیٰ مانگا گیا۔
