نااہلی کیس: الیکشن کمیشن نے فیصل واڈا پر 50ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نااہلی کیس میں بار بار التوا مانگنے پر وفاقی وزیر فیصل واڈا پر 50ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے وفاقی وزیر فیصل واڈا کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ فیصل واوڈا کے وکیل محمد بن محسن الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوئے اور محمد بن محسن کے معاون وکیل حسنین علی چوہان نے کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست کی۔ معاون وکیل نے کہا کہ وکیل محمد بن محسن ہائی کورٹ کے کیس کے سلسلے میں لاہور میں موجود ہیں اس لیے وہ سماعت پر پیش نہیں ہو سکے۔ فیصل واوڈا کے وکیل کی عدم موجودگی پر الیکشن کمیشن نے برہمی کا اظہار کیا۔ بینچ کے رکن الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارروائی کسی عدالتی کاروائی سے مشروط نہیں، آپ پاور آف اٹارنی لے آئیں، ہم بیان ریکارڈ کر کے فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمیشنر نے کاہ کہ گزشتہ سماعت پر بھی آپ کو جواب جمع کرانے کا آخری موقع دیا گیا تھا اور متعدد مرتبہ جواب جمع کرانے کا موقع دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے بینچ کے رکن ارشاد قیصر نے معاون وکیل سے سوال کیا کہ پاور آف اٹارنی نہ ہونے پر آپ کیس کی پیروی کیسے کر سکتے ہیں اور فیصل واوڈا کے معاون وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا۔ الیکشن کمیشن نے کیس میں بار بار التوا مانگنے پر فیصل واوڈا پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔ درخواست گزار قادر خان مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وکلا کو جواب جمع کرانے کے کئی مواقع فراہم کرچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کی امریکی شہریت ثابت ہونے پر سینیٹ رکنیت معطل کرچکا ہے اور فیصل واوڈا نے بھی کاغذات نامزدگی میں امریکی شہریت چھپائی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر امریکی شہریت پر وضاحت کا موقع دیا تھا، الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کے پاس امریکی شہریت تسلیم کی گئی۔ انہوں نے کا کہ اب ہم فیصل واوڈا کی جانب سے مزید التوا کی درخواستیں مسترد کرتے ہیں اور ان کے عدم تعاون پر الیکشن کمیشن تحقیقاتی اداروں کی مدد لینے پر غور کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن نے آئندہ سماعت پر فیصل واڈا کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے اہلی کیس کی سماعت 24 فروری تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ رواں برس کے اوائل میں ایک انگریزی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے کےلیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کے وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا دوہری شہریت کے حامل تھے۔ وفاقی وزیر فیصل واڈا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی 11 جون 2018 کو جمع کروائے، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ہفتے بعد 18 جون کو منظور ہوئے۔ تاہم اس معاملے کے 4 روز بعد پی ٹی آئی ایم این اے نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں اپنی شہریت کی تنسیخ کےلیے درخواست دی تھی۔
واضح رہے کہ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کر دیتے۔ اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔
