نادرا کسی کی شہریت ختم نہیں کرسکتا

اسلام آباد کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نادرا کی شہریت منسوخ کرنے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نادرا کی شہریت منسوخ کرنا ہر ایک کے لیے موزوں نہیں ہے۔ جج اطہرمن اللہ نے شہریت برقرار رکھنے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور بہت کم پر زور دیا کہ شہریت منسوخ نہ کی جائے۔ جج اتمان اللہ نے کہا کہ نادرا ایگزیکٹو ہے ، لیکن نادرا کا عوام کے ساتھ ذاتی تعلق کیسے ہو سکتا ہے۔ ڈی جی نادرا نے کہا کہ درخواست گزار 1993 میں پیدا ہوا تھا اور اس کا نام والد ہے ، میری بیٹی نہیں۔ کس نے کہا کہ انصاف کا سربراہ کسی شخص کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بہت کم طاقت رکھتا ہے؟ چیف جسٹس نے نادرا کے وکیل کو خبردار کیا کہ اگر اس پر غور کیا جائے تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ نادرا بھوتوں کے ساتھ نہیں کھیل سکتا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ کیا آپ نے نیا قانون پڑھا ہے؟ انفرادی شہریت منسوخ کرنا نادرا کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ شہریت منسوخ کرنا وفاقی حکومت کا خصوصی حق ہے۔ نادرا درخواست گزار پر زیادہ توجہ نہیں دے سکتا۔
