نازش جہانگیر کو پہلی محبت میں دھوکہ کس نے دیا؟

اداکارہ نازش جہانگیر نے کہا ہے کہ نہ جانے کیوں لوگ انہیں مغرور کہتے ہیں جب کہ وہ مغرور نہیں بلکہ انتہائی معصوم ہیں، ساتھ ہی دعویٰ کیا کہ وہ مغرور نہیں بلکہ پیاری ہیں۔

نازش جہانگیر حال ہی میں وصی شاہ کے شو میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے شوبز کیریئر سمیت دیگر معاملات پر کھل کر بات کی۔انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں ماضی میں محبت ہوچکی ہے اور وہ محبت میں اندھی بھی ہوگئی تھیں۔نازش جہانگیر کا کہنا تھا کہ یہ سچ ہے کہ جب کسی کو کسی سے محبت ہوجاتی ہے تب کچھ سمجھ نہیں آتا، بس اسے محبوب اچھا لگتا ہے، محبت میں انسان اندھا، کانا، لولا اور لنگڑا بھی ہوجاتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چوں کہ وہ حقیقت پسند ہیں، اس لیے ان کی محبت زیادہ دیر نہیں رہی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہوں نے کن سے محبت کی اور ان کی محبت ختم ہونے کی وجہ کیا بنی؟ماضی میں یہ اطلاعات تھیں کہ نازش جہانگیر اور اداکار محسن عباس حیدر کے درمیان تعلقات ہیں، تاہم دونوں نے کبھی اس کا کھل کر اظہار نہیں کیا تھا۔

پروگرام کے دوران نازش جہانگیر نے ایک بار پھر بتایا کہ والدہ کے انتقال کے بعد وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوگئی تھیں اور وہ کئی سال تک علاج کرواتی رہیں لیکن کبھی انہوں نے نیند کی گولیاں استعمال نہیں کیں۔ان کے مطابق معروف شخصیت ہونے کے باوجود وہ ذہنی صحت پر کھل کر بات کرتی ہیں تاکہ لوگوں میں ڈپریشن سے متعلق شعور اجاگر ہو۔ پروگرام کے دوران ایک سوال کے جواب میں نازش جہانگیر نے شکوہ کیا کہ نہ جانے کیوں لوگ انہیں دیکھتے ہی کہتے ہیں کہ وہ مغرور ہیں جب کہ وہ انتہائی معصوم ہیں۔ان کے مطابق شاید ان کی شکل ایسی ہے کہ لوگ انہیں دیکھتے ہی مغرور کہتے اور سمجھتے ہیں جب کہ ان میں کوئی غرور نہیں، البتہ وہ پیاری ضرور ہیں، ساتھ ہی انہوں نے دعا کی کہ خدا نہ کرے کہ ان میں کبھی غرور آئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر لوگ ان سمیت دیگر شوبز شخصیات پر غصہ اتارتے ہیں، شاید ایسے لوگوں کا اپنی بیوی یا گرل فرینڈ کے دوسرے بوائے فرینڈ سے جھگڑا ہوا ہوتا ہے، جس کا غصہ وہ ان کی پوسٹس پر آکر نکالتے ہیں۔ اداکارہ نازش جہانگیر نے کہا ہے کہ انہوں نے شوبز میں کام کرنے کے حوالے سے اپنی حدود کا تعین کر رکھا ہے اور وہ کبھی بھی، کسی بھی صورت میں بولڈ کام نہیں کرسکتیں۔

’نازش جہانگیر نے بتایا کہ انہوں نے تھیٹر سے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور آغاز میں یقیناً انہوں نے مجبوری کے تحت ہر طرح کے کردار کیے لیکن اس کے باوجود انہوں نے بولڈ کردار نہیں کیے۔اداکارہ نے اپنی نجی زندگی اور خاندان سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پیدائش اسلام آباد میں ہوئی مگر شوبز میں کیریئر بنانے کی وجہ سے وہ کراچی منتقل ہوئیں اور کئی ماہ تک انہوں نے خود کو محدود کر رکھا تھا۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ کراچی منتقل ہونے کے بعد وہ کم از کم 7 ماہ تک ساحلِ سمندر بھی نہیں گئی تھی جب کہ شوبز میں بھی ان کی دوستیاں کم ہیں، کیوں کہ بظاہر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری دوستیوں کے لائق نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں نازش جہانگیر نے کہا کہ آج کل اسکرپٹ زیادہ اچھے نہیں آ رہے لیکن اسکرپٹ کی بہتری کے لیے کوئی آدمی کچھ نہیں کر سکتا اور ماحول کو بدلنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے مثال دی کہ کچھ عرصہ قبل ایک معروف اداکارہ نے حالیہ اسکرپٹس سے تنگ آکر اداکاری نہ کرنے کا اعلان کیا تھا مگر 6 ماہ بعد انہوں نے مسترد کیے گئے اسکرپٹ پر ہی کام کیا، کیوں کہ ان کے پاس اور کوئی آپشن نہیں تھا۔نازش جہانگیر کے مطابق اگرچہ اسکرپٹ اچھے نہیں آ رہے لیکن اس کے باوجود ان ہی اسکرپٹ پر کام کرنا اداکاروں کی مجبوری ہے، کیوں کہ انہیں اپنے گھر بھی چلانے ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں بھی مقبولیت بڑھانے کے لیے طرح طرح کے مشورے دیے گئے اور ان سے کہا گیا کہ وہ اپنی پی آر ٹیم رکھیں، بولڈ کردار کریں اور اسی طرح کے دیگر مشورے بھی دیے گئے۔نازش جہانگیر نے کہا کہ انہوں نے تاحال پی آر ٹیم کی خدمات حاصل کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا اور نہ ہی انہیں اس وقت پیسوں سے سوشل میڈیا پر فالوورز خریدنے کی ضرورت ہے۔

میک اپ سرجری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نازش جہانگیر نے کہا کہ انہیں اپنے تمام جسمانی خدوخال پسند ہیں اور وہ کبھی بھی کسی طرح کی کوئی میک اپ سرجری نہیں کروائیں گی۔ان کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ وہ میک اپ سرجری کے خلاف نہیں ہیں، اگر کسی بھی شخص کو لگتا ہے کہ ان کے جسم کا کوئی عضو اچھا نہیں یا وہ اس میں تبدیلی لانا چاہتا ہے تو وہ ضرور سرجری کروائے مگر وہ ذاتی طور پر اس کی مخالف ہیں۔

Back to top button