نازیہ حسن کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں موت کی وجہ کیا تھی؟

معروف پاپ سنگر نازیہ حسن کی کینسر کے ہاتھوں وفات کے 21 برس بعد ان کے بھائی زوہیب حسن کی جانب سے گڑے مردے اکھاڑتے ہوئے انکے شوہر مرزا اشتیاق بیگ پر اپنی اہلیہ کو زہر دینے کا الزام لگانے کا اصل مقصد کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جسکا جواب دیتے ہوئے اشتیاق بیگ نے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ نازیہ کا بھائی کبھی یہ چاہتا ہی نہیں تھا اس کے اس کی بہن کی شادی ہو. انہوں نے مزید بتایا کہ وفات سے پہلے ان کی اور نازیہ کی مختلف ملکوں میں مشترکہ جائیداد تھی جسے ہتھیانے کے لیے زہیب انہیں بلیک میل کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نازیہ کی وفات پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے ہوئی تھی اور اسکاٹ لینڈ یارڈ نے آج سے بیس برس پہلے 2001 میں اس بات کی تصدیق کر دی تھی۔ اس حوالے سے لندن میں مقیم سینئر صحافی مرتضی علی شاہ نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بھی تصدیق کی ہے کہ برطانوی ریکارڈز ثابت کرتے ہیں کہ نازیہ حسن کی موت زہر یا تشدد سے نہیں ہوئی تھی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ نازیہ کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ گلوکارہ کی موت کی سے کے بعد قدرتی وجوہات سے ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق اس زمانے میں پولیس نے چار ماہ تک نازیہ کی موت کے حوالے سے الزامات کی تفتیش کے بعد یہ نتیجہ نکالا تھا کہ انکا انتقال قدرتی تھا اور انہیں زہر دینے یا تشدد کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ مرتضی علی شاہ کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کے جاسوسوں، ڈاکٹروں کی ایک ٹیم اور نارتھ لندن کے کورونر ڈبلیو ڈولمین کی جانب سے کی گئی مشترکہ تحقیقات کے بعد یہ اعلان کیا گیا تھا کہ نازیہ حسن کی موت ’’قدرتی وجوہات‘‘ سے ہوئی اور ان کے جسم میں زہر یا کوئی اور زہریلا مادہ نہیں پایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ نازیہ حسن کا انتقال 13 اگست 2000 کو ہوا لیکن حکام نے پانچ ماہ بعد 9 جنوری 2001 کو اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ماہر ٹیم کی سربراہی میں فرانزک تحقیقات کے بعد ان کی لاش کو ورثا کے حوالے کیا تھا جبکہ جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا۔ وفات کا سرٹیفکیٹ، نازیہ کی موت کی وجوہات کی مکمل تحقیقات کے بعد نو جنوری 2001 کو لندن کی برینٹ کونسل کے رجسٹرار ایس پالومبو نے جاری کیا تھا، برطانوی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی فائنڈنگز میں بتایا تھا کہ نازیہ حسن کی موت کی وجہ پلمونری تھرومبو امبولزم یعنی رگوں میں انجماد خون اور بائیں پھیپھڑوں کا سرطان تھی اور اس میں سازش کا کوئی پہلو سامنے نہیں آیا تھا۔
دوسری جانب مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ نازیہ حسن کی موت کے حوالے سے الزامات آج سے بیس برس پہلے برطانوی تحقیقاتی اداروں نے مسترد کر دیئے تھے لیکن زوہیب حسن مذموم مقاصد کے تحت اب گڑے مردے اکھاڑ رہا ہے اور انہیں بلیک میل کر رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ برینٹ کونسل کے جاری کردہ میڈیکل ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے بعد الزامات کا کوئی جواز نہیں رہتا کیونکہ موت کا سرٹیفکیٹ واضح ہے اور تصدیق کرتا ہے کہ نازیہ کی وفات قدرتی وجوہات سے ہوئی۔
دوسری جانب امیگریشن اور خاندانی معاملات سے نمٹںے والی ملٹن کینز کی برطانوی وکیل فرحانہ راٹھور کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے کہ نازیہ حسن نے اپنے شوہر کے خلاف کچھ الزامات لگائے ہوں جیسا کہ شادیوں میں خرابی کے بعد اکثر ہوتا ہے لیکن شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا اور اشتیاق بیگ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ اسکے علاوہ میڈیکل ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ نازیہ حسن اپنی وفات کے وقت اشتیاق بیگ کے عقد میں تھیں اور انکی طلاق نہیں ہوئی تھی۔ مرزا اشتیاق بیگ کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ وفات کے وقت نازیہ ان کی اہلیہ تھیں اور طلاق کے حوالے سے زوہیب حسن کی طرف سے کیا جانے والا دعوی جھوٹ کا پلندہ ہے۔
