ناکام PTIامیدواروں کو ٹربیونلز سے ریلیف ملنا ناممکن کیوں؟

انتخابی نتائج کے خلاف ہائی کورٹ سے درخواستیں مسترد ہونے پر پاکستان تحریک انصاف وقتی طور پر نا صرف بند گلی میں جاتی نظر آتی ہے بلکہ امیدواروں نے نتائج کے خلاف الیکشن کمیشن کے بجائے ہائی کورٹ سے رجوع کر کے اپنا اور عدالت کا وقت بھی ضائع کیا ہے۔ عام انتخابات کے نتائج سے متاثرہ امیدواروں کی داد رسی کے لئے الیکشن ٹربیونلز اور اس کے بعد اپیل کے فورم دستیاب ہیں مگر ان کے فیصلے کتنی دیر میں آ سکتے ہیں، اس بارے قانونی ماہرین کے مطابق بظاہر 120 روز میں انتخابی عذر داریوں پر فیصلے آنے کا امکان ہے۔ تاہم جس طرح پی ٹی آئی کےحمایت یافتہ آزاد اراکین کی جانب سے بے بنیاد الزامات اور جعلی فارم 45 کی بنیاد پر انتخابی نتائج چیلنج کئے جا رہے ہیں ان مقدمات میں ہارنے والے امیدواروں کو کسی قسم کا ریلیف ملنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔

قانونی ماہرین انتخابی نتائج کو براہ راست ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بڑے اچھے وکلا، خاص طور پر سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ جیسے قابل وکلا نے داد رسی کا متبادل فورم دستیاب ہونے کے باوجود آئینی دائرہ اختیار میں درخواست دائر کی، یہ نا صرف غیر قانونی تھا بلکہ بد نیتی پر بھی مبنی تھا۔ یہ کوشش انتخابی نتائج کو سکینڈلائز کرنے کے مترادف ہے جبکہ سب کو علم ہے کہ نتائج کو صرف الیکشن کمیشن میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ہارنے والے امیدواروں کو چاہیے تھا کہ 3 روز کے اندر اندر الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کرتے، اب وہ 3 دن بھی گزر چکے ہیں لہٰذا شکست سے دوچار امیدواروں کو 45 روز کے اندر الیکشن ٹربیونلز سے رجوع کرنا ہو گا۔

ان کے مطابق الیکشن ٹربیونلز میں انتخابی عذر داری دائر کرنے کے بعد متاثرین اپنے الزامات کو ثابت کریں گے۔ بالکل اسی طرح جس طرح کسی دیوانی نوعیت کے کیس میں جواب داخل کروائے جاتے ہیں، پھر اپنے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد لائے جاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی مشاورت سے قومی اسمبلی کے حلقہ کے لئے ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل الیکشن ٹربیونل اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ کے لیے سیشن جج پر مشتمل الیکشن ٹربیونل تشکیل دے گا اور الیکشن ٹربیونلز 120 روز میں ان انتخابی عذر داریوں پر فیصلے کرنے کے پابند ہوں گے۔

 تحریک انصاف کے امیدواروں نے جس دروازے پر دستک دی اسی در نے انہیں متعلقہ فورم پر بھیج دیا ہے۔ اس در سے پہلے بھی ایک فورم موجود تھا، انہیں پہلے اس فورم سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ انتخابی نتائج سے متاثرہ امیدواروں کو چاہیے تھا وہ الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرواتے، انتخابی نتائج کے خلاف داد رسی کے لیے ہائی کورٹ پہلا مناسب فورم نہیں ہے۔ ہائی کورٹ میں اپیل کی سطح پر درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔ اب تحریک انصاف کے پاس الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔

قانونی ماہرین کے مطابق ریٹرننگ آفیسر کا کردار اب ختم ہو چکا ہے، قانون کے مطابق اب الیکشن ٹربیونلز بنیں گے اور ان کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں۔ چاہے گنتی کا معاملہ ہو یا پھر دھاندلی کا الزام ہو، قانون کے مطابق اس پر پہلا فیصلہ الیکشن ٹربیونل ہی کر سکتا ہے۔ الیکشن ٹربیونل یہ دیکھے گا کہ انتخابی نتائج کی گنتی میں اگر کوئی کمی بیشی ہوئی ہے تو اسے درست کرے گا اور پھر رزلٹ کے مطابق اگر جیتے ہوئے امیدوار کو شکست ہوئی تو پھر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو فوقیت حاصل ہو گی۔ الیکشن ٹربیونل نے یہ دیکھنا ہے کہ انتخاب کے دوران غیر قانونی عمل کہاں پر ہوا، اسی کے مطابق فیصلہ ہو گا۔ الیکشن ٹربیونل یہ حکم نہیں دے سکتا کہ نئے انتخابات کروائے جائیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق انتخابی نتائج کے خلاف الیکشن قانون میں دو طرح کی داد رسی دستیاب ہے۔ پہلا راستہ یہ کہ انتخاب کے اگلے روز سے تین دن کے اندر اندر متاثرہ فریق الیکشن کمیشن کے پاس درخواست دائر کر سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 142 کے تحت کامیاب امیدوار کے گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد 45 روز کے اندر متاثرہ امیدوار الیکشن ٹربیونل میں درخواست دائر کر سکتا ہے۔ ٹربیونل کے فیصلے کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ داد رسی کے متبادل فورم موجود ہونے کی صورت میں رٹ درخواست دائر نہیں کی جا سکتی اور نا ہی ایسی درخواست قابل سماعت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے امیدواروں کی درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی ہیں اور الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم اس ساری مشق میں عمرانڈوز کو کسی قسم کا ریلیف ملتا نظر نہیں آتا۔

Back to top button