ندیم افضل چن ’مختارے‘ کو منظر عام پر لے آئے

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ندیم افضل چن کی آڈیو لیک ہونے کے بعد مشہور ہونے والے مختار احمد المعروف مختاریا منظر عام پر آگئے ہیں، مختار احمد کا تعلق حافظ آباد سے ہے جب کہ ان کے چار بیٹے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے اور ندیم افضل چن کے بہت درینہ تعلقات ہیں اور اس طرح کی تکرار ہوتی رہتی ہے لیکن اس دن انہوں نے بہت غصے میں مجھے میسج کیا جس پر میں نے فوری عمل کرتے ہوئے اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کردی اور گھر چلا گیا۔
مختار احمد کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں معلوم میسج کس کی جانب سے لیک کیا گیا تاہم اس کی کھوج لگائی جارہی ہے اور جیسے ہی وہ شخص مل جائے گا اس سے آڑے ہاتھوں نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ آڈیو کال لیک ہوگئی ہے تو مجھے انتہائی غصہ آیا اور میں نے کہا کہ کاش وہ شخص میرے ہاتھ آجائے جس نے یہ کام کیا۔
مختار احمد کے مطابق ان کے اور ندیم افضل چن کے 15 سال سے تعلقات ہیں اور وہ ان کی سیاسی سرگرمیاں دیکھتے ہیں، ان کا مزید کہنا ہے کہ میرے دوست میرے نام سے منسوب ویڈیو مجھے بھیجتے رہتے ہیں جنہیں دیکھ کر خوب لطف اندوز ہوتا ہوں، میرے اہل خانہ بھی اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
مختار احمد نے مزید کہا کہ مجھے مختارا کہنے کا حق صرف اور صرف ندیم افضل چن صاحب کا ہے لہٰذا ان کے علاوہ کوئی بھی مجھے اس لقب سے نہ پکارے۔ ندیم افضل چن کی محبت اور خلوص کے باعث ان کو مکمل اختیار ہے کہ مجھے جس مرضی نام سے پکار سکتے ہیں، مختار احمد نے بتایا کہ ندیم افضل چن کے میسج کے بعد مجھے کورونا کی سنگینی سمجھ میں آئی اور خود کو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ 21 دن کےلیے خود کو قرنطینہ کر لیا تاکہ ہم وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن کی ایک وٹس ایپ ریکارڈنگ سامنے آئی تھی جس میں وہ اپنے کسی دوست کو بتا رہے تھے کہ ہزاروں لوگ کورونا سے مر رہے ہیں اور حکومت بتا نہیں رہی ہے اس لیے سب لوگ بچوں کو لے کر گھروں میں چھپ جاؤ۔ اس دوران انہوں نے اپنے علاقے کی مخصوص زبان میں کچھ ناقابلِ اشاعت الفاظ بھی استعمال کیے تھے۔
