نعیم بخاری نے چیئرمین بنتے ہی PTV کے 8 بڑوں کا جھٹکا کردیا


وزیراعظم عمران خان کے وکیل اور تحریک انصاف کی قانونی کمیٹی کے سربراہ نعیم بخاری نے پی ٹی وی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالتے ہی ریاستی ادارے کے آٹھ بڑے افسران کو ایک ہی جھٹکے میں فارغ کر دیا ہے جس سے سراسمیگی پھیل گئی ہے۔ معروف گلوکارہ طاہرہ سید کے سابق شوہر نعیم بخاری کا کہنا ہے کہ انہوں نے بڑی بڑی تنخواہیں لینے والوں کا جھٹکا کیا ہے۔ تاہم یہ فیصلہ پی ٹی وی کی نئے چیئرمین کو مشکلات میں ڈال سکتا ہے کیونکہ برطرف کیے جانے والے افسران نے نعیم بخاری کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان افسران کا کہنا ہے کہ نعیم بخاری کی اپنی تعیناتی مروجہ قوانین کے برخلاف ہے کیونکہ ان کی عمر 68 برس ہے جبکہ اس عہدے پر 65 سال سے اوپر کی عمر کا شخص تعینات نہیں ہو سکتا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن اس وقت ایک نئے بحران کی لپیٹ میں آگیا جب نئے تعینات ہونے والے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز نعیم بخاری نے ریاستی ادارے کے 8 کنٹریکٹ افسران کی خدمات ختم کرنے کے حکم پر دستخط کردیے۔ اس حکم پر ڈائریکٹر پی ٹی وی ایڈمن اینڈ پرسنل کی جانب سے دستخط کیے گئے لیکن منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی عامر منظور کی جانب سے جوابی دستخط نہیں کیے گئے۔آرڈر کے مطابق چیف آف مارکیٹنگ اسٹریٹجی اینڈ کانٹیںٹ خاور اظہر، ان ہاؤس انالسٹ اینڈ برانڈ ایمبیسڈر راشد لطیف، چیف ہیوم ریسورس آفیسر محمد طاہر مشتاق، چیف آف نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز قطرینہ حسین، چیف ٹیکنالوجی آفیسر ناصر نقوی، ایگزیکٹو پروڈیوسر کرنٹ افیئرز خرم انور، ہیڈ آف اسٹریٹجی اینڈ کارپوریٹ کمیونکیشنز عاصم بیگ اور جی ایم سیکیورٹی کرنل (ر) محمد ندیم نیازی کو برطرف کیا گیا ہے۔
مذکورہ حکم میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی وی کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے کیونکہ ادارے میں تقریباً 3 ہزار 560 ریگولر ملازمین ہیں۔اس حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’یہ اصولی فیصلہ کیا گیا ہے کہ زیادہ تنخواہوں پر موجود کنٹریکٹ ملازمین کی تعداد میں تیزی سے کمی کی جائے گی اور وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سمیت سیکریٹری اطلاعات نے اس کی منظوری دی ہے‘۔ پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین نعیم بخاری نے نہ صرف اس حکم پر دستخط کیے بلکہ اس پر ایک نوٹ بھی لکھا کہ ’ یہ حتمی منظوری بورڈ آف ڈائریکٹرز پی ٹی وی سی کی اجازت/ منظوری کے ساتھ دی گئی ہے‘۔
لیکن اس حکم پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی وی کے سابق قانونی مشیر وقاص ملک نے بتایا کہ اس فیصلے کو قانون کی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا، مزید یہ کہ یہ حکم پبلک سیکٹر کمپنیز کارپوریٹ گورننس رولز 2013 کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ رولز پی ٹی وی کے لیے لاگو ہوتے ہیں کیونکہ یہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان کے پاس ایک رجسٹرڈ کمپنی ہے‘۔ سابق مشیر کا کہنا تھا کہ رولز کے مطابق بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بنیادی ذمہ داری پالیسی سازی ہے جبکہ انتظامیہ معاملات منیجنگ ڈائریکٹر کا دائرہ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر منظور نے برطرفی کے حکم پر دستخط نہیں کیے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس فیصلے کے حق میں نہیں تھے۔
خیال رہے کہ وزئر اعظم عمران میر نے گزشتہ ماہ نعیم بخاری کو کنٹریکٹ پر 3 سال کی مدت کے لیے پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین بنایا گیا تھا۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل نعیم بخاری ایک ٹیلی ویژن شو کی میزبانی بھی کرتے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی قانونی ٹیم کے سربراہ بھی ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی ویژن کو تقریباً 2 برس سے پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو بنیادی طور پر بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کے عہدے کے حوالے سے ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک فیصلے میں پی ٹی وی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ارشد خان کی تعیناتی کو منسوخ کردیا تھا۔تاہم عدالت عالیہ نے منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی عامر منظور، چیف آف نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز قطرینہ حسین اور ہیڈ آف مارکیٹنگ اینڈ کانٹینٹ خاور اظہر کی تعیناتی کو قانونی قرار دیا تھا۔ لیکن ہم نعیم بخاری نے قطرینہ حسین کو برطرف کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ نعیم بخاری کو وزیراعظم نے مروجہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ٹی وی کا چیئرمین مقرر کیا ہے چونکہ ان کی عمر 68 برس جبکہ پی ٹی آئی کا چیئرمین 65 برس سے زائد کا شخص نہیں ہو سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button