نواب آف کالا باغ کو انکے بیٹے نے کیوں قتل کیا؟

سخت مزاج اور غصے کے حامل نواب امیر محمد خان عرف نواب آف کالا باغ عجیب و غریب طبیعت کے انسان تھے۔ کسی مظلوم یا غریب پر ظلم ہوتا تو اس وقت تک چین سے نہ بیٹھتے جب تک انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوجاتے، تاہم اپنوں کے ساتھ ان کا رویہ بہت ہی جابرانہ اور آمرانہ تھا اور اسی وجہ سے وہ اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں قتل بھی ہوئے۔
متحدہ پاکستان کے زمانے میں مغربی پاکستان کے سب سے طاقتور گورنر نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان اعوان ایک انتہائی دبنگ شخصیت تھے، انہوں نے پنجاب میں قانون کی بالادستی کی قابل قدر مثال قائم کر دی تھی لیکن خود اپنی جاگیردارانہ عصبیت کے ہاتھوں زچ ہوگئے اور اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوئے، وہ عائلہ ملک اور سمیرا ملک کے دادا تھے۔
کہا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں صدر جنرل ایوب خان کی اصل طاقت نواب آف کالا باغ تھے جن کے جاتے ہی صدر ایوب خان کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہوگیا، جنرل جہانداد نے اپنی کتاب میں نواب آف کالا باغ کی بہت سی خوبیوں اور ان کی ڈکٹیٹر شپ کا جامع نقشہ کھینچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نواب صاھب 26 نومبر 1966 کو اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے، وہ ایوب خان کی حکومت کے ایک اہم ستون تھے اور پرانے فیوڈل لارڈز کا ایک مثالی نمونہ تھے۔
ان کا قتل غیرمعمولی تھا، سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپنی ڈائری میں اس واقعہ کا یوں ذکر کیا کہ جنرل موسیٰ نے دوپہر میں انہیں فون پر بتایا کہ نواب کالا باغ کو ان کے بیٹے نواب اسد خان نے گولی مار کر قتل کر دیا ہے، بتایا گیا کہ نواب آف کالا باغ کی اپنے بیٹے اسد سے کسی بات پر تکرار ہوگئی جس کے نتیجے میں نواب صاحب نے اسد پر دو فائر کیے جن سے اسد کا بازو زخمی ہوگیا، جواب میں مشتعل ہو کر اسد نے بھی اپنے والد پر پانچ فائر کیے جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہوگئے۔ نواب صاحب کی موت بہت ہی المناک تھی مگر اپنے جاگیردارانہ پس منظر کے سبب وہ اپنی ہی عدم برداشت کی پالیسی کا شکار ہوگئے۔
ملک امیر محمد خان المعروف نواب آف کالا باغ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے، مغربی پاکستان کے گورنر بننے سے پہلے پی آئی ڈی سی اور خوراک و زراعت کے چیئرمین رہ چکے تھے، جون 1960 میں انہوں نے مغربی پاکستان کے گورنر کا عہدہ سنبھالا، اس عہدے پر وہ 18 ستمبر 1966 تک فائز رہے، 1962 اور 1965 کے انتخابات میں ایوب خان کی کامیابی میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے رعب اور دبدبے کا یہ عالم تھا کہ وہ خود مسلم لیگ کے رکن نہیں تھے لیکن اس کے باوجود کسی بھی رکن کو مسلم لیگ کا ٹکٹ ان کی مرضی کے بغیر جاری نہیں ہو سکتا تھا، گورنری سے مستعفی ہونے کے بعد وہ اپنی جاگیر پر واپس چلے گئے۔
نواب آف کالا باغ کی میت کو جس کسمپرسی کے عالم میں دفن کیا گیا وہ عبرت کا نمونہ تھی۔ جس شخص کا رعب و دبدبہ پورے مغربی پاکستان پر چلتا تھا اس کے جنازے میں گنتی کے چند لوگ موجود تھے، نواب آف کالا باغ کی موت ایوب خان کی سیاست اور اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی، کہا جاتا ہے کہ 65 کی جنگ کے بعد جب بھٹو اور ایوب خان میں معاہدہ تاشقند پر اختلاف پیدا ہوا تو بعد ازاں ایوب خان اور نواب امیر محمد خان میں بھی ان بن ہوگئی اور یوں وہ سنگلاخ دیوار جو نواب آف کالا باغ کے روپ میں ان کے مخالفین کی راہ میں حائل تھی وہ ہٹ گئی اور اگلے ہی برس ایوب خان کو اپوزیشن نے زچ کرکے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button