نوازاور بلاول کا نیا چارٹرآف ڈیموکریسی سائن کرنے کا فیصلہ


معلوم ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی نواز شریف سے لندن میں ہونے والی ملاقاتوں کا بنیادی مقصد پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین ایک نیا چارٹر آف ڈیموکریسی یا میثاق جمہوریت سائن کرنا ہے جیسا کہ ماضی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے کیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے مابین پاور شیئرنگ کے حوالے سے تمام اختلافی امور طے پا گئے ہیں اور صدارت اور چیئرمین سینٹ کے عہدے پیپلزپارٹی کو دینے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ 14 مئی، 2006 کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان لندن میں ہونے والے چارٹر آف ڈیموکریسی کی طرح ایک نیا میثاق تیار کیا جارہا ہے جس پر بلاول بھٹو اور نواز شریف سائن کریں گے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے مشرف دور میں جمہوریت کی بحالی، غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے زیرانتظام فوری انتخابات منعقد کرانے اور ایک دوسرے کے ’مینڈیٹ، کا احترام کرنے کے لیے باضابطہ طور پر تحریری معاہدہ کیا تھا جس کو زندہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے بتایا ہے بلاول اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد ایک ملاقات اور ہوگی جس میں چارٹر آف ڈیموکریسی کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد دونوں پارٹیوں کے درمیان طویل مدت کے لیے رشتے مضبوط کرنا اور ان آئینی و قانونی معاملات پر قانون سازی پر اتفاق کرنا تھا جو ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ یعنی میثاق جمہوریت میں رہ گئے تھے۔ یاد رہے کہ بلاول بھٹو کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کی ٹیم کی نواز شریف اور ان کی ٹیم سے 21 اپریل کو طویل ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف اور بلاول بھٹو نے کئی بار ’چارٹر آف ڈیموکریسی‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ ایک بار پھر اس تاریخ کو دہرانا چاہتے ہیں۔
سال 2006 کے دوران بلاول بھٹو کی والدہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت کے معاہدے میں دونوں جماعتوں نے بعض آئینی ترامیم، سیاسی نظام میں فوج کی حیثیت، نیشنل سکیورٹی کونسل، احتساب اور عام انتخابات کے بارے میں اتفاق رائے قائم کیا تھا۔ ملاقات میں موجود ایک رہنما نے بتایا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کے مذاکرات اور پھر اسے حتمی شکل دینے میں لگ بھگ چار برس لگ گئے تھے۔ ان کے مطابق اس میٹنگ کا مقصد بھی پاکستان میں جوڈیشل ریفارمز اور دیگر آئینی اصلاحات پر اتفاق رائے کے ساتھ قانون سازی کرنا تھا۔ میٹنگ میں شریک ایک اور رہنما کے مطابق دونوں جماعتوں کے سربراہان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک اس وقت معاشی، سیاسی اور خارجی تعلقات کے حوالے سے بہت خراب حالات سے گزر رہا ہے اور کوئی ایک جماعت اس کو ان مسائل سے نہیں نکال سکتی، اس لیے سب کو ساتھ چلنا ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری پاکستان واپس جا کر وزارت کا حلف لے لیں گے۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بلاول اور نواز شریف کی ملاقات کے نتیجے میں دونوں جماعتوں کے مابین پاور شیئرنگ فارمولے پر پائے جانے والے اختلافات ختم ہوگئے ہیں اور صدر اور چیئرمین سینیٹ کے عہدے پیپلز پارٹی کو دینے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ صدر کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار آصف علی زرداری ہوں گے جبکہ چیئرمین سینیٹ کی نشست سید یوسف رضا گیلانی کو دی جائے گی۔

Back to top button