نوازشریف اسی ہسپتال داخل ہوں گے جہاں اہلیہ کا انتقال ہوا

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی تشویشناک صحت کے پیش نظر لندن کے ایک نجی ہسپتال میں علاج کے انتظامات مکمل کئے گئے تاکہ نواز شریف کو لندن پہنچتے ساتھ ہی فوری ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق یہ وہی ہسپتال ہے جہاں نوازشریف ماضی میں بھی اپنا دل کا آپریشن کروا چکے ہیں اور ان کی اہلیہ کلثوم نواز نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام لندن کے اسی ہسپتال میں زیرعلاج گزارے تھے۔ تاہم نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکلنے کا تاحال انتظار ہے تاکہ ان کی فوری روانگی کو ممکن بنایا جا سکے۔ ن لیگ کے ذرائع کے مطابق نواز شریف کی لندن روانگی کا معاملہ ان کی طبیعت کی وجہ سے ہنگامی نوعیت کا ہے اس لیے ان کی روانگی کا فیصلہ بھی ہنگامی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے نہ کہ اس معاملے پر سیاست کی جائے۔
یاد رہے کہ جب بیگم کلثوم نواز شریف لندن کے ہسپتال میں زیر علاج تھیں تو نواز شریف کے ناقدین یہ الزام لگاتے تھے کہ میاں صاحب بیگم کی جھوٹی بیماری کی آڑ میں ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ملک واپس نہیں آنا چاہتے۔ 2018 کے انتخابات سے پہلے جب میاں نواز شریف نے ملک واپسی کا فیصلہ کیا تو بھی ان کے سیاسی مخالف یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ان کی اہلیہ بیمار ہیں۔ تاہم نواز شریف ملک واپس آگئے۔ ان کو ان کی بیٹی سمیت گرفتار کرلیا گیا اور جیل پہنچا دیا گیا۔ الیکشن 2018 میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کے بعد عمران خان کو اقتدار سونپ دیا گیا اور اسی دوران بیگم کلثوم نواز کینسر کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ چنانچہ نواز شریف کے سیاسی مخالفین کا یہ الزام جھوٹ ثابت ہوا کہ ان کی اہلیہ بیمار نہیں تھیں۔ آج ایک برس بات پھر اسی طرح کے الزامات نواشریف پر لگائے جا رہے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کا بیرون ملک ہی علاج کروانا بنتا ہے اور اللہ نہ کرے کہ ان کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش آئے جیسا کلثوم نواز کے ساتھ پیش آیا جس کے بعد سے ان کے سیاسی مخالفین کے منہ بند ہوگئے تھے۔
دوسری طرف وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی اس سلسلے میں خصوصی ہدایت ہے کہ نواز شریف کی بیماری کے معاملے پر کوئی سیاست نہ کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نواز شریف کا نام خارج کرنے کا ’عمل مکمل‘ ہو گا، تو ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
قبل ازیں نواز شریف کی لندن روانگی کے بارے میں قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ اتوار کی شب اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ لندن پرواز کر جائیں گے لیکن ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا۔
