نوازشریف کو سزا سنانے والا جج ارشد ملک نوکری سے برطرف

لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کو ویڈیو سکینڈل میں نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی منظوری کے بعد برطرفی کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارشد ملک ویڈیو سکینڈل میں گنہگار پائے گئے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ارشد ملک کو صفائی کا پورا موقع دیتے ہوئے ان انکوائری کے دوران موقف بھی سنا گیا۔ ملزم کے خلاف مس کنڈکٹ کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی کی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملزم ارشد ملک کی ریٹائر کرنے کی دائر2 درخواستیں بھی مسترد کی جاتی ہیں۔ خیال رہے کہ انکوائری آفیسر جسٹس سردار احمد نعیم نے ملزم جوڈیشل افسر کیخلاف انکوائری میں نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے جج ارشد ملک کو ایک جرائم پیشہ گروہ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے خود کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دیے جانے کے الزمات جھوٹے ہیں اور وہ اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ارشد ملک نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ شمولیت اختیار کر رکھی تھی اور اپنے جرم کو تسلیم کرتے ہوئے معافی کی استدعا کی جس کو مسترد کرتے ہوئے اسکی برخاستگی کی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی طرف سے تیار کردہ 13 صفحات پر مشتمل انکوائری رپورٹ میں برطرف جج ارشد ملک کا بیان مسترد کرتے ہوئے قرار دیا گیاتھا کہ ارشد کی نواز شریف ،حسین نواز اور ناصربٹ سے ملاقاتوں کو اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا. ارشد ملک نے اپنے دباؤ کے تحت ملاقات کرنے کے بیان کے دفاع میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جبکہ نواز شریف کے فیصلے کا آخری پیرا بھی جج کے بلیک میل کیے جانے کے بیان کی نفی کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کے تحت کسی جج کو کسی فریق سے ملاقات نہیں کرنی چاہیئے ۔۔ ارشد ملک کا اپنے دفاع میں پریس ریلیز جاری کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی تھی۔ تاہم ارشد ملک نے جرم تسلیم کرتے ہوئے معافی کی استدعا کی۔
احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے حوالے سے تیار کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے قرار دیا تھا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ارشد نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ طور پر شمولیت اختیار کی، ارشد ملک نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیا جس سے ظاہر ہو کہ انھیں خوفزدہ یا ہراساں کیا گیا تھا، انکوائری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم ارشد ملک یہ بھی ثابت نہیں کر سکا کہ اس نے اپنی مرضی کے خلاف تمام متنازع کام کئے، ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ اور مہرغلام جیلانی کی ملزم جوڈیشل افسر سے مسلسل ملاقاتوں سے ثابت ہوتا ہے ارشد ملک تک ان کی رسائی ہمیشہ سے تھی، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف کیخلاف نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کے بعد ملزم افسر جاتی امراءمیں نواز شریف سے ملا، جج ارشد ملک نے کیسز کا فیصلہ کرنے کے بعد دوران عمرہ حسین نواز سے سعودی عر ب میں ملاقات بھی کی، انکوائری رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جج ارشد ملک اپنے اہلخانہ کے ہمراہ عمرہ کرنے گیا اور ناصر بٹ نے پھر سے ملزم افسر سے رابطہ کیا اور حسین نواز سے ملاقات کی.
لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے تیار کی گئی انکوائری رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ ملزم ارشد ملک نے مریم صفدر کی 6 جولائی 2019ءکی پریس کانفرنس کے بعد اپنی بے گناہی کی پریس ریلیز جاری کی، انکوائری رپورٹ کے آخر پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی طرف سے جج ارشد ملک کی برطرفی کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیاتھا کہ احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک پنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 3 بی کے تحت مس کنڈکٹ کے مرتکب پائے گئے پنجاب سول سرونٹس رولز کی دفعہ 4 بی کے تحت ارشد ملک کو نوکری سے برخاست کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔
