نوازشریف کی ضمانت میں توسیع کےلیےعدالت سے رجوع کا فیصلہ

وفاقی حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی کی طبی ضمانت میں مزید توسیع سے انکار اور لندن سے ڈی پورٹ کروانے کی کوشش کرنے کے فیصلے کے بعد ن لیگ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات اور رکن صوبائی اسمبلی عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے نوازشریف کے بیرونِ ملک قیام میں توسیع دینے سے انکار کے تحریری احکامات موصول ہوگئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد، بزدار حکومت کا فیصلہ اس ہفتے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی وہ جماعت ہے جس نے سیاستدانوں کی صحت پر سیاست کرنے کا کلچر متعارف کروایا ہے۔ نوازشریف کی تمام میڈیکل رپورٹس پنجاب حکومت کے پاس جمع کروائی گئی تھیں لیکن وہ صرف عمران خان کو خوش کرنے کےلیے سابق وزیراعظم کے بیرونِ ملک قیام میں توسیع دینے سے انکار کررہی ہے، اس سے قبل بھی نوازشریف کو ریلیف حکومت نے نہیں بلکہ عدالت نے دیا تھا۔
اس سلسلے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ متعلقہ حکومتی محکمے آئندہ آنے والے ہفتوں میں برطانیہ کو خط لکھنے کا کام شروع کریں گے۔
نواز شریف کی صحت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران نہ تو انہیں کسی اسپتال میں داخل کروایا گیا نہ ہی ان کی کوئی سرجری ہوئی چنانچہ اب وقت ہے کہ بیرونِ ملک پر تعیش قیام کرنے والے وی آئی پی قیدی کو واپس لایا جائے‘۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت پنجاب نے نوازشریف کی ضمانت میں توسیع دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں توسیع کےلیے درکار ’قانونی، اخلاقی یا طبی بنیادوں‘ پر کوئی جواز نہیں ملا۔
قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کو چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت دی تھی، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ملز ریفرنس کیس میں ان کی ضمانت منظور کی تھی جس سے سابق وزیراعظم کے بیرونِ ملک جانے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔
تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں کہا تھا کہ (8 ہفتوں کے بعد) اگر انہیں علاج کے لیے مزید وقت درکار ہو تو وہ پنجاب حکومت سے رجوع کریں، بعدازاں 19 نومبر کو نواز شریف علاج کےلیے لندن پہنچ گئے تھے اور تاحال وہیں مقیم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button