نواز شریف آج بھی 1988 والی آئی جے آئی کیوں چلا رہے ہیں؟

انتخابات کے حیران وپریشان کن نتائج کی پیش بندی کی خاطر ہمارے ہاں ایک نظام 1988ء کے الیکشن سے متعارف کروایا جاچکا ہے۔ تب پیپلز پا رٹی کے تمام مخالفین کو راتوں رات بنائی گئی آئی جے آئی (IJI)میں یکجاکردیا گیا تھا۔ آج عمران خان کے مخالف ووٹ بھی مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔انہیں اب اسی طرح یکجاکرنا مقصود ہے جیسے 1988ءکے انتخاب سے قبل پیپلز پارٹی کے مخالف ووٹوں کو IJI کی صورت اکٹھا کیا گیا تھا اور مذکورہ عمل کا آغاز نواز شریف کی منگل کے روز کوئٹہ میں موجودگی سے ہوچکا ہے۔پاکستان کے تین بار رہے وزیر اعظم بلوچستان میں ”بندوبست دوامی“کی بدولت ابھرے ان ”الیکٹ ایبلز“ کی دلجوئی میں مصروف ہیں جنہوں نے 2017ءمیں ان کی جماعت کی کمر میں چھرا گھونپ کر مسلم لیگ (نون) کی 2018ء کے انتخاب میں شکست یقینی بنائی تھی۔ ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار نصرت جاوید نے اپنے ایک کالم میں کیا ھے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ نواز شریف 1980ءکی دہائی میں سیاست میں متحرک ہوئے تھے۔ جنرل ضیاء کے مارشل لاءکی چتھری تلے اقتدار کی مبادیات جان لینے کے بعد بتدریج ”جمہوریت“ کی جانب راغب ہوئے اور انتخابی عمل کی بدولت ہی آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے 1985ءمیں وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔وہ اس منصب پر 1988ءمیں جنرل ضیاءکی رحلت اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی وفاقی حکومت قائم ہوجانے کے باوجود ”جمہوری اور انتخابی عمل“ کی بدولت ہی برقرار رہنے کے قابل ہوئے اور بالآخر 1990ءمیں ایک بار پھر ”انتخابی اور جمہوری عمل“ ہی انہیں وطن عزیز کا پہلی بار وزیر اعظم ”منتخب“ کروانے کا باعث ہوا۔ تاریخ بتاتی ھے کہ ”سلطانی جمہور“ کا دور آنے سے قبل ہمارے ہاں برطانوی سامراج کا متعارف کردہ نظام تھا۔ اس نظام نے ”بندوبست دوامی“ کے ذریعے زمینداروں کی ایک مخصوص نسل تیار کی تھی جو تاج برطانیہ سے وفاداری کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتی تھی۔ ”بندوبست دوامی“ کے قیام سے قبل مغلیہ سلطنت کے زوال تک زمین ریاست کی ذاتی ملکیت تصور ہوتی تھی۔دہلی میں بیٹھا سلطان یا بادشاہ اپنے زیر نگین علاقوں میں مختلف لوگوں کو ”پنج ہزاری“ یا ”دس ہزاری“ کے منصب پر فائز کرتا ”پنج ہزاری“ کا مطلب یہ تھا کہ اس منصب پر فائز ہونے والا شخص جنگ کے دنوں میں بادشاہ کو پانچ ہزار سپاہی فراہم کرے گا۔یہ سپاہی اور ان کے گھوڑے ہمہ وقت تیار رکھنے کے لئے منصب دار کو زمین کے وسیع تر رقبے الاٹ کئے جاتے تھے۔ اس رقبے کی ملکیت مگر منصب دار کے خاندان کو منتقل نہیں ہوتی تھی۔ ”پنج ہزاری“ کے انتقال کے تین دن بعد بادشاہ یہ طے کرتا کہ نیا پنج ہزاری کون ہوگا۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ بنگال پر قبضے کے بعد ہمارے خطے میں بادشاہوں اور سلطنتوں کے عروج وزوال سے انگریزوں نے یہ سیکھا کہ یہاں کی زمین اشرافیہ کے تمام خاندانوں پر مستقل بنیادوں پر بانٹ دی جائے۔ زمینی بندوبست کے ذریعے لہٰذا جاگیرداروں اور زمین داروں پر مشتمل دائمی اشرافیہ تشکیل دی گئی جو تاج برطانیہ سے ہر صورت وفاداری نبھانے کو آمادہ رہتی۔ یہ مخلوق ”تبدیلی“ سے ہمیشہ خوف کھاتی رہی۔
برصغیر پر اپنا تسلط جمالینے کے بعد انگریزوں نے بتدریج مقامی اشرافیہ کو اقتدار و اختیار میں حصہ دار بنانے کا ڈھونگ رچانا بھی شروع کردیا تھا۔ بات ضلعی حکومتوں سے چلتی ہوئی ”منتخب“ صوبائی حکومت کے قیام تک پہنچی۔ انتخاب ان اداروں کے مگر بالغ رائے دہی کی بنیاد پر نہیں ہوا کرتے تھے۔ووٹ دینے کا حق فقط چند مراعات یافتہ طبقات ہی کو میسر تھا۔ مراعات یافتہ طبقے کی سہولت اور دلداری کے لئے متعارف کردہ ”جمہوریت“ نے بالآخر ہمیں ایک مخصوص طبقے سے روشناس کروایا جسے ہم آج کے دور میں ”الیکٹ ایبلز“ پکارتے ہیں۔1970ءسے ہمارے ہاں ہر بالغ شخص ووٹ دینے کا حقدار ہے۔1970ءکے انتخاب میں تاہم یہ حق پہلی بار استعمال ہوا تو پاکستان اس کے نتیجے میں دولخت ہوگیا۔ آج کے پاکستان میں بھی برطانوی دور سے بلدیاتی اور صوبائی اداروں کے لئے مستقل منتخب ہونے والے کئی ”خاندانی“افراد کے 1970ءکے انتخاب کے دوران پنجابی محاورے والے ”برج الٹ گئے“ تھے ۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ریاست پاکستان کے دائمی اداروں نے 1970ءکے انتخابی نتائج کی بدولت رونما ہوئی خلفشار کی بنیاد پر یہ فیصلہ کررکھا ہے کہ ”انتخابی عمل“ حیرانیوں کا سبب ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔انتخابات کے حیران وپریشان کن نتائج کی پیش بندی کی خاطر ہمارے ہاں ایک نظام 1988ءسے متعارف کروایا جاچکا ہے۔مذکورہ انتخاب میں پیپلز پا رٹی کے تمام مخالفین کو راتوں رات بنائی آئی جے آئی (IJI)میں یکجاکردیا گیا تھا۔ اس کی بدولت پیپلز پارٹی مخالف ووٹ تقسیم نہ ہوئے۔بالآخر محترمہ بے نظیر بھٹو کو وفاق،سندھ ا ور ان دنوں کے صوبے سرحد میں عددی اعتبار سے کمزور حکومتیں تو مل گئیں لیکن آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ پنجاب پیپلز پارٹی کو نصیب نہ ہوا۔ بلوچستان بھی اکبر بگتی کے سپرد ہوگیا۔ 1988ءمیں آئی جے آئی کی صورت تشکیل کردہ نظام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ توانا سے توانا تر ہوتا چلا گیا ہے۔حکومتوں کی تشکیل بنیادی طورپر اب ”انتخابی بندوبست“ کی وجہ سے ہوتی ہے۔”الیکٹ ایبلز“ اس بندوبست کوتوانا تر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔2018ءکے انتخاب سے قبل ”سیٹی بجی“ تو ان کی اکثریت نواز شریف سے کھسک کر عمران خان کے گرد جمع ہونا شروع ہوگئی اور اکتوبر2021ءسے ان کی عمران سے علیحدگی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔اب عمران خان اور ان کی جماعت انتخابی میدان وعمل کے حوالے سے مکمل طورپر تنہا ہیں۔ان کے مخالف ووٹ مگر مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں۔انہیں اب اس طرح یکجاکرنا مقصود ہے جیسے 1988ءکے انتخاب سے قبل پیپلز پارٹی کے مخالف ووٹوں کو IJIکی صورت اکٹھا کیا گیا تھا اور مذکورہ عمل کا آغاز نواز شریف کی منگل کے روز کوئٹہ میں موجودگی سے ہوچکا ہے۔ مسلم لیگ نون کے ماضی کے ”غدار“ اب وفاداری کا یقین دلارہے ہیں اور فضا ایسی بنائی جارہی ہے کہ رقبے کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں مسلم لیگ (نون) اپنے تئیں وہاں کی صوبائی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ کے لئے درکار نشستیں حاصل کرلے۔ یہ ممکن نہ ہوا تو کم از کم وہاں کی واحد اکثریتی جماعت بن کر ابھرے اور 2017ءمیں اسے الیکٹ ایبلز کی طاقت سے زیر کرنے والی باپ پارٹی سے مل کر صوبائی حکومت بنالے۔بلوچستان کے ”پنج ہزاری“ اور ”دس ہزاری“ گویا نواز شریف کے حوالے کئے جارہے ہیں۔باقی صوبوں میں کیا گیم لگے گی؟ اس کا جواب جاننے کے لئے چند روز انتظار کرنا ہوگا
