نواز شریف اپنی بیٹی کی خاطر وزارت عظمٰی کی دوڑ سے باہر ہوئے؟

نواز شریف کی بجائے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ کے لیے نامزدگی کے بعد جہاں لیگی ورکرز میں مایوسی پھیل گئی، وہیں سیاسی حلقوں میں بھی لیگی قیادت کا یہ فیصلہ زیر بحث ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کےمطابق نواز شریف نے اپنی بیٹی مریم نواز کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کی خاطر وزیر اعظم نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اگر نوازشریف وزیر اعظم بنتے تو لامحالہ وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف کو بنایا جاتا تاہم نواز شریف نے مریم نواز کی خاطر اپنی چوتھی بار وزیراعظم بننے کی خواہش کی قربانی دے دی۔
مبصرین کے مطابق انتخابات سے قبل مسلم لیگ (ن) نے دعویٰ کیا تھا کہ وزارت عظمیٰ کے لیے پارٹی کا انتخاب نواز شریف ہوں گے، جس کی تصدیق عام انتخابات سے قبل پارٹی کی جانب سے ایک بھرپور میڈیا مہم کے ذریعے بھی کی گئی تھی۔تاہم مسلم لیگ (ن) سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی، جس کے نتیجے میں 3 بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف کے بجائے شہباز شریف کے وزیراعظم کے امیدوار بننے کی راہ ہموار ہوئی۔اب جبکہ نواز شریف بظاہر ’سائیڈ لائن‘ ہو چکے ہیں، اس لیے پارٹی کے عام اراکین کو یہ حقیقت قبول کرنا مشکل ہو رہا ہے، گزشتہ روز ’ایکس‘ پر’پاکستان کو نواز دو’ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے حامیوں کی جانب سے ایک لاکھ سے زائد ٹوئٹس کی گئیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے متعدد ٹوئٹس میں یہ سوالات پوچھے جا رہے تھے کہ ’پاکستان کو نواز دو‘ کے انتخابی نعرے کا کیا ہوا اور کیا نواز شریف کا سیاسی کیریئر ختم ہو گیا؟
اسی طرح نواز شریف کے پولیٹیکل سیکریٹری سینیٹر آصف کرمانی نے بھی ممکنہ مخلوط حکومت کی قیادت کے لیے شہباز شریف کی بطور وزیراعظم نامزدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ نواز شریف نے مخلوط حکومت کی وزارت عظمی ٹھکرا کر دلیرانہ اور مدبرانہ فیصلہ کیا لیکن ان کے ووٹرز، سپورٹرز اور چاہنے والے، جنہوں نے ’پاکستان کو نواز دو‘ کے نعرے پر مسلم لیگ ( ن ) کو ووٹ دیا، انہیں اِس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے۔
شریف خاندان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہونے کا فیصلہ اپنی بیٹی مریم نواز کے لیے کیا ہے، جو پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں گی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف مخلوط حکومت میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھال سکتے تھے لیکن پھر مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب نہ بن پاتیں، اپنی بیٹی کی محبت کی خاطر نواز شریف نے چوتھی بار وزیراعظم بننے کی خواہش قربان کردی۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ اگر شہباز شریف کے بجائے نواز شریف ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتے تو شہباز شریف کو پنجاب کی قیادت سنبھالنے کے لیے کہا جاتا تاہم اب شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کر کے نواز شریف نے اپنی سیاسی جانشین بیٹی کیلئے وزارت اعلٰی کی راہ ہموار کر دی ہے۔
خیال رہے کہ نواز شریف کی 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی کے بعد یہ نعرے لگنے شروع ہوگئے تھے کہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم پاکستان بنیں گے۔مریم نواز اور شہباز شریف نے بھی عوام کو بتایا تھا کہ ن لیگ کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار نواز شریف ہیں، ن لیگ نے پورے پاکستان میں اسی بات کی کیمپین کی تھی۔ اخباری اشتہارات کے ذریعے بھی عوام کو بتایا تھا کہ نواز شریف وزیر اعظم پاکستان بن گئے، عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔نواز شریف کو ٹکٹوں کی تقسیم سے لیکر جلسوں میں نواز شریف وزیراعظم کا تاثر دیا گیا۔
تاہم ن لیگی ذرائع کے مطابق کہ نواز شریف جب پاکستان آئے تو پارٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ عوام کو یہی تاثر دینا ہے کہ نواز شریف اگلے وزیراعظم ہونگے تاکہ عوام نواز شریف کی وجہ سے ن لیگ کو ووٹ دے، کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس ملکی مسائل کا واحد حل نواز شریف ہیں، لیکن شریف خاندان نے پہلے ہی یہ فیصلہ کیا ہوا تھا کہ اگر مخلوط حکومت بنے گئی تو ن لیگ کی طرف سے شہباز شریف وزیر اعظم کے امیدوار ہونگے، اور اگر سادہ اکثریت ملی تو نواز شریف وزراتِ اعظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔
دوسری وجہ نواز شریف کی صحت کی خرابی نے بھی نواز شریف کو وزرات عظمیٰ سے دور کیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت اب اجازت نہیں دیتی کہ وہ زیادہ بوجھ برداشت کرسکیں، اس لیے انہوں نے خود کو وزراتِ عظمیٰ کے منصب سے دور کر لیا۔ اگر مخلوط حکومت میں نواز شریف وزیراعظم بن جاتے اور جو اس ملک کی صورتحال ہے اس میں 24گھنٹے کام کرنا پڑنا تھا جسکی اجازت انکی صحت نہیں دیتی، اس لیے نواز شریف نے، شہباز شریف کو وزیراعظم کے امیدوار کے لیے انہیں نامزد کر دیا۔
ن لیگ ذرائع کے مطابق نواز شریف ایک جمہوری سوچ کے مالک ہیں اور وہ وزیر اعظم کو پاورفل دیکھنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف جب جب وزیر اعظم بنے انکی اسٹیبلشمنٹ سے نہیں بن سکی، شاید یہی وجہ تھی کہ اس دفعہ اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی تھی کہ نواز شریف وزیر اعظم نہ ہوں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے تمام لوگوں کی رائے تھی کہ نواز شریف وزیر اعظم بنیں اگر وہ وزیر اعظم بنتے تو پوری دنیا میں ایک اچھا پیغام جاتا ہے، لیکن اب شہباز شریف وزیراعظم نامزد ہوگئے ہیں اب نواز شریف اپنے بھائی کے پیچھے بیٹھ کر انکی معاونت کریں گے۔ بڑے فیصلے جو بھی ہونگے وہ نواز شریف کی مشاورت سے ہونگے، مخلوط حکومت بننے کی وجہ سے شہباز شریف وزیر اعظم نامزد ہوئے جس سے اسٹیبلشمنٹ بھی خوش ہوگئی۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی پنجاب میں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے نامزدگی کے فیصلے کو پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک کے میڈیا میں بھی اس لئے توجہ اور اہمیت ملی ہے کہ وہ اس منصب پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہوں گی، ان کی اس نامزدگی کے فیصلے پر ان کےسیاسی مخالفین کی جانب سے کوئی قابل ذکر ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی مخالفت برائے مخالفت کرنے کی ’’ذمہ داری‘‘ادا کرنے والے مخصوص اور محدود حلقوں نے بھی اس ضمن میں کسی روایتی طرز کے منفی رویوں سے گریز کیا لیکن یہ ’’کمی‘‘ انہوں نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی جگہ شہباز شریف کے وزیراعظم کی نامزدگی کئے جانے پر پوری کردی اور بعض سیاسی حلقے جن میں خود مسلم لیگ (ن) کے زعما بھی شامل ہیں اس فیصلے کے حوالے سے خدشات، تذبذب اور اضطراب کا شکار ہیں ،یہی وجہ ہے کہ مریم نواز کو صورتحال کی وضاحت کرنے کیلئے اپنے کسی ترجمان کی بجائے خود سامنے آنا پڑا کیونکہ بعض حلقوں میں یہ تاثر موجود ہے کہ یہ صورتحال بھی کم وبیش ’’مقبولیت اور قبولیت‘‘ سے مماثلت رکھتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ایک سنجیدہ اور بردبار شخصیت کے اس موقف کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جن کا یہ کہنا ہے کہ جس طرح آصف علی زرداری بلاول بھٹو کو ملک کا وزیراعظم بنانے کی خواہش کا بار بار اظہار کرچکے ہیں اسی طرح اگر میاں نواز شریف بھی اپنی صاحبزادی کو اگر وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں تو اس پر کسی کو معترض نہیں ہونا چاہئے، اگر انہوں نے پی ڈی ایم کی حکومت میں بلاول بھٹو کو وزیر خارجہ بنوا کر وزیراعظم بنانے کی تربیت دلوائی تھی تو پھر میاں نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کرکے انہیں وزارت عظمیٰ کے منصب تک رسائی کی تربیت دے رہے ہیں تو اس میں کونسی غلط بات ہے۔
