جرنیل کیا جانیں حکومت کیسے چلانی ہے؟

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ جرنیل کیا جانیں کہ حکومتی امور کیسے چلائے جاتے ہیں۔جرنیلوں کے پاس انتظامی نوعیت کی زبردست حمایت اور انٹیلی جنس کا نیٹ ورک تو موجود ہوتا ہے، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ حکومت کیسے کی جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جرنیل حکومتی امور چلانے میں ناتجربہ کاری کی وجہ سے اقتدار سنبھال کر مختلف تجربات کرتے ہوئے ملک کی تباہی کا سامان کرتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابقموجودہ حکومت کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی حکومت ملک کی پہلی حکومت ہے جسے اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسی کی مکمل اور غیر مشروط حمایت حاصل ہے، میڈیا کو مار مار کر تابع کیا جا چکا ہے، عدلیہ بھی حامی ہے جبکہ نیب کو ایک ایسے فعال آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کا کام اپوزیشن کو دبانا ہے، تمام صوبے بھی تعاون کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کام نہیں کر پا رہی۔ہم ہر گزرتے دن کے ساتھ تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں بلکہ تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کا ماننا ہے کہ نواز شریف نے چار سال تک اسٹیبلشمنٹ کی فعال پوزیشن، مخاصمانہ اور متحرک میڈیا، نیب اور عدلیہ کی موجودگی میں مناسب اور موثر حکومت چلائی اور چیلنجز کا مقابلہ کر تے ہوئے مسائل حل کرنے، کاروباری طبقے کو پراعتماد بنانے، ملکی ترقی، مہنگائی میں کمی لانے، سی پیک، آئی ایم ایف سمیت مختلف محاذوں پر ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نواز شریف جمہوریت اور قانون کی بالادستی اورعزت نفس کے تحفظ کیلئے ہر قیمت چکانے کیلئے تیار ہیں، وہ کسی سے کوئی ڈیل نہیں کرینگے۔ نواز شریف کی کرپشن کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آیا تو سب سے پہلے میں نواز شریف کے خلاف کھڑا ہوں گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نیب کی احتساب مہم ناقابل حد تک وحشیانہ ہے، نیب کی طرف سے گرفتاری پہلے عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ الزامات اور ثبوت بعد میں تلاش کئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اقتدار کی بجائے جمہوریت کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس سے وہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مقتدر حلقوں کو علم ہے کہ میں میاں نواز شریف کی پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپوں گا اس لئے کسی سیاسی یا غیر سیاسی ثالث نے مجھے کسی حوالے سے کوئی آفر نہیں کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الحمد للہ، مجھے کسی بات پر شرمندگی نہیں، نیب مجھ پر کوئی بھی الزام ثابت کرنے میں یکسر ناکام رہا ہے۔ صرف نواز شریف کا ساتھ دینے پر بے بنیاد الزامات پر سیاسی مقدمات میں زیر حراست ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت عظمیٰ کے دوران جب انھیں کہا گیا کہ نواز شریف کے پاس سنگاپور کے بینک میں ایک ارب ڈالرز اور لندن میں 300؍ جائیدادیں ہیں تو میں نے ان لوگوں کو بڑے واضح انداز سے بتایا کہ اگر وہ نواز شریف کیخلاف 10؍ لاکھ ڈالر اور لندن میں ایک بھی جائیداد سامنے لے کر آجائیں تو مل کر نواز شریف کا سامنا کریں گے اور مین نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دوں گا لیکن الزامات کے سوا کبھی کچھ سامنے نہیں لایا جا سکا۔ شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف نے اگر کسی سے رقم لے کر کوئی غلط اقدامات کئے ہیں تو مقتدر قوتوں کو رقم دینے والے شخص کو لازمی سامنے لانا چاہیے تا کہ قوم جان سکے کہ حقائق کیا ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کا دعویٰ ہے کہ 30؍ سال کے دوران مجھے اب تک ایسا کوئی شخص نہیں ملا جس نے نواز شریف کو کسی غیرقانونی اقدامات کیلئے کوئی رقم دی ہو جس نے نواز شریف کو ادائیگی کی ہو۔ اس کے بعد وہ غلط اقدامات کی بات کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں حوالہ اور ہنڈی کے زریعے رقوم منگوانا یا بیرون ملک بھجوانا ایک عام پریکٹس ہے اگر نواز شریف نے بھی ایسا کیا ہے تو کوئی غلط نہیں کیا تمام کاروباری ادارے ایسا کرتے ہیں۔اگر یہ غلط ہے تو وزیر اعظم عمران خان اور ان کی بہن بھی مجرم ہیں۔
