نواز شریف سے اختلافی امور طے کرنے کے لئے بلاول لندن روانہ

حکومتی اتحادی جماعتوں میں اختلافات پیدا ہونے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نون لیگ کے قائد نواز شریف سے ملاقات کرنے کے لیے لندن روانہ ہوگئے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری لندن میں قائد ن لیگ نواز شریف سے ملاقات کریں گے اور اختلافی معاملات پر بات کریں گے۔
شہبازشریف کے وزیر اعظم بننے کے نو دن بعد وفاقی کابینہ نے حلف اُٹھالیا ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی وزراکی تقریب حلف برداری میں شرکت کی لیکن حلف نہیں اُٹھایا۔ذرائع کا بتانا ہےکہ پیپلزپارٹی صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ اورگورنر پنجاب کے عہدے لینا چاہتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اختلافی معاملات پر وزیراعظم شہباز شریف نے ہاتھ اٹھا لیے ہیں اور بلاول کو نواز شریف سے براہ راست بات کرنےکا مشورہ دیا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری لندن میں قائد ن لیگ میاں نواز شریف سے ملاقات کریں گے اوراختلافی معاملات پر بات کریں گے، بلاول بھٹو کا لندن سے واپسی پر وزیر خارجہ کا حلف اٹھانےکا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کا اگلا صدرِ پاکستان کون ہوگا اس کے نام پر حتمی مشاورت کی جائے گی اور صدر مملکت عارف علوی کے مواخذے /قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد کے بعد آئینی امور پر بھی مشاورت کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور بلاول کی ملاقات میں اسمبلیوں کی مدت کے حوالے سے اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے تحفظات پر بھی بات چیت ہوگی جب کہ چیئرمین پی پی پی سینٹ چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری کو صدر پاکستان بنانے کی خواہش کا اظہار کریں گے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی ملک میں موجود قیادت نے صدر مملکت کے عہدے کے نام پر اعلان نوازشریف کی رضا مندی سے مشروط کیا تھا جس کے بعد بلاول بھٹوزرداری نے لندن جانے کا فیصلہ کیا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ وزارت خارجہ کے معاملے پر ن لیگ سے کوئی ڈیڈ لاک نہیں، بلاول بھٹو اے این پی،بی این پی اور محسن داوڑ کو وزارت ملنے کے بعد حلف اٹھانا چاہتے ہیں۔اعلامیےکے مطابق بلاول بھٹو اتحادی حکومت کے قیام پر نواز شریف کو مبارک باد دینے جا رہے ہیں۔
