نواز شریف سے تیسرے فریق نے رابطے کی کوشش

مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ اس ملک کی بد قسمتی ہے کہ تیسرا فریق جو معاملات کو حل کروایا کرتا تھا وہ اب خود فریق بن چکا ہے۔ یہ صورت حال انتہائی خطرناک اور خوفناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے فریق کو اپنی پوزیشن کو بحال کرنا ہوگا اور جب تک تیسرا فریق اپنی پوزیشن کو بحال نہیں کرتا، اُس وقت تک اس کے ساتھ مذاکرات یا پھر اس کا بطور ثالث مذاکرات میں شامل ہونا سب کےلیے ہی ناقابل قبول ہے۔
جہاں تک تیسرے فریق کی جانب سے رابطوں کی بات ہے تو رابطے لیڈر شپ کے ساتھ ہی ہو سکتے ہیں۔ جہاں تک میری اطلاع ہے اُس کے مطابق تیسرے فریق نے میاں نواز شریف سے رابطہ کیا ہے لیکن انہوں نے معذرت کی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میاں نواز شریف سے یقیناً اعلیٰ سطح سے ہی رابطہ کیا گیا ہوگا لیکن میں اس کی تفصیل سے آگاہ نہیں ہوں۔ وہ فریق جو فریق ثالثی کروانا چاہے اُسے پہلے اپنی غیر جانبداری ظاہر کرنا پڑتی ہے جب تک غیر جانبداری ثابت نہ ہو تو رابطوں کا فائدہ نہیں ہے۔ اگر غیر جانبداری ثابت ہو جاتی ہے تو اپوزیشن اور حکومت کے مابین لڑائی کا فیصلہ تین دن میں ہو جائے گا۔ اس وقت یہ فیصلہ نہ ہونے کی وجہ حکومت کا تکبر ، حکومت کا انتقام ، حکومت کی جانب سے اپنائے جانے والے گھٹیا ہتھکنڈے اور حکومتی ترجمانوں کی صبح شام اپوزیشن کو گالیاں نکالنا ہے۔ جس دن تیسرے فریق کی غیر جانبداری قائم ہو گئی یہ سب چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ ترجمان جن کی جو دو دو گز کی زبانیں ہیں یہ نظر نہیں آئیں گی۔ لیگی رہنما نے کہا کہ غیر جانبداری پاکستان کےلیے ہوگی، قوم کے روشن مستقبل کےلیے ہوگی، یہ غیر جانبداری میاں نواز شریف، مسلم لیگ ن یا کسی اور سیاسی جماعت کےلیے نہیں ہوگی کیوں کہ اس غیر جانبداری کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، یہ ملک اس کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، یہ غیر جانبداری ملک کی بنیاد کےلیے ضروری ہے، اس کو قائم کرنا ہو گا۔ جب غیر جانبداری قائم ہو جائے گی تو تمام مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔
