نواز شریف ن لیگ کو مکمل تباہی سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

سابق وزیراعظم نواز شریف کو اپنی جماعت کو بچانے کے لیے فوری وطن واپس آنا ہوگا اور پنجاب میں متحرک ہونا ہوگا کیونکہ پنجاب نون لیگ کی بنیاد ہے۔ اگر پنجاب بھی نواز شریف کے ہاتھ سے سلپ ہو گیا تو پھر کچھ باقی نہیں بچے گا اور آئندہ الیکشن کے نتائج اس سے بھی بھیانک ہوں گے۔

معروف صحافی حذیفہ رحمن روزنامہ جنگ میں اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نواز شریف نے مسلم لیگ ن کی باقاعدہ بنیاد 1992 میں رکھی تھی۔ اس سے پہلے 1985ءکے غیر جماعتی انتخاب کے بعد نواز شریف نے وزیراعلیٰ بن کر صوبہ پنجاب کی باگ ڈور سنبھالی۔۔1985اور 1988 میں مسلسل دو مرتبہ وزراتِ اعلیٰ کا قرعہ فال نواز شریف کے نام نکلا۔ اس عرصے میں نواز شریف نے پنجاب کو خود لیڈ کیا اور اٹک سے لے کر روجھان مزاری تک سیاسی جڑیں مضبوط کیں۔

نوازشریف کو اپنی وزارت ِاعلیٰ کے انہی ادوار کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی بنیاد رکھنے میں آسانی ہوئی اور اسی محنت کی وجہ سے آج بھی مسلم لیگ ن پنجاب کی مقبول ترین سیاسی جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پنجاب کو نواز شریف خود چلاتے تھے اور پارٹی کی سیاسی جڑوں کو کبھی کھوکھلا نہیں ہونے دیتے تھے۔ نواز شریف کو پنجاب کے ایک ایک سیاسی گھرانے کی اہمیت اور عوامی نبض کا بخوبی احساس تھا۔ پھر وقت تبدیل ہوا۔ نوازشریف وزیراعظم بن کر مرکز میں چلے گئے اور پنجاب کی باگ ڈور شہباز شریف کے حوالے کر دی۔

حذیفہ رحمان کے بقول ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ پہلے نواز شریف پنجاب میں پارٹی کو چلارہے تھے اور پھر وہ ذمہ داری شہباز شریف کے حصے میں آئی۔ شہباز شریف نے بھی نوازشریف کی قیادت میں پنجاب میں بہتری کارکردگی دکھائی۔ مگر شہباز شریف کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد بھی بیشک انتظامی فیصلے شہباز صاحب کرتے تھے مگر تمام سیاسی فیصلے میاں نواز شریف خود کرتے تھے۔ پھر پارٹی پر برے وقت کا آغاز ہوا۔ نوازشریف علاج کرانے کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے۔ شہباز شریف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوگئے۔ پنجاب میں بھی مسلم لیگ ن عثمان بزدار کو ہٹا کر اپنا وزیراعلیٰ لانے میں کامیاب ہوگئی۔

 پورا صوبہ عطا اللہ تارڑ، ملک احمد خان اور بیرسٹر نبیل اعوان کے حوالے کردیا گیا۔ عطا اللہ تارڑ شہباز شریف کی وزارتِ اعلی میں پنجاب حکومت میں گریڈ 17 کے کنٹریکٹ ملازم تھے۔ وہ پہلے شہباز اور پھر حمزہ کے سرکاری اسٹاف افسر کی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔ لیکن 2018 میں پارٹی میں قیادت کا اتنا فقدان پیدا ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی صوبہ پنجاب کی باگ ڈور ایک سٹاف افسر کے حوالے کردی گئی۔ 2022میں حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہی لوگوں نے پورے پنجاب کی انتظامیہ کے انٹرویو کئے اور افسران کی ایسی ٹیم لگائی کہ مسلم لیگ ن جولائی کے ضمنی الیکشن بدترین انداز میں ہار گئی۔ کہاں شہباز شریف پنجاب کے ڈی سی، ڈی پی او ،آر پی او، کمشنر اور 26 انتظامی سیکریٹریز کے انٹرویو کرکے لگاتے تھے اور کہاں یہی کام ایک سٹاف افسر اور ایک ایم پی اے کے سپرد کیا گیا۔ اگر مسلم لیگ ن پرویز الہٰی پر تنقید کرتی ہے کہ پورا صوبہ اپنے ذاتی ملازم سے چلوارہے تھے تو مسلم لیگ ن بھی تو صوبہ ایک ذاتی سٹاف افسر لیول کے بندے سے چلوا رہی تھی۔

حذیفہ رحمن کہتے ہیں کہ پرویز الٰہی جیسے جہاندیدہ سیاستدان کو اعتماد کا ووٹ لینے کا چیلنج دے کر نواز لیگ نے اس سے نمٹنے کی ذمہ داری عطاء اللہ تارڑ کو سونپ دی جنہوں نے یہ دھمکی دے ڈالی کہ اگر پرویز الہی کامیاب ہوگئے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ ایسے میں ایک معصومانہ سا سوال ہے کہ عطا اللہ تارڑ سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کب کریں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ عطاء اللہ تارڑ کی بجائے یہ ذمہ داری نون لیگ سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاستدانوں کو کیوں نہیں دی گئی۔ خواجہ سعد رفیق لاہور کی سیاست کے چیمپئن تصور کئے جاتے ہیں، خواجہ احمد حسان کی ساری زندگی لاہور میں گزری ہے، ایاز صادق تمام سنجیدہ سیاسی حلقوں میں پسند کئے جاتے ہیں، رانا تنویر لاہور سے نہیں ہیں مگر ان کا شیخوپورہ کا حلقہ اور لاہور شہر جڑے ہوئے ہیں۔ رانا پھول کے فرزند رانا اقبال کے خاندان کی ساری زندگی مسلم لیگ ن اور پنجاب اسمبلی کے ساتھ گزری ہے، وہ مسلسل دس سال پنجاب اسمبلی کے سپیکر رہے۔ خرم دستگیر گوجرانوالہ کی سیاست کے حوالے سےایک ناقابل تردید حقیت ہیں۔ لیکن پتہ نہیں ایسی کونسی مجبوری آڑے آگئی تھی کہ پنجاب اسمبلی میں سیاسی جوڑ توڑ کے لیے ان سینئر ترین رہنماؤں کی خدمات حاصل نہ کئی گئیں اور ان پر بھروسہ کیا گیا جو قابل بھروسہ نہیں تھے۔ رانا ثنااللہ ایک بہادر آدمی ہیں مگر انہوں نے بھی پہلے بطور وزیرداخلہ اور اب پنجاب اسمبلی کے حوالے سے کافی مایوس کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیز کا نگران اس بات سے بے خبر تھا کہ پرویز الٰہی اپنے بندے پورے کر چکے ہیں۔

حذیفہ رحمن کہتے ہیں کہ میرا خود مسلم لیگ کی مرکزی قیادت سے ذاتی تعلق اور دوستی ہے مگر ایسے میں حقائق سے منہ نہیں موڑا جا سکتا۔ ان غلطیوں کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو پنجاب میں یکے بعد دیگرے بد ترین ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور  یہی حقیقت ہے۔ ایسے میں نوازشریف کو اپنی پارٹی بچانے کے لئے خود آگے آنا ہوگا۔ مرکز قائم رہے نہ رہے مگر پنجاب کے حوالے سے مقبول سیاسی فیصلے کرنا ہونگے کیونکہ پنجاب مسلم لیگ ن کی بنیاد ہے اور اپنی بنیاد کو ایک کمزور وفاقی حکومت کےلئے قربان کرنا کوئی عقلمندی نہیں۔ نواز شریف کو خود لیڈ کرنا ہوگا۔پارٹی نواز شریف کی ہے اور سخت فیصلے بھی میاں صاحب آپ کو لینے ہیں۔ اگر پنجاب آپ کے ہاتھ سے سلپ ہوا تو پھر باقی کچھ نہیں رہے گا۔

آپ کی جماعت نے 2008 سے 2013 تک پنجاب کے بل بوتے پر مرکزی حکومت حاصل کی تھی۔ پیپلزپارٹی کے پاس 2008 کی پنجاب اسمبلی میں سو سے زائد ارکان اسمبلی تھے مگر غیر مقبول فیصلے اور وفاقی حکومت کی کوتاہیوں اور غلطیوں کی وجہ سے پیپلز پارٹی پنجاب میں ایسی فارغ ہوئی کہ 2013 سے 2018 کی پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پاس 6 ایم پی ایز بھی نہیں تھے۔ لہذا اب ضروری ہوگیا ہے کہ نواز شریف مسلم لیگ نون کے تنظیمی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کریں۔ اگر نون لیگ اسی ناتجربہ کار ٹیم کے ہاتھ میں رہی جس نے اسے موجودہ حال تک پہنچایا ہے تو آئندہ الیکشن کے نتائج بھیانک ثابت ہونگے اور ’’تمہاری داستان بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔‘‘

Back to top button