نواز شریف پرویز حکومت کے خاتمے سے پہلے لوٹیں گے یا بعد میں؟

سابق وزیراعظم نواز شریف جنوری میں پاکستان واپسی کا حتمی ارادہ تو کر چکے ہیں لیکن ابھی انہیں یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ پنجاب میں پرویز الٰہی کی حکومت ختم ہونے کا انتظار کر لیں تو زیادہ مناسب ہو گا۔ مسلم لیگ نواز نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کے قائد نواز شریف جنوری میں پاکستان میں موجود ہوں گے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ اپنی بیٹی مریم نواز کے ساتھ وطن واپس لوٹیں گے۔ اس اعلان سے قبل بھی پارٹی رہنماؤں کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ مسلم لیگ نون اگلے انتخابات کی تیاریاں شروع ہونے سے پہلے نواز شریف کی وطن واپسی چاہتی ہے کیونکہ یہ ان کی انتخابی مہم کے لیے ناگزیر ہے۔

تاہم باخبر پارٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نوازشریف کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ پرویز الٰہی حکومت کے خاتمے سے پہلے وطن واپس نہ آئیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت انہیں اسلام آباد کی بجائے لاہور میں لینڈ کروانا چاہتی ہے تاکہ انکا شایان شان استقبال کیا جا سکے۔ نواز شریف کہاں لینڈ کریں گے۔ مسلم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت قائم رہتی ہے تو نواز شریف کا لاہور میں لینڈ کرنا کافی مشکل ہے۔ اگر انہیں آمد سے پہلے حفاظتی ضمانت نہیں ملتی تو لاہور پہنچتے ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گااور ضمانت ملنے کی صورت میں بھی لاہور میں ان کے لیے انتظامی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر وہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر اترتے ہیں تو یہ ضلع اٹک کی حدود میں آتا ہے جو کہ صوبہ پنجاب میں ہے۔ اگرچہ لاہور، اسلام آباد اور دیگر تمام ہوائی اڈوں کا کنٹرول سول ایوی ایشن اتھارٹی کے پاس ہے لیکن پھر بھی اگر پنجاب حکومت چاہے تو ان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ایسے میں نواز شریف کے لیے واپسی کا محفوظ ترین مقام چکلالہ میں ائیر فورس کا ایئرمارشل نور خان اڈہ ہو سکتا ہے لیکن اس کا دارومدار ان کی واپس آنے کی حیثیت پر ہوگا، یعنی وہ ایک ضمانت یافتہ سابق وزیراعظم کے طور پر آتے ہیں یا پھر ایک ایسے قیدی کے طور پر جس نے واپس آ کر جیل جانا ہے۔ اسکے علاوہ یہ بھی طے ہونا ہے کہ نواز شریف واپسی پر اپنا عوامی استقبال چاہتے ہیں یا خاموشی سے سیدھے عدالت یا اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق واپسی کے بعد نواز شریف کا اپنے خلاف باقی مقدمات سے چھٹکارا کچھ زیادہ مشکل نہیں رہے گا۔ اس کے لیے نیب اور ایف آئی اے کو صرف عدالت میں جا کر یہ کہنا پڑے گا کہ وہ نواز شریف کے خلاف فیصلوں سے مطمئن نہیں ہیں لہٰذا ان مقدمات کی کارروائی ازسرِنو کی جائے یا پھر وہ اپنی کسی غلطی کا اعتراف کر کے ان فیصلوں کو ختم کروا سکتے ہیں۔ مسلم لیگ نون پنجاب کے صدر اور وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی واپسی ان کی انتخابی مہم کا اہم جزو ہے اور انکی جلسوں میں شرکت اور خطاب کو پارٹی انتخابات جیتنے کی حکمت عملی میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن نواز شریف کی وطن واپسی میں کچھ قانونی نکتے حائل ہیں اور مرکز میں ان کی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود انہیں عدالتوں سے کچھ ایسے احکامات کی ضرورت ہے جو انہیں پاکستان واپسی پر جیل جانے سے بچائیں اور گرفتاری سے محفوظ رکھیں۔

نومبر 2019 میں جب نواز شریف علاج کی غرض سے لندن روانہ ہوئے تھے تو وہ اس وقت جیل میں تھے اور عدالت سے چار ہفتوں کی ضمانت لے کر گئے تھے۔ لیکن اب جب وہ چار سال سے زائد عرصے بعد واپس لوٹ رہے ہیں تو انہیں ایک مرتبہ پھر عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت کو معقول وجوہات دینا پڑیں گی۔

قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ رائج عدالتی طریق کار اور قوانین کے تحت نواز شریف جب بھی وطن واپس آئیں، انہیں خود کو عدالت کے حوالے کرنا چاہیے اور اس کے بعد عدالت ان کی کسی اپیل پر غور کرے گی۔ تاہم ان کے خیال میں مرکز میں نواز شریف کی جماعت کی حکومت کی وجہ سے انہیں فائدہ مل سکتا ہے اور حکومت کے ماتحت ادارے کچھ ایسی توجیحات پیش کر سکتے ہیں جن کی وجہ سے عدالت انہیں فوری ریلیف فراہم کر دے۔ یاد رہے کہ نواز شریف کے خلاف اس وقت العزیزیہ سٹیل ملز، چوہدری شوگر ملز اور توشہ خانہ سمیت متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں۔ نواز شریف لندن روانگی سے پہلے العزیزیہ سٹیل ملز کیس میں سزا بھگت رہے تھے اور اس دوران ہی انہیں طبی بنیادوں پر عدالت سے خصوصی اجازت نامے کے تحت بیرون ملک بھیجا گیا تھا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اب جب وہ واپس آ رہے ہیں تو ایک طریقہ تو یہ ہے کہ وہ جیل جائیں اور وہاں سے اپنا مقدمہ دوبارہ لڑیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حکومت کوئی ایسا حکم پاس کرے کہ نواز شریف کی سزا ختم ہو جائے اور تیسرا طریقہ یہ ہے کہ نواز شریف حفاظتی ضمانت حاصل کریں اور اس کے بعد ان مقدمات میں ریلیف حاصل کریں۔

لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان کے رائج قوانین اور عدالتی نظام کے تحت نواز شریف کو حفاظتی ضمانت کے حصول کے لیے خود عدالت میں پیش ہو کر خود کو اس کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد ہی انہیں کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔ تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ نواز شریف اپنی آمد سے پہلے ہی وکیل کے ذریعے عدالت سے حفاظتی ضمانت کے لیے استدعا کریں گے۔ لیکن اس صورت میں عام طور پر حفاظتی ضمانت نہیں ملتی۔ اگر نواز شریف کو خود کو عدالت میں پیش کیے بغیر ضمانت مل گئی تو یہ ایک مثال ہو گی۔

Back to top button