نواز شریف کا برطانوی کمیشن سے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار

سابق وزیراعظم نواز شریف نے برطانوی کمیشن سے وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری 17 ستمبر کو ہی لندن ہائی کمیشن کو بھجوا دیے تھے۔ ہائی کمیشن جس پیشرفت سے آگاہ کرے گا وہ عدالت کےعلم میں لائیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وارنٹ برطانوی وقت کے مطابق صبح 10:30 پر بھيجے گئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وارنٹ گرفتاری سیکریٹری خارجہ کو ارسال کرتے ہوئے وارنٹ کی تعمیل کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق نواز شریف کی 22 ستمبر اور دیگر تاریخوں پر حاضری یقینی بنائی جائے۔ منگل 15 ستمبر کو العزیزیہ ریفرنس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت ورانٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ اس سے قبل بدھ 9 ستمبر کو احتساب عدالت نمبر 3 کے جج اصغر علی نے جعلی اکاؤنٹس کے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا اور دائمی وارنٹ بھی جاری کرتے ہوئے 7 دن کے اندر نیب سے نواز شریف کی جائیداد کی تفصیل طلب کی تھیں۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف اے پی سی کر رہی ہیں جس پر حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ مفرور مجرم اے پی سی میں خطاب نہیں کرسکتا ہے، اگر خطاب کیا تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، واضح رہے کہ قانونی چارہ جوئی دائمی وارنٹ گرفتاری کی مد میں کی جائے گی۔
خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کی 22 ستمبر اور دیگر تاریخوں پر حاضری یقینی بنانے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں اپیلوں پر سماعت کے دوران نواز شریف کی حاضری کیلئے جاری کیے گئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری تعمیل کےلیے سیکرٹری خارجہ کو ارسال کر دئیے ہیں اور دفتر خارجہ کو برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ذریعے وارنٹ کی تعمیل کا حکم دیا گیا ہے۔
