نواز شریف کا سکسر لگ جائے گا یا پھر کیچ پکڑا جائے گا؟

پچھلے دو سال سے بیک فٹ پر کھیلتے ہوئے اپنی سیاسی وکٹ بچانے کی انتھک کوششوں میں مصروف نواز شریف نے اچانک کریز سے باہر نکل کر ایک اونچا شاٹ کیا لگایا ہر طرف شور مچ گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انکی لگائی گئی شاٹ باؤنڈری سے باہر جا کر چھکا قرار پاتی یے یا پھر باؤنڈری کے عین اوپر کیچ ہو جاتی ہے۔ تاہم اونچی کھیلی گئی شاٹ کا نتیجہ جو بھی نکلے، سچ تو یہ ہے کہ دو برس سے دیوار کے ساتھ لگائے گے نواز شریف کے پاس مفرور قرار دیے جانے کے بعد اب اسکے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا کہ وہ کریز سے باہر نکل کر جارحانہ شاٹس کھیلیں اور سامنے والے باؤلر کو بتائیں کہ انہیں دفاعی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ جارحانہ بیٹنگ بھی آتی ہے اور اگر کوئی انہیں فل ٹاس گیند پھینکے گا تو وہ اس پر چھکا مارنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
20 ستمبر کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس سے نواز شریف کے جارحانہ خطاب کے بعد سے یہ بحث جاری ہے کہ کیا میاں صاحب کی لگائی گئی شاٹ چھکا قرار پائے گی یا وہ باؤنڈری پر کیچ ہو جائیں گے؟ سینئر اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتی ہیں کہ اب میچ آخری اوورز میں داخل ہو چکا ہے اور دونوں اطراف کو جیتنے کے لیے کریز سے باہر نکلنا ہو گا۔ اپوزیشن فرنٹ فٹ پر آ گئی ہے اور گیند اڑتی ہویی باؤنڈری سے باہر جا رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمیشہ جیتنے والے اس نرتبہ بھی میچ فکس کریں گے یا گیند کو باؤنڈری سے باہر جانے دیں گے؟
عاصمہ شیرازی سوال کرتی ہیں کہ نواز شریف نے ایسا کیا کہہ دیا ہے کہ محلے کی عورتوں نے دوپٹے دانتوں تلے داب لیے ہیں۔ ایسا سب کچھ ماضی میں بہت سے سیاست دان با رہا کہہ چکے۔۔۔ خان عبد الغفار خان سے لے کر ولی خان، عطا اللہ مینگل سے لے کر نواب اکبر بگٹی، فاطمہ جناح سے لے کر جی ایم سید، ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بے نظیر بھٹو تک۔ یہ سب لوگ پاک فوج کے سیاست میں کردار کے مخالف رہے ہیں۔ لیکن یہ اور بات کہ فوجی قیادت اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ وہ ملکی سیاست میں مداخلت کرتی ہے۔ اسی لیے 16 ستمبر کے روز اپوزیشن جماعتوں کی پارلیمانی قیادت کو آرمی چیف جنرل باجوہ نے ایک ملاقات کے لیے طلب کر کے یہ وارننگ دی کہ وہ پاک فوج کو سیاست میں ملوث کرنے سے باز رہیں۔ اب بھلا کوئی پوچھے کہ کیا فوج کو سیاست میں اپوزیشن جماعتیں ملوث کر رہی ہیں یا وہ لوگ جو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو جتوا کر اقتدار میں لائے۔
ابھی 20 ستمبر کو اے پی سی میں فوجی قیادت کی وارننگ کے باوجود مولانا فضل الرحمن نے کیا کچھ نہیں کہا مگر نہ۔کسی کی دانتوں میں انگلیاں گئیں اور نہ ہی کانوں پر ہاتھ۔ دوسری طرف نواز شریف کی تقریر کے دو جملوں نے جیسے سکتہ طاری کر دیا ہے، ’ملک میں ریاست سے بالا ایک اور ریاست چل رہی ہے’ اور ہمارا مد مقابل عمران خان نہیں اُن کے لانے والے ہیں‘ جیسے نواز شریف کے جملے ہر جگہ زیر بحث ہیں اور یہ پوچھا جارہا ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا؟ کیا کوئی ڈیل نہیں ہو پا رہی یا انہیں ڈھیل نہیں ملی؟ کیا نواز شریف اب بھی کسی ڈیل کے چکر میں ہیں اور اسی لیے اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لا کر فیصلہ کروانا چاہتے ہیں؟ ایسے بہت سے سوالات گردش میں ہیں۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کی سیاست دو سال کی خاموشی کے بعد اس تقریر کے ساتھ دفن ہو گئی؟ کیا واقعی ایسا ہی ہے۔ انگشت بدنداں سب اس لیے ہیں کہ کوئی سندھی حمود الرحمن کمیشن رپورٹ عام کرنے کی بات کرتا تو بھلے کرتا، کوئی بلوچ لاپتہ لوگوں کی بات کرتا تو کرتا مگر ایک پنجابی رہنما اس طرح کی بات کرے اور وہ بھی وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ میاں صاحب نے بھی شاید اسی ایک بات کا فائدہ اٹھایا ہے۔ کبھی وہ بھی عمران خان کی جگہ تھے۔ کبھی وہ بھی کسی کے لاڈلے ہوا کرتے تھے اور اُن کی ایک آنکھ کے اشارے پر جی ایچ کیو صدقے قربان جاتا تھا۔ لیکن جونہی نواز شریف سیاسی بلوغت کو پہنچے اور پاکستان کے مفاد میں فیصلے خود کرنے پر مصر ہوئے، وہ بھی اُسی فہرست میں آ کھڑے ہوئے جس میں ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو جیسے ’دوسرے‘ غدار پہلے ہی موجود تھے۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟ حزب اختلاف نے اپنے سارے پتے دکھا دیے ہیں۔ دیوار سے لگی حزب اختلاف کے پاس اس کے سوا راستہ تھا بھی کیا؟ جب آپکے گریبان پر ہاتھ ہو تو یا آپ پاؤں پڑ جاتے ہیں یا گریبان پکڑنے والے ہاتھ کو پکڑ لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں دیوار سے تو لگ ہی چکیں مگر شاید تاریخ میں پہلی بار مقتدر اداروں نے اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈال کر خود کو بھی دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔ کپتان کی دو سالہ حکومت میں نہ تو طرز حکومت بدلا نہ ہی گورننس کے مسائل بہتر ہوئے، معیشت اور معاشرت تنزلی در تنزلی کا شکار ہوتی چلی گئی۔ قرضے اور افراط زر قابو میں نہ رہا اور تقسیم گہری ہوتی چلی گئی۔ ہوا یوں بھی کہ صحافت اور سیاست، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کو محدود کرتے کرتے اتنی جگہ بھی باقی نہ رہی کہ ریاست خود اپنے لیے آواز اٹھا لے۔
اپوزیشن کی گیارہ جماعتیں جن کی قیادت پہلی بار پنجاب کے رہنما کے ہاتھ ہے، ان سب جماعتوں کا ووٹ بنک کروڑوں میں ہے۔ یہ کروڑوں سڑکوں پر نہ بھی آئیں اور چند ہزار بھی نکل آئے تو ان کے نعروں کا محور کون ہو سکتا ہے؟ یاد رہے کہ اس وقت 2018 کے الیکشن میں مجموعی طور پر 16 فیصد ووٹ لینے والا عمران خان ملک کا وزیراعظم بنا بیٹھا ہے جبکہ مجموعی طور پر تھری انصاف سے زائد ووٹ لینے والی جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھی ہیں جس کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کا حاصل ہونا ہے۔ چنانچہ یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتیں ہم آواز ہو گئی ہیں مگر حکمرانوں کے خلاف نہیں بلکہ مقتدر اداروں کے خلاف۔
تاہم سوال یہ بھی ہے کہ ہماری مصلحت پسند سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں کس حد تک آگے جائیں گی۔ یہ سچ اپنی جگہ کہ وقت سے پہلے وقت نے بہت کچھ دیکھ لیا ہے۔ میچ آخری اوورز میں ہے اور دونوں اطراف کو جیتنے کے لیے کریز سے نکلنا ہو گا۔ اپوزیشن نکل کریز گئی ہے، گیند باؤنڈری سے باہر جا رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمیشہ میچ فکس کر کے جیتنے والا تھرڈ ایمپائیر اس مرتبہ بھی اپنا کام دکھائے گا یا پھر گیند کو چھکے کے لیے باؤنڈری سے باہر جانے دے گا؟ حتمی نتیجے کے لیے چند ماہ انتظار کیجئے۔
