نواز شریف کا علاج جاری ہے، کورونا کے باعث سرجری ملتوی ہوئی

مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ ان کے والد اور پارٹی کے قائد نواز شریف کا علاج جاری ہے، ان کی کورونا کے باعث سرجری ملتوی ہوئی۔ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کی سرجری کورونا وائرس کے باعث ملتوی ہوگئی ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کو صحت کے زیادہ خطرات لاحق ہیں اس لیے ہر طرح کی احتیاط لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کا علاج جاری ہے، آپ سب رمضان کی خصوصی دعاؤں میں انہیں یاد رکھیں۔
میاں صاحب کی سرجری کور ؤنا کے باعث ملتوی ہوئی ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق وہ high risk patient ہیں اس لئیے ہر طرح کی احتیاط لازم ہے۔ ان کا علاج جاری ہے۔ آپ سب رمضان کریم کی خصوصی دعاوں میں انکو یاد رکھیں۔ https://t.co/XdBisJguRy
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) May 1, 2020
قبل ازیں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے کہا تھا کہ چونکہ نواز شریف ایک ہائی رسک مریض ہیں لہٰذا ان کی کارڈیک کیتھیٹرائزیشن/ کورونری انٹروینشن ملتوی ہوگئی اور عالمی وبا کورونا وبا کے بعد کسی تاریخ کو ہوگی کیونکہ نجی اور سرکاری ہسپتالوں نے بھی آپریشنز محددکردیے ہیں اس وقت میڈیکل تھراپی پر ان کے علاج کیا جارہا ہے۔
گزشتہ ہفتے قومی احتساب بیورو (نیب) نے میر شکیل الرحمٰن اراضی کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کواشتہاری قرار دینے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔نیب نے اس سلسلے میں 27مارچ کو نواز شریف کو ایک سوالنامہ ارسال کی تھا اور انہیں نیب کے دفتر میں طلب کر کے 31مارچ کو بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس سے قبل بھی 15مارچ کو نیب لاہور آفس میں مسلم لیگ ن کے قائد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 20مارچ کو طلب کیا تھا لیکن اس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
جہاں لاہور ہائی کورٹ نے پہلے ان کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کی تھی، جس کے بعد اسلام آباد کورٹ نے ابتدائی طور پر العزیزیہ ریفرنس میں ان کو 3 دن کی ضمانت دی تھی، بعدازاں درخواست پر مزید سماعت کے بعد عدالت عالیہ نے ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا تھا۔
8 نومبر کو شہباز شریف وزارت داخلہ کو نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست دی تھی جس کے بعد حکومت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان کیا جس کے تحت روانگی سے قبل انہیں 7 ارب روپے کے انڈیمنٹی بانڈز جمع کروانے تھے۔
تاہم انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے علاج کے بعد وطن واپسی کی ضمانت کے لیے 7 ارب روپے کے انڈیمیٹی بانڈز جمع کروانے کی شرط پر بیرونِ ملک جانے سے انکار کردیا تھا۔
جس کے بعد ان کے بھائی اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت میں تحریری طور پر اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ نواز شریف کی صحت یابی کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے سفر کی اجازت ملنے پر ان کی وطن واپسی یقینی بنائیں گے جس پر عدالت نے نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی.
چنانچہ وزارت داخلہ سے 18 نومبر کو بیرون ملک سفر کے لیے گرین سگنل ملنے کے بعد 19 نومبر کو قائد مسلم لیگ (ن) خصوصی طور پر بلائی گئی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن پہنچ گئے تھے۔
