نواز شریف کا لمبا عرصہ جیل میں رہنے کا فیصلہ

سابق وزیراعظم نواز شریف نے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کم ازکم اگلے تین سے چار ماہ جیل میں ر ہنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ العزیزیہ ریفرنس میں ان کی سزا کے خلاف اپیل کا فیصلہ آنے تک چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ریٹائر ہوجائیں۔ مسلم لیگ ن کے اندرونی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ میاں نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیر اعظم کی یہ کوشش کی ہے کہ العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس پر فیصلے کے خلاف ان کی دائر کردہ ضمانت کی رخواست پر فیصلہ دسمبر 2019 کے بعد اس وقت آئے جب موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ ریٹائر ہو چکے ہوں۔ نوازشریف سمجھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعتوں کے دھرنے اور لاک ڈاون کے بعد تحریک اںصاف مزید مشکلات کا شکار ہوگی جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ بھی دبائو میں آجائے گی۔ نواز شریف پر امید ہیں کہ حکومت کی مکمل ناکامی کی صورت میں انہیں کلین چٹ مل جائے گی لہذا تیل دیکھو۔۔ تیل کی دھار دیکھو والی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔
واضح رہے احتساب عدالت نے دسمبر 2018 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات برس قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔ بعدازاں نواز شریف کی جانب سے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جبکہ فیصلہ دینے والے جج ارشد ملک کی ایک متنازع ویڈیو بھی منظر عام پر لائی گئی، جس کے حوالے سے نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ جج پر دباؤ ڈال کر فیصلہ دلوایا گیا تھا۔ العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں فیصلہ دینے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی متنازع خفیہ ویڈیو اور بیان حلفی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ پہلی سماعت پر خفیہ ویڈیو کی فرانزک رپورٹ جمع کروانے کے حوالے سے بھی لیگی حلقوں میں خاصا ہیجان پایا جاتا تھا تاکہ میاں نواز شریف کو درخواست ضمانت کی سماعت پر فوری ریلیف دلوایا جاسکے تاہم اولین سماعت پر نواز شریف کے وکیل عدالت میں بغیر تیاری ہی چلے گئے جس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ پہلی سماعت پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے صرف عدالتی ریکارڈ پر مشتمل پیپر بکس میں کچھ خامیوں اور ایک دستاویز کے غائب ہونے کی نشاندہی کی۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ن لیگ کی جانب سے پس پردہ چلنے والی ڈیل یا مذاکرات کی وجہ سے نواز شریف کی اپیل کی کارروائی میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ میاں نوازشریف یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی جانب سے ڈیل کی خواہش کا تاثر اسٹیبلشمنٹ جان بوجھ کر دے رہی ہے تا کہ ان کی ساکھ خراب کی جاسکے اور ان کے ہمدردوں کے حوصلے توڑے جا سکیں۔ ذرائع نے 18 ستمبر کو اسلام آباد میں میں العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس کیس کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی پوری کوشش تھی کہ کیس مزید لٹک جائے اور بغیر کسی کارروائی کے ہی سماعت ملتوی ہو جائے اور شاید اسی لیے انہوں نے عدالت کے کارروائی آگے بڑھانے کے بار بار اصرار کے باوجود یہی استدعا کی کہ کیس کا مکمل ریکارڈ انہیں فراہم کر دیا جائے تاکہ وہ کیس لڑنے کی تیاری کرلیں۔ عدالت نے کہا کہ آپ دلائل ہی نہیں دیں گے تو کیس کیسے ختم ہوگا؟ تو نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں پوری تیاری سے دلائل دوں گا اور دلائل شروع ہونے کے بعد تین ماہ میں انہیں مکمل کر لوں گا۔
خواجہ حارث کے موقف سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ نواز شریف کو جیل سے باہر آنے کی کوئی جلدی نہیں۔ ن لیگ کی قریبی ذرائع کے مطابق خواجہ حارث نے عدالت میں جو موقف اختیار کیا وہ نواز شریف کی مرضی کے عین مطابق تھا۔ سنیئر لیگی رہنما خواجہ آصف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ میاں صاحب کو جیل سے باہر آنے کی کوئی جلدی نہیں یعنی وہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے انتظار میں ہیں۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ میاں نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کے مجوزہ لاک ڈاون اور دھرنے کی وجہ سے اپنی ضمانت موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف کارروائیوں کی وجہ سے تحریک انصاف مزید دبائو میں آنے والی ہے جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے کرنا زیادہ آسان ہوگا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 16 ستمبر کو سرکردہ لیگی رہنمائوں کی کوٹ لکھپت جیل میں میاں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں ہی یہ فیصلہ کرلیا گیا تھا کہ ضمانت لینے کے لئے زیادہ زور نہیں لگائیں گے۔ ن لیگ والے پراعتماد ہیں کہ آئندہ تین ماہ کے دوران ملک کے سیاسی منظرنامے پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے انہیں بھرپور فائدہ ہوگا اس لئے بے فکر ہوکر تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق انتظار کرنا چاہیے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ڈیل اور ڈھیل کی باتیں، حکومت پھیلا رہی ہے۔ ن لیگ کسی ڈیل یا ڈھیل پر یقین نہیں رکھتی۔ تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق لے کر چلیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button