نواز شریف کی جائیداد کی نیلامی رکوانے کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نواز شریف کی جائیداد نیلامی کے خلاف دائر 3 درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے انہیں مسترد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت اسلام آباد کے جج اصغر علی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جائیداد نیلامی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا گیا، جس میں احتساب عدالت نے جائیداد ضبطگی نیلامی کے خلاف دائر تمام درخواستوں کو مسترد کردیا۔
بتایا گیا ہے کہ درخواستیں شہری اشرف ملک، اسلم عزیز اور اقبال برکت کی جانب سے دائر کی گئیں تھیں جو کہ مسترد کردی گئی ہیں تاہم احتساب عدالت میں دیگر درخواستوں پر سماعت 16 جون کو ہوگی۔ خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر سابق وزیر اعظم نوازشریف کی جائیدادیں نیلامی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، سابق وزیراعظم کی لاہور اور شیخوپورہ میں جائیدادوں کی نیلامی کے حوالے سے مختلف درخواستیں دائر کی گئیں، نوازشریف کے لاہور میں پھلوں کے باغات کی نیلامی کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے، عدالت میں دی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی لاہور 105 ایکٹر اراضی نیلام کرنے کےلیے قبضےمیں لے رہے ہیں، زمینیں ٹھیکے پر لے کر بھاری سرمایہ کاری کی، پھلوں کے باغ پرلگا سرمایہ ابھی واپس نہیں ہوا، نیلامی سے میری سرمایہ کاری ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ جب کہ ڈی سی شیخوپورہ کی جانب سے جائیدادوں کی نیلامی کےلیے بولی کی تاریخ مقرر کرنے کے فیصلہ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا، یہاں درخواست گزار اشرف ملک کا موقف ہے کہ شیخوپورہ کی 88 کنال اراضی نواز شریف سے خرید چکا ہوں، نواز شریف کو 75 ملین روپے کی ادائی بھی کی جاچکی ہے تاہم نواز شریف کی گرفتاری کے باعث سیل ڈیڈ پر عمل درآمد نہ ہوسکا، سیل ڈیڈ پر عمل درآمد کےلیے سول کورٹ سے رجوع کررکھا ہے لہٰذا ڈی سی شیخوپورہ کو زرعی اراضی کی نیلامی سے روکا جائے، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جائیداد نیلامی رکوانے کی تمام درخواستیں مسترد کردیں۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نواز پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ’میاں نواز شریف کی کہیں پر بھی کوئی جائیداد نہیں اور جن جائیدادوں کی نیلامی کی بات ہو رہی ہے وہ پہلے سے ہی بک چکی ہیں اور ان کے خریدار عدالتوں میں جا چکے ہیں۔‘ نیب کی جانب سے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق میاں نواز شریف لاہور اور شیخوپورہ میں مبینہ طور 1،752 کنال سے زائد زرعی اراضی کے مالک ہیں جس میں موضع مانک لاہور میں 936 کنال 10 مرلہ 85 فٹ، موضع بدوکسانی میں 299 کنال 12 مرلے، موضع مال رائے ونڈ میں 103 کنال، موضع سلیمانکی میں 312 کنال، شیخوپورہ ضلع میں 14 کنال اور موضع فیروزوطن میں 88 کنال شامل ہے۔ اس کے علاوہ میاں نواز شریف کے مبینہ اثاثہ جات میں محمد بخش ٹیکسٹائل ملز میں 467.950 کاروباری حصص ، حدیبیہ پیپر مل میں 343.425 کاروباری حصص، حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی میں 22.213 کاروباری حصص اور اتفاق ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ میں 48.606 کاروباری حصص شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میاں نوازشریف کے مبینہ طور پر مختلف نجی بینکوں میں آٹھ اکاؤنٹ ہیں ، جن میں تین غیر ملکی کرنسی کے اکاؤنٹ بھی شامل ہیں۔ ان پانچ مقامی بینک اکاؤنٹس میں نواز شریف کے 612،000 روپے ہیں۔ اپنے تین غیر ملکی کرنسی کھاتوں میں ، نوازشریف کے پاس 566یورو، 698 ڈالر اور 498 پاؤنڈ موجود ہیں۔ نیب کی دستاویزات کے مطابق نوازشریف کا مری میں ایک بنگلہ ، ایبٹ آباد کے چھانگلہ گلی میں 15 کنال 15 مرلے کا ایک مکان اور ایک مکان اپر مال لاہور پر ہے۔ جب کہ میاں نواز شریف ایک ٹیوٹا لینڈ کروزر 2010، مرسڈیز 1973 ماڈل، مرسیڈیز بینز 1991 ماڈل اور دو عدد ٹریکٹروں کے بھی مالک ہیں۔
