نواز شریف کی موجودہ حیثیت ایک مفرور کی ہے

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے میاں نواز شریف کو ایک مفرور قرار دیتے ہوئے اعلان کیا یے کی دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے لیکن حکومت کسی بھی صورت مریم نواز کو اپنے مفرور والد سے ملنے کے لیے لندن جانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ہاں یہ ضرور ممکن ہے کہ جب حکومت پاکستان مفرور میاں صاحب کو واپس لے آئے تو ماضی کی طرح باپ اور بیٹی دوبارہ سے مل پائیں۔
ایک انٹرویو میں کپتان حکومت کے شرلاک ہومز بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ ’ای سی ایل سے نام نکالنے کا اختیار وفاقی کابینہ کا ہے، کابینہ کا بھی یہی ذہن ہے کے ایک مفرور سے ملاقات کے لئے اس کے کسی بھی خاندان کے ایسے فرد کو جوخود مقدمات کا سامنا کر رہا ہے لندن جانے کی حکومتی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت کو بھی تمام حقائق معلوم ہیں لہذا دیکھتے ہیں کہ عدالت کی طرف سے کیا فیصلہ ہوتا ہے۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ صرف یہ کہنا کہ میرے والد وہاں بیمار ہیں اور مجھے ان کے علاج کے لیے جانا ہے تو اسکا جواب یہ یے کہ آپ ڈاکٹر تو نہیں ہیں۔ آپ میڈیکل سکول کی ڈراپ آؤٹ ہیں۔ اس کے بعد وہاں پر جو آپ کے والد صاحب بیمار ہیں ان کی بیماری پر بھی ملک میں بہت زیادہ شک پایا جاتا ہے۔‘ پھر میاں صاحب کے خاندان کے کئی دیگر افراد وہاں پر پہلے سے لندن میں موجود ہیں جن میں شہباز شریف بھی شامل ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’پنجاب حکومت نے میاں صاحب کی سزا معطلی کو بھی ختم کر دیا ہے۔ اس وقت قانون کی نظر میں نواز شریف کا درجہ ایک مفرور کا ہے کیونکہ ابھی تک عدالت کی طرف سے بھی کوئی فیصلہ نہیں آیا اور وہ خود بھی عدالت نہیں گئے۔ لہذا قانونی طور پر وہ ایک مفرور کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت بھی مریم نواز کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ آخر میرٹ بھی تو ہونا چاہیے، نواز شریف سے تو قوم آج بھی پوچھ رہی ہیں کہ آپ نے چار ماہ میں لندن میں کون سا علاج کرایا ہے جس کے لیے آپ گئے تھے۔ انہوں نے تو آج تک اپنے ٹیسٹ کی رپورٹ نہیں بھیجی۔‘
نواز شریف کو وطن واپس لانے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر شہزاد اکبر نے کہا کہ ’مفرور کو واپس لانے کے لیے پنجاب حکومت کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو قانون کے حوالے کریں۔ وفاقی حکومت نے پہلے بھی برطانیہ کو ایک چٹھی بھیجی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ہمارے ایک سزا یافتہ شخص علاج کے لیے برطانیہ آ رہے ہیں اور ان کے علاج کے لیے یہ شرائط رکھی گئی ہے اور اس حوالے سے برطانوی حکومت کو اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا۔‘ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’بڑے مقدمات میں جو بڑی گرفتاریاں ہوئی ہیں وہاں پر پلی بارگین بھی ہو رہی ہے۔ کوئی بھی بڑا آدمی یا سیاستدان جو کرپشن اور لوٹ مار میں ملوث ہوتا ہے وہ پلی بارگین نہیں کرتا بلکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی سیاست بچائے اور مقدمہ بازی میں جائے تاکہ وہ وقت گزار سکے اور وہ انتظار کرتا ہے کہ آٹھ دس سال گزر جائیں اور حالات بدل جائے اور اس کی بچت ہو جائے۔‘
سوشل میڈیا پر حال ہی میں پابندیاں لگانے کے لیے لائے گئے نئے قوانین سے متعلق سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا رولز کو لے کر بھی کچھ غلط فہمی ہے۔ یہ رولز 2017 کے قانون کی روشنی میں بنائے گئے ہیں جو نون لیگ کی حکومت نے پاس کیا تھا۔ اس قانون کو بھی ایک دفعہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ قانون میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت زیادہ قدغنیں لگاتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’کابینہ نے ابھی صرف ان رولز کی منظوری دی ہے وہ رولز ابھی نوٹیفائی نہیں ہوئے۔ وزیراعظم بہت پہلے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو سوشل میڈیا کمپنیوں، سوشل میڈیا حقوق کے لیے قائم کرنے والوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے احکامات جاری کر چکے ہیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا ریگولیشن پر کسی کو اعتراض نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات سوشل میڈیا لوگوں کی ذاتی زندگی میں بھی مداخلت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ تاہم سچ یہ ہے کہ ریگولیشنز کے ذریعے میڈیا اور سوشل میڈیا پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی کیونکہ اس کا تحفظ آئین میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک رول بنا کر آئین میں دیے گئے حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔رولز پرمشاورت دو ماہ تک جاری رہے گی اور دو ماہ بعد جب منظور ہو کر وہ نوٹیفائی ہوں گے تب رولز کہلائیں گے فی الحال وہ صرف مسودہ ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کا قیام وفاقی کابینہ کا فیصلہ تھا جس کے تحت دیگر ممالک میں موجود مقدمات بالخصوص منی لانڈرنگ کے حوالے سے تفتیشی عمل میں تیزی لانے کے اقدامات کرنا تھا۔ اس حوالے سے کامیابیاں بھی مل رہی ہیں اور کام بھی پہلے سے تیز ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button