نواز شریف کے نام پر عوام سے ہونے والے دھوکے کی داستان

سینیئر سیاسی تجزیہ کار سید حماد غزنوی نے کہا ھے کہ سیدھی بات ہے، نواز شریف کے نام پر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا دھوکا کیا گیا ہے اور ان کے بے شمار حامی اب بھی ہکا بکا ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ ’’یہ کیا ہوا‘۔ جہاں تک نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ نون کا تعلق ہے تو وہ تو کب کی نون غنہ ہو چکی ہے، اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ نون غنہ میں نون ساکن ہو جاتا ہے۔ اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ اللّہ تعالیٰ میاں محمد نواز شریف کو صحت مند اور طویل زندگی عطا فرمائے، آمین۔ دل سے یہ دعا اس لیے نکلی ہے کہ میاں صاحب کے بارے بات کرتے ہوئے طے نہیں ہو پا رہا کہ ’صیغہ‘ کون سا استعمال کرنا ہے، مثلاً، نواز شریف اپنی پارٹی کا ہر فیصلہ خود کرتے ’ہیں‘ یا کرتے ’تھے‘، کابینہ کا ہر وزیر ان کا اپنا انتخاب ہوتا ’ہے‘ یا ہوتا ’تھا‘، وہ پاکستان کے سب سے کامیاب سیاست دان ’ہیں‘ یا ’تھے‘، میاں تیرے جاں نثار، بے شمار، بے شمار ’ہیں‘ یا ’تھے‘، قدم بڑھائو نواز شریف، ہم تمہارے ساتھ ’ہیں‘ یا ’تھے‘ انتخابات کے بعد نواز شریف طویل غیر حاضری کے بعد کچھ دن پہلے پنجاب حکومت کے ایک اجلاس میں ظہور پذیر ہوئے، ان کے سیاسی مخالفین اس پر معترض ہوئے اور عدالت جا پہنچے، وہاں جواب ملا کہ اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ۔ایسے اجلاسوں میں کسی کو بھی شرکت کی دعوت دی جا سکتی ہے۔ ایک آدھ مرتبہ تبرکاً تو ٹھیک ہے لیکن بہرحال یہ توقع کوئی بھی نہیں رکھتا کہ نواز شریف ایسے حکومتی اجلاسوں میں اکثر آتے جاتے رہیں گے۔تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر تین مرتبہ وزیرِ اعظم رہنے والا نواز شریف پنجاب میں بہ طور ’ابو جی‘ بھی اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتا تو پھر وہ کیا کرے؟ وفاقی حکومت بھی نواز شریف کے فراق میں بے حال نظر نہیں آتی، نہ اس کے کسی معاملے میں میاں صاحب کا کوئی عمل دخل دکھائی دیتا ہے۔

حماد غزنوی کہتے ہیں کہ اس سال نواز شریف عمرے پر بھی نہیں گئے، یعنی عبادت میں بھی دل نہیں لگا سکے،تو صورتِ احوال یہ ہے کہ نہ سیاست نہ قیادت نہ عبادت، یہ ایک پریشان کُن منظر ہے، اس عمر میں اگر کوئی مثبت معمولات نہ ہوں تو اس سے ذہنی و جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے، سو طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، ڈپریشن کا اندیشہ ہوتا ہے، بھولنے کی بیماری کا خطرہ ہوتا ہے، جب کہ میاں صاحب تو پہلے ہی صحت کے کئی سنجیدہ معاملات سے نبرد آزما ہیں۔لہٰذا غور طلب نکتہ یہ ہے کہ نواز شریف اب کیا کریں؟ کوئی مصروفیت تو ہونا ہی چاہیے۔ اس سلسلے میں کچھ تجاویز پیشِ خدمت ہیں جو کہ دراصل ’اشغال بعد از ریٹائرمنٹ‘ سرچ کرنے پر گوگل کی عنایت ہیں۔

حماد غزنوی اس فہرست میں سب سے پہلے باغبانی کو رکھتے ھوئے بتاتے ہیں کہ طبیب متفق ہیں کہ باغبانی اعصابی دباؤ سے رہائی دیتی ہے، انتہائی سکون آور شغل ہے اور ورزش کی ورزش۔ میاں صاحب کو پھل بھی پسند ہیں اور پھول بھی، تو بس بھر بھر مشکیں ڈالیں اور اگاتے چلے جائیں۔جب ان کا لگایا ہوا بیج درخت بن کر پھل دے گا تو انہیں انتہائی طمانیت کا احساس ہو گا، وہی طمانیت جو آج انہیں اپنی بنائی موٹر ویز دیکھ کر ہوتی ہو گی۔بس ایک احتیاط لازم ہے، جب شاخیں ثمر سے بوجھل ہو جائیں تو پرندے ان کے نزدیک نہ آنے پائیں، یعنی کوئی ثاقب و باجوہ چمن میں پر نہ مار سکے۔ دوسرے نمبر پر گالف کا کھیل ھے اسے کھیلیں تو یہ ذہنی و جسمانی آسودگی کا باعث بنتی ہیں، لیکن ایک خاص عمر کے بعد گالف کھیلنے سے کئی فائدے سمیٹے جا سکتے ہیں، یہ کھیل بلڈ پریشر اور عارضہء قلب کے مریضوں کے لیے خصوصی طور پر تجویز کیا جاتا ہے۔ویسے ہمارے ملک میں یہ کھیل جرنیلوں میں بہت مقبول ہے، غالباً اس لیے کہ گالف کھیلنے کے لیے ایک وسیع سبزہ زار کی ضرورت ہوتی ہے،یاد رہے کہ نواز شریف کے تعینات کردہ اکثر چیف یہ کھیل بھی کھیلا کرتے تھے۔

حماد غزنوی تیسرے نمبر پر سیاحت کو رکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں، نئے منظر، نئے لوگ، نئی منزلیں۔ وزیرِ اعظم ہائوس، جیل اور جلا وطنی سے ہٹ کر بھی ایک دنیا آباد ہے، میاں صاحب کو اردو والا ’سفر‘ بھی کر کے دیکھنا چاہیے، میاں صاحب، اب آپ دنیا دیکھیں، دنیا نے تو آپ کو دیکھ رکھا ہے، ایٹمی دھماکوں کے موقع پر امریکا نے آپ کو اچھی طرح دیکھ لیا تھا، یمن میں فوج بھیجنے سے انکار پر عربوں نے بھی آپ کو دیکھ لیا تھا، واجپائی اور مودی جب لاہور آئے تھے تو دنیا نے آپ کو بہت غور سے دیکھا تھا، اب آپ کی باری ہے، سفر کیجیے، دنیا دیکھیے۔ پیچھے کی فکر نہ کیجیے گا، پنجاب حکومت کا اللّٰہ ’حافظ‘ ہے۔

مطالعہ کی بات کی جائے تو کتاب پڑھنے سے بہتر کوئی شغل ممکن ہی نہیں، مطالعے سے اضطراب اوربے چینی دور ہوتی ہے، مزاج ہم وار ہوتا ہے، اور طبیعت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ میاں صاحب کی گونا گوں مصروفیات نے زندگی بھر انہیں اکثر کامیاب سیاست دانوں کی طرح اس شغلِ کار آمد کاوافرموقع نہیں دیا۔ اسی طرح اور بھی بہت سے اشغال میاں صاحب کو مصروف رکھ سکتے ہیں، میاں صاحب کُتّا پال سکتے ہیں جو کہ انسانوں سے زیادہ وفادارجانور ہے، میاں صاحب بانسری بجانا سیکھ سکتے ہیں اور اب انہیں کوئی نیرو ہونے کا طعنہ بھی نہیں دے سکتا، میاں صاحب تاش کا شغل بھی اپنا سکتے ہیں کہ اب انہیں رنگ کھیلنے کے لیے خواجہ سعد رفیق، رانا ثنااللّٰہ اور جاویدلطیف، جیسے پارٹنر بھی میسر ہیں۔امید ہے کم از کم تاش میں میاں صاحب ہاتھ کی صفائی دکھانے والوں سے محفوظ رہیں گے۔

Back to top button