نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری صرف سیاسی شعبدہ بازی؟

نیب کی جانب سے میر شکیل الرحمٰن اراضی کیس میں نواز شریف کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کو جہاں ن لیگ کی طرف سے سیاسی انتقام قرار دیا جارہا ہے وہیں تجزیہ کار نیب کے اقدام کو حکومت کی ایک اور سیاسی شعبدہ بازی قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد صرف اپنی فیس سونگ ہے اور اپنے سپوٹرز کویہ اطمینان دلانا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنے جیسے اقدامات سے حکومت نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی سیاسی غلطی کور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اب میاں صاحب کو لندن گئے ہوئے چھ ماہ گزر چکے ہیں لیکن اب تک ان کے دل کا آپریشن نہیں ہوا حالانکہ وزیراعظم نے یہ کہہ کر انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی کہ ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اوران کے دل کا فوری آپریشن ہونا بہت ضروری ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیب اور حکومت دونوں بڑی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نواز شریف کسی وارنٹ کے جواب میں پاکستان واپس آنے والے نہیں لیکن ایسا کر کے سیاسی گونگلووں سے مٹی ضرور جھاڑ دی گئی ہے تاکہ حکومت کی اپنی فیس سیونگ ہو سکے۔ حکومتی ترجمان کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر نیب نے درخواست کی تو سابق وزیر اعظم کو وطن واپس لانے کے لیے حکومتی وسائل بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ نیب کے ایک اعلامیے کے مطابق میر شکیل الرحمٰن اراضی کیس میں نواز شریف کو طلبی کا نوٹس بھیجا گیا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ لہذٰا نیب نے اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے نیب کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا۔ شہباز شریف کا موقف ہے کہ نواز شریف عدالتی حکم پر بیرون ملک علاج کرانے گئے ہیں۔ لہذٰا نیب کا یہ اقدام توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کے اجراء کو سینئر صحافی سہیل وڑائچ غیر سنجیدہ حرکت قرار دیتے ہیں۔ سہیل وڑائچ کے بقول حکومت نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی سیاسی غلطی کو کور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔وارنٹ گرفتاری کا اجراء حکومت کی سیاسی حکمت عملی ہے کیونکہ حکومت کو یہ احساس بعد میں ہوا کہ نواز شریف کو باہر بھیج کر اُن سے غلطی ہوئی۔ تاہم انکا کہنا تھا کہ نواز شریف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ صرف حکومت کا ہی نہیں بلکہ اس میں ریاستی اداروں کی بھی مرضی شامل تھی۔سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ "جس کیس میں نواز شریف کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں وہ اتنا پرانا ہے کہ اُس وقت جیو چینل ہوتا ہی نہیں تھا لیکن کیا کیا جائے کہ حکومت سیاسی اور میڈیا مخالفین کو سبق سکھانے پر تلی ہوئی ہے۔ سہیل وڑائچ کے بقول عمران خان کو یہ غلط فہمی ہے کہ اُن کی حکومت کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے۔ اسی لئے ملک میں حکومت کے خلاف جو تنقیدی آوازیں ابھرتی ہیں، اُنہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
حکومتی ناقدین سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی ملک واپسی اور گرفتاری کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ یہ محض ‘کور اپ’ پالیسی ہے اور نواز شریف کے معاملے پر حکومت کنفیوژن کا شکار ہے کیونکہ پہلے تو حکومت نے خود تسلیم کیا کہ نواز شریف شدید بیمار ہیں اور ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں لیکن ان کے باہر جاتے ہی وزیر اعظم نے بیان دیا کہ نواز شریف بالکل تندرست اور خود جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر گئے۔ ناقدین کے مطابق حکومت نے تب بھی یہ ملبہ عدالتوں پر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ اصل میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اںہیں باہر جانے کی اجازت دی تھی۔ لیکن حکومت نے جو سفارشات دی تھیں اُسی کے مطابق نواز شریف کو باہر بھیجا گیا۔ دوسری طرف نیب پنجاب کے سابق ڈائریکٹر بریگیڈئر (ر) فاروق حمید کا کہنا ہے کہ نیب نے جس کیس میں نواز شریف کو طلب کیا، وہ بظاہر اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ہے۔ جس میں نواز شریف کو اپنا جواب جمع کرانا ہو گا۔ نیب ایک دو مرتبہ اور وارنٹ گرفتاری جاری کرے گا، جس کے بعد انکو اشتہاری قرار دے دیا جائے گا۔ نواز شریف کی گرفتاری کیلئے نیب کے پاس قانونی راستہ موجود ہے۔ نیب دفترِ خارجہ کے توسط سے برطانوی حکومت سے رابطہ کر سکتا ہے کہ ایک اشتہاری اُن کے ملک میں پناہ لیے ہوئے اسے واپس بھیجا جائے۔
