نواز شریف کے ووٹروں کے ساتھ اتنا بڑا فراڈ کس نے کیا؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سید حماد غزنوی نے کہا ھے کہ الیکشن کے بعد ایک معلق قومی اسمبلی وجود میں آ گئی اور نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیرِاعظم بننے سے دست بردار ہو گئے ہیں۔ سب اقرار کرتے ہیں کہ مسلم لیگ کا ووٹر نواز شریف کا ووٹر ہے، اس لیے آج مسلم لیگی ووٹر کی مایوسی قابلِ فہم ہے۔ مسلم لیگ کی ساری انتخابی مہم ’’پاکستان کو نواز دو‘‘ کے نعرے پر چلائی گئی۔اس میں کیا حیرت کہ پارٹی کا ووٹر سمجھ رہا ہے کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ آن لائن آرڈر کچھ اور تھا، ڈلیوری کسی اور مال کی ہوئی ہے۔ اپنے ایک کالم میں حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ مسلم لیگ کی حکومت بن رہی ہے، اور مسلم لیگی حیران ہیں، یہ واقعی ایک عجیب صورتِ حال ہے۔پاکستان کے سب سے کامیاب سیاستدان، تین مرتبہ وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف کی پارلیمانی سیاست کا غالباً آخری ایکٹ ان کے کئی نسلوں پر پھیلے ہوئے کروڑوں حامیوں کیلئے تشنگی کا باعث ہے۔ مسلم لیگ ن یقیناًآج سے ایک جماعت کے طور پر اپنے نئے سفر کا آغاز کر رہی ہے جس میں نواز شریف کا کردار ’تبرک‘ کے طورپر دیکھا جائے گا۔’’دس میں کیہ پیار وچوں کھٹیا‘‘ کا جواب یہ ہے کہ نواز شریف نے اپنی سیاسی جاں نشین مریم نواز کو وزیرِ اعلیٰ پنجاب بنا کران کے سیاسی مستقبل کو ایک جہت دے دی ہے، اگے تیرے بھاگ لچھیے۔
حماد غزنوی کے مطابق پاکستان میں الیکشن بس ایسے ہی ہوتے ہیں، اتنے ہی شفاف اور منصفانہ، کبھی انیس کبھی بیس۔ ہارنے والے فارم 45 اورفارم 47 کے تضادات کا رونا روتے رہتے ہیں، اور قاسم سوری جیسے اپنی مدتیں پوری کر کے پورے نظام کا مضحکہ اڑاتے ہوئے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اس مرتبہ اگر انتخابی عذرداریوں کے فیصلے جلدی ہو جائیں تو کیا ہی اچھا ہو، اور شہری حلقوں سے نتائج آنے میں تاخیر کے اسباب کا کوئی معقول جواز تو ضرور سامنے آنا چاہیے، کیوں کہ جیسی وضاحتیں کاکڑصاحب اپنی پریس کانفرنس میں دے رہے تھے وہ تو نسل انسانی کی توہین کے زمرے میں آتی ہیں۔ اب آ جائیے انتخابی نتائج کی طرف، جن سے دونوں بڑی جماعتیں، مسلم لیگ ن اور تحریکِ انصاف نا خوش سی نظر آتی ہیں، الیکشن سے ایک دن پہلے تک ہمارے پی ٹی آئی کے دوست خفگی سے کہہ رہے تھے کہ ایسے انتخابات کروانے اور قوم کے اربوں روپے ضائع کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے، اگر مقتدرہ فیصلہ کر ہی چکی ہے تو سیدھے سیدھے نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر سرفراز کر دیا جائے، الیکشن کی شام ابتدائی نتائج کے بعد پی ٹی آئی کے دوست احساسِ فتح سے بپھرے ہوئے تھے، اور الیکشن سے اگلے دن نواز شریف ہاف بوائلڈ وکٹری اسپیچ کر رہے تھے، حماد غزنوی کہتے ہیں کہ دانا ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ ایک معلق اسمبلی مقتدرہ کا خواب ہوا کرتی ہے، اور’ اللہ کی کرنی‘ دیکھیے کہ الیکشن کی ٹوپی میں سے معلق اسمبلی کا کبوتر ہی پھڑپھڑاتا ہوا برآمد ہوا ہے۔اس الیکشن نے ایک ہی سرپرائز دیا ہے، یعنی بغیر کسی آزادانہ انتخابی مہم کے، کسی ٹرانسپورٹ کے بندوبست کے بغیر، عمران کے چاہنے والے الیکشن کے روز خشوع و خضوع سے گھروں سے نکلے اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے رنگ بہ رنگے انتخابی نشانات ڈھونڈ کر ان پر اتنے ٹھپے لگائے کہ ان کی پارٹی الیکشن کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ گرفتاری کے بدنما منظر سے تین دنوں میں تین سزائوں تک، بہت کچھ ایسا ہوا جس نے عمران خان کو ایک مستند سیاسی مظلوم بنا دیا، سو عشاقِ عمران غضب ناک ہو کر بدلے کی آگ میں جلتے ہوئے گھروں سے نکلے اور ’کھمبوں‘ کو ووٹوں سے مالا مال کر دیا۔مثلاً، لاہور کی مثال لیجیے، لطیف کھوسہ سے وسیم قادر تک، حتیٰ کہ عالیہ حمزہ جنہیں ایک لاکھ ووٹ پڑا، سیاسی زبان میں کھمبے ہی تو ہیں۔جب کہ دوسری طرف ن لیگ کے ووٹر کو یہ یقین دلا دیا گیا تھا کہ ان کی پارٹی الیکشن جیت چکی ہے، اور شاید وہ بہ وجوہ کچھ شرمندہ سا بھی تھا، سو اس نے بھرپور ذمہ داری سے ووٹ ڈالنے کی مشقت ہی نہیں کی۔
حماد غزنوی لکھتے ہیں کہ اب صورتِ احوال کچھ یوں ہے کہ نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم اور مریم نواز کو پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ نامزد کر دیا ہے۔ اب نواز شریف خود کیا کریں گے؟ کیا ان کا کام پورا ہو گیا؟ بڑے دنوں سے ہم سنتے تھے کہ ’’لاڈلا‘‘ نواز شریف بس الیکشن تک ہی لاڈلا ہے، انکے نام پر ووٹ لیا جائے گا اور بس، کیوں کہ پی ڈی ایم حکومت کے چہرے تو اپنے منہ سے اقرار کرتے تھے کہ ہم نے ریاست پر اپنی سیاست قربان کر دی ہے۔ یہ خبریں بھی تواتر سے آ رہی تھیں کہ نواز شریف ہائی برڈ نظام میں بہ طور جونیئر پارٹنرکے کام نہیں کر سکیں گے، اور اس کام کے لیے شہباز ہی مقتدرہ کی اولین ترجیح ہیں، اور پھر ’اللہ کی کرنی‘ یہ ہوئی کہ ایک معلق قومی اسمبلی وجود میں آ گئی۔ویسے یہ سوال اپنی جگہ کھڑا ہے کہ وہ لوگ جو مہینوں سے کہہ رہے تھے فیصلہ ہو چکا ہے کہ نواز شریف کو واپس آنے دیا جائیگا، ان پر الٹے سیدھے کیس ختم کر دیے جائیں گے، ان کو الیکشن میں اپنی پارٹی کی قیادت کرنے دی جائے گی، مگر وزیرِ اعظم شہباز شریف ہی ہوں گے، وہ کس بنا پر یہ پیش گوئیاں کر رہے تھے؟
