نواز شریف کی حکومت ختم کرنے والے جنرل محمود تبلیغی کیوں ہوگئے؟

سابق وزیراعظم نواز شریف نے 1999 کی فوجی بغاوت کا قصہ بیان کرتے ہوئے آئی ایس آئی کے جس سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کا غیر آئینی کردار بیان کرتے ہوئے تنقید کی ہے وہ اب تبلیغی جماعت کا حصہ بن چکے ہیں ہیں۔
اس سے پہلے ایک اور سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر بھی تبلیغی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مل کر نواز شریف کی دوسری حکومت ختم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے والے لمبی مونچھوں کے حامل جنرل محمود احمد اب اپنی مونچھیں صاف کروا کر تبلیغی جماعت میں شامل ہونے کے بعد لمبی داڑھی رکھ چکے ہیں اور ایک فعال تبلیغی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن میں میں ایک تقریر کے دوران بتایا تھا کہ 1999 میں جب ان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تو جنرل محمود احمد بارہ مسلح فوجیوں کے ہمراہ زبردستی وزیراعظم ہاؤس میں ان کے بیڈروم میں داخل ہوگئے اور انہیں گرفتار کرلیا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس دوران جب لاہور سے ان کی اہلیہ کلثوم نواز کا فون آ گیا تو جنرل محمود نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی کہ فون کی تاریں کاٹ دو اور تمام رابطے منقطع کر دو۔
1999 کی فوجی بغاوت میں جنرل مشرف کا دایاں بازو سمجھے جانے والے لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور وزیراعظم نواز شریف کو گرفتار کرنے کا فریضہ سر انجام دیا تھا۔
بعد ازاں نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے پاکستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی دھمکی بھی جنرل محمود احمد نے پرویز مشرف تک پہنچائی تھی جس کے بعد انہوں نے اپنا اقتدار بچانے کے لیے امریکہ کا اتحادی بننے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس حوالے سے جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں بھی تفصیل بیان کی ہے۔ اپنی کتاب میں جنرل پرویز نے بتایا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد واشنگٹن میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود احمد اور امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج کے درمیان جو ملاقات ہوئی تھی اس میں رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان پر بمباری کی دھمکی دی تھی اور اسی قسم کی باتیں اُن سے کولن پاول نے بھی کی تھیں۔
مشرف کے مطابق رچرڈ آرمٹیج نے جنرل محمود کو کہا تھا کہ اگر امریکہ کا ساتھ نہ دیا گیا تو پاکستان کو ’اسٹون ایج‘ یا پتھر کےزمانے کی طرف دھکیل دیا جائے گا‘۔
12 اکتوبر کو مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ کیسے الٹا؟
تاہم 1999 میں امریکہ کا اتحادی بننے کا فیصلہ کرنے والے جنرل مشرف آئین شکنی کے الزام میں سزائے موت کا حقدار قرار دیے جانے کے بعد اب مفرور ہوکر دبئی میں پناہ گزین ہیں جب کہ جنرل محمود احمد تبلیغی جماعت کا حصہ بن چکے ہیں۔
پاکستان میں ویسے تو تبلیغی جماعت سے ہر شعبہ ہائے زندگی کے افراد منسلک ہیں لیکن ان میں فوج کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران، تعلیمی اداروں کے پروفیسرز، ڈاکٹرز اور کئی بیوروکریٹ بھی باقاعدہ سے منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ فنکار اور مختلف کھیلوں کے قومی اسٹارز بھی ان کے اجتماعات میں شرکت کرتے رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ وقت صرف کرنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بعض اہم سابق کھلاڑی تو مستقل طورپر تبلیغی جماعت کے ساتھ منسلک ہوچکے ہیں جن میں سعید انور، محمد یوسف، انضمام الحق اور ثقلین مشتاق قابل ذکر ہیں۔
اس تحریک میں نوجوان طبقہ بھی کافی فعال نظر آتا ہے۔ مختلف یونیورسٹیوں میں یہ کام بڑے زور و شور سے جاری ہے۔
پاکستان آرمی سے ریٹائرڈ ہونے والے کئی سابق جرنیل بھی تبلیغی جماعت کا حصہ بن چکے ہیں جن میں سر فہرست سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل حمید گل تھے جو ہر سال باقاعدگی سے رائے ونڈ لاہور کے تبلیغی اجتماع میں شریک ہوتے تھے۔
اس کے علاوہ سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹننٹ جنرل محمود احمد اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر بھی تبلیغی جماعت میں شامل ہو چکے ہیں۔ وہ ہر برس تبلیغی جماعت کے سالانہ اجتماع میں شرکت کرنے کے علاوہ جماعت کے اندر ایک فعال کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
